بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 45
صفحہ 1 از 3
حدیث نمبر: 26423 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةُ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ وَكَانَتْ سَاعَةٌ لَا يَدْخُلُ عَلَيْهِ فِيهَا أَحَدٌ , أَنَّهُ كَانَ: " يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُنَادِي الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، قَالَ أَيُّوبُ: أُرَاهُ قَالَ: خَفِيفَتَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت جب کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس وقت کوئی نہیں آتا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے تھے اور منادی نماز کے لئے اذان دینے لگتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26423]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1173، م: 723
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1173، م: 723
حدیث نمبر: 26424 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا، وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ: " إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سرکے بالوں کو جما لیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26424]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1697، م: 1229
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1697، م: 1229
حدیث نمبر: 26425 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، وَعَفَّانُ ، وَيُونُسُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَيُّوبَ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةُ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , وَعَفَّانُ , وَيُونُسُ , قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ , وَعُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ رَأَى ابْنَ صَائِدٍ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ، فَسَبَّهُ ابْنُ عُمَرَ، وَوَقَعَ فِيهِ، فَانْتَفَخَ حَتَّى سَدَّ الطَّرِيقَ، فَضَرَبَهُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ حَتَّى كَسَّرَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ : مَا شَأْنُكَ وَشَأْنُهُ؟ مَا يُولِعُكَ بِهِ؟ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّمَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا" , قَالَ عَفَّانُ:" عِنْدَ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا" , وَقَالَ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ: مَا تَوَالُعُكَ بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے مدینہ کی کسی گلی میں ایک مرتبہ ابن صائد کو دیکھا تو اسے سخت سست کہا اور اس کے متعلق تلخ جملے کہے، جس پر وہ پھول گیا کہ راستہ بند ہوگیا حضرت ابن عمر نے اسے اپنے پاس موجود لاٹھی سے مارا حتی کہ وہ ٹوٹ گئی حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام ہے؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکرخروج کرے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26425]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2932
الحكم: إسناده صحيح، م: 2932
حدیث نمبر: 26426 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ، فَأَمَّا مَرَّةً فَلَقِيتُهُ وَمَعَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ: نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ لَتَصْدُقُنِّي؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: أَتُحَدِّثُونِي أَنَّهُ هُوَ؟ قَالُوا: لَا، قُلْتُ: كَذَبْتُمْ وَاللَّهِ، لَقَدْ حَدَّثَنِي بَعْضُكُمْ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَقَلُّكُمْ مَالًا وَوَلَدًا , أَنَّهُ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَكُمْ مَالًا وَوَلَدًا، وَهُوَ الْيَوْمَ كَذَلِكَ، قَالَ: فَحَدَّثَنَا ثُمَّ فَارَقْتُهُ، ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى وَقَدْ تَغَيَّرَتْ عَيْنُهُ، فَقُلْتُ: مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى؟ قَالَ: لَا أَدْرِي , قُلْتُ: مَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ؟ فَقَالَ: مَا تُرِيدُ مِنِّي يَا ابْنَ عُمَرَ؟ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَخْلُقَهُ مِنْ عَصَاكَ هَذِهِ خَلَقَهُ , وَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُهُ قَطُّ، فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِي حَتَّى تَكَسَّرَتْ، وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ , قال: فَدَخَلَ عَلَى أُخْتِهِ حَفْصَةَ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتْ: مَا تُرِيدُ مِنْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ , أَنَّهُ قَالَ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں ابن صائد سے دو مرتبہ ملا ہوں پہلی مرتبہ جب میں اس سے ملا تو اس کے ساتھ اس کے کچھ ساتھی تھے میں نے ان میں سے کسی سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ اگر میں تم سے کوئی سوال کروں تو کیا مجھے اس کا صحیح جواب دو گے؟ انہوں نے کہا جی ہاں میں نے کہا کیا تم اسے وہی دجال سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں میں نے کہا تم غلط بیانی سے کام لے رہے ہو واللہ تم میں سے کسی نے مجھے اس وقت بتایا تھا جب اس کے پاس مال و اولاد کی کمی تھی کہ یہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک مال واولاد میں تم سب سے زیادہ نہ ہوجائے اور آج ایسا ہی ہے پھر میں اس سے جدا ہوگیا۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر میری اس سے ملاقات ہوئی تو اس کی آنکھ خراب ہوگئی تھی میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری یہ آنکھ کب سے خراب ہوئی؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں میں نے کہا کہ تمہارے سر میں ہے اور تم ہی کو پتہ نہیں ہے اس نے کہا اے ابن عمر آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ اگر اللہ چاہے تو آپ کی اس لاٹھی میں بھی آنکھ پیدا کرسکتا ہے اور گدھے جیسی آواز میں اتنی زور سے چیخا کہ اس سے پہلے میں نے کبھی نہ سنا تھا، میرے ساتھی یہ سمجھے کہ میں نے اسے اپنے پاس موجود لاٹھی سے مارا حتی کہ وہ ٹوٹ گئی حالانکہ واللہ مجھے کچھ خبر نہ تھی، حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام ہے تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آ کر خروج کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26426]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2932
الحكم: إسناده صحيح، م: 2932
حدیث نمبر: 26427 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَخْبَرْتُهَا، قَالَتْ: مَا أَرَدْتَ إِلَيْهِ؟ أَمَا عَلِمْتَ , أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ غَضْبَةٌ يَغْضَبُهَا؟" .
حکم دارالسلام
حديث صحيح، إسناده حسن
الحكم: حديث صحيح، إسناده حسن
حدیث نمبر: 26428 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، ابْنِ عَوْنٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ، فَأَمَّا مَرَّةً فَلَقِيتُهُ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ: وَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُهُ، قَالَ: فَزَعَمَ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِي حَتَّى انْكَسَرَتْ، وَأَمَّا أَنَا، فَلَمْ أَشْعُرْ بِذَلِكَ، فَدَخَلْتُ عَلَى أُخْتِي حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ، فَقَالَتْ: وَمَا أَرَدْتَ إِلَيْهِ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ لِغَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے دو مرتبہ ابن صائد کو دیکھا پھر راوی نے پوری حیث ذکر کی اور کہا حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکرخروج کردے گا۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے دو مرتبہ ابن صائد کو دیکھا پھر راوی نے پوری حیث ذکر کی اور کہا حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکر خروج کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26428]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، إسناده حسن
الحكم: حديث صحيح، إسناده حسن
حدیث نمبر: 26429 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا: " سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالصُّبْحِ، وَبَدَا الصُّبْحُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت جب کہ مؤذن اذان دے دیتا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کھڑی ہونے سے پہلے مختصر دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26429]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 618، م: 723
الحكم: إسناده صحيح، خ: 618، م: 723
حدیث نمبر: 26430 مسند احمد
عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ يَعْنِي الْجَزَرِيَّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ فِي سَنَةِ ثَمَانٍ وَمِائَتَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ يَعْنِي الْجَزَرِيَّ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا: " أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَحَرَّمَ الطَّعَامَ، وَكَانَ لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت جب کہ مؤذن اذان دے دیتا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26430]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 618، م: 723، إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالجبار بن محمد
الحكم: حديث صحيح، خ: 618، م: 723، إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالجبار بن محمد
حدیث نمبر: 26431 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ إِذَا بَدَا الْفَجْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26431]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 618، م: 723
الحكم: إسناده صحيح، خ: 618، م: 723
حدیث نمبر: 26432 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ لَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سرکے بالوں کو جمالیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26432]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1566، م: 1229
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1566، م: 1229
حدیث نمبر: 26433 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، نَافِعًا ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ , لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف مختصر سی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26433]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 618، م: 723
الحكم: إسناده صحيح، خ: 618، م: 723
حدیث نمبر: 26434 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي الطَّالَقَانِيَّ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، نَافِعٌ ، ابْنَ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي الطَّالَقَانِيَّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ حَفْصَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت اذان اور اقامت کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26434]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 618، م: 723
الحكم: إسناده صحيح، خ: 618، م: 723
حدیث نمبر: 26435 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ أَخْبَرَتْهُ , قَالَتْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ: " أَحِلَّ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ" , وقَالَ كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے حجۃ الوداع میں مجھے اپنے حج کا احرام کھول دینے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26435]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1697، م: 1229
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1697، م: 1229
حدیث نمبر: 26436 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ ، نَافِعٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَفْصَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ , أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَتْ لَهُ فُلَانَةُ: فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحِلَّ؟ فَقَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَسْتُ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو احرام کھول لینے کا حکم دیا تو کسی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سرکے بالوں کو جمالیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26436]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4398، م: 1229
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4398، م: 1229
حدیث نمبر: 26437 مسند احمد
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ ، قَالَتْ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ بِعُمْرَةٍ، قُلْنَ: فَمَا يَمْنَعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَحِلَّ مَعَنَا؟ قَالَ: " إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ وَلَبَّدْتُ، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي" , وَقَالَ يَعْقُوبُ فِي كِتَابِ الْحَجِّ:" أَنْحَرَ هَدِيَّتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو احرام کھول لینے کا حکم دیا تو کسی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سر کے بالوں کو جمالیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26437]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1566، م: 1229
الحكم: حديث صحيح، خ: 1566، م: 1229
حدیث نمبر: 26438 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ فِي بَيْتِي يُخَفِّفُهُمَا جِدًّا" , قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُخَفِّفُهُمَا كَذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت میرے گھر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26438]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 618، م: 723، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 618، م: 723، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26439 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عُمَرَ ، النِّسْوَةِ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ، فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي إِحْدَى النِّسْوَةِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْتُلُ الْحُدَيَّا، وَالْغُرَابَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْفَأْرَةَ، وَالْعَقْرَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے سوال پوچھا یا رسول اللہ احرام باندھنے کے بعد ہم کون سے جانور قتل کرسکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26439]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1828، م: 1200
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1828، م: 1200
حدیث نمبر: 26440 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، أُمِّ مُبَشِّرٍ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَلَيْسَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71؟ قَالَ: فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ: ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا سورة مريم آية 72 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ غزوہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونیوالا کوئی آدمی جہنم میں داخل نہ ہوگا میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتا کہ تم میں سے ہر شخص اس میں وارد ہوگا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا پھر ہم متقی لوگوں کو نجات دیدیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا رہنے کے لئے چھوڑ دیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26440]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الأعمش، وقد اختلف فيه على الأعمش
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الأعمش، وقد اختلف فيه على الأعمش
حدیث نمبر: 26441 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهَا قَالَتْ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا قَطُّ، حَتَّى كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ، أَوْ بِعَامَيْنِ، فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا، وَيَقْرَأُ السُّورَةَ فَيُرَتِّلُهَا، حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن اپنے مرض الوفات سے ایک دو سال قبل آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے اور اس میں جس سورت کی تلاوت فرماتے تھے اسے خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے حتی کہ وہ خوب طویل ہوجاتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26441]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 733
الحكم: إسناده صحيح، م: 733
حدیث نمبر: 26442 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا قَطُّ، حَتَّى كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَيَقْرَأُ السُّورَةَ فَيُرَتِّلُهَا، حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن اپنے مرض الوفات سے ایک دو سال قبل آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے اور اس میں جس سورت کی تلاوت فرماتے تھے اسے خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے حتی کہ وہ خوب طویل ہوجاتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26442]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 733
الحكم: إسناده صحيح، م: 733