وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي أَيُّوبَ الْهَجَرِيِّ ، جُوَيْرِيَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَالَ لَهَا: " أَصُمْتِ أَمْسِ؟" , قَالَتْ: لَا، قَالَ:" تَصُومِينَ غَدًا؟" , قَالَتْ: لَا، قَالَ:" فَأَفْطِرِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن جبکہ وہ روزے سے تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ آئندہ کل کا روزہ رکھو گی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تم اپنا روزہ ختم کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26755]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1986
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1986