عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، ابْنِ عَوْنٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ، فَأَمَّا مَرَّةً فَلَقِيتُهُ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ: وَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُهُ، قَالَ: فَزَعَمَ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِي حَتَّى انْكَسَرَتْ، وَأَمَّا أَنَا، فَلَمْ أَشْعُرْ بِذَلِكَ، فَدَخَلْتُ عَلَى أُخْتِي حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ، فَقَالَتْ: وَمَا أَرَدْتَ إِلَيْهِ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ لِغَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے دو مرتبہ ابن صائد کو دیکھا پھر راوی نے پوری حیث ذکر کی اور کہا حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکرخروج کردے گا۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے دو مرتبہ ابن صائد کو دیکھا پھر راوی نے پوری حیث ذکر کی اور کہا حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکر خروج کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26428]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، إسناده حسن
الحكم: حديث صحيح، إسناده حسن