بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 37
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 23723 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، أَبِي ، أَبِي إِسْحَاقَ ، آلِ أَبِي قُرَّةَ ، سَلْمَانَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ آلِ أَبِي قُرَّةَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ مَوْلَاتِي فِي ذَلِكَ، فَطَيَّبَتْ لِي فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ، فَاشْتَرَيْتُ ذَلِكَ الطَّعَامَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس سلسلے میں میں اپنی مالکن سے اجازت لیتا تھا وہ دلی خوشی کے ساتھ مجھے اجازت دے دیتی میں لکڑیاں کاٹتا انہیں بیچتا اور وہ کھانا خریدا کرتا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23723]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 23724 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ ، وَعَفَّانُ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي شُرَيْحٍ ، أَبِي مُسْلِمٍ ، سَلْمَانُ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، فَرَأَى رَجُلًا قَدْ أَحْدَثَ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَنْزِعَ خُفَّيْهِ لِلْوُضُوءِ، فَأَمَرَهُ سَلْمَانُ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى عِمَامَتِهِ وَيَمْسَحَ بِنَاصِيَتِهِ، وَقَالَ سَلْمَانُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى خِمَارِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومسلم (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی کو حدث لاحق ہوا اور وہ اپنے موزے اتارنا چاہتا ہے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ موزوں اور عمامہ پر مسح کرے اور اپنی پیشانی کے بقدر مسح کرے اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے موزوں اور اوڑھنی (عمامے) پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23724]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى شريح، وأبي مسلم
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى شريح، وأبي مسلم
حدیث نمبر: 23725 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ ، سَلْمَانَ الْخَيْرِ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَغْتَسِلُ الرَّجُلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَيَتَطَهَّرُ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ، ثُمَّ يَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ، أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ، ثُمَّ يَرُوحُ، فَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى مَا كُتِبَ لَهُ، ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الْإِمَامُ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے حسب استطاعت پاکیزگی حاصل کرے، تیل لگائے اپنے گھر کی خوشبو لگائے پھر مسجد کی طرف روانہ ہو تو کسی دو آدمیوں کے درمیان تفرق پیدا نہ کرے حسب استطاعت نماز پڑھے جب امام گفتگو کر رہا ہو تو خاموشی اختیار کرے تو اگلے جمعہ تک اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23725]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 883
الحكم: إسناده صحيح، خ: 883
حدیث نمبر: 23726 مسند احمد
الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، إِسْرَائِيلُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، سَلْمَانَ
حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: دَعُونِي أَدْعُوهُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُمْ، فَقَالَ: " إِنَّمَا كُنْتُ رَجُلًا مِنْكُمْ، فَهَدَانِي اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَسْلَمْتُمْ فَلَكُمْ مَا لَنَا وَعَلَيْكُمْ مَا عَلَيْنَا، وَإِنْ أَنْتُمْ أَبَيْتُمْ، فَأَدُّوا الْجِزْيَةَ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ، فَإِنْ أَبَيْتُمْ نَابَذْنَاكُمْ عَلَى سَوَاءٍ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ" ، يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الرَّابِعُ غَدَا النَّاسُ إِلَيْهَا فَفَتَحُوهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ وہ ایک شہر کے قریب پہنچے تو اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو تاکہ میں ان کے سامنے اسی طرح دعوت پیش کر دوں جیسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دعوت دیتے ہوئے دیکھا ہے پھر انہوں نے اہل شہر سے فرمایا کہ میں تم ہی میں کا ایک فرد تھا اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دے دی اگر تم بھی اسلام قبول کرلو تو تمہارے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے ہیں اگر تم اس سے انکار کرتے ہو جز یہ ادا کرو اس حال میں تم ذلیل ہوگے اگر تم اس سے بھی انکار کرتے ہو تو ہم تمہیں برابر کا جواب دیں گے بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا " تین دن تک وہ اسی طرح کرتے رہے پھر جب چوتھا دن ہوا تو وہ لوگوں کو لے کر اس شہر کی طرف بڑھے اور اسے فتح کرلیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23726]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه بين أبى البختري وبين سلمان، وعطاء بن السائب مختلط
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه بين أبى البختري وبين سلمان، وعطاء بن السائب مختلط
حدیث نمبر: 23727 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، ابْنِ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ ، سَلْمَانَ الْخَيْرِ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ، وَهُوَ مُرَابِطٌ عَلَى السَّاحِلِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَابَطَ يَوْمًا أَوْ لَيْلَةً كَانَ لَهُ كَصِيَامِ شَهْرٍ لِلْقَاعِدِ، وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَجْرَى اللَّهُ لَهُ أَجْرَهُ وَالَّذِي كَانَ يَعْمَلُ أَجْرَ صَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَنَفَقَتِهِ، وَوُقِيَ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ، وَأَمِنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے شرحبیل بن سمط پر محافظ مقرر تھے کے سامنے بیان کرتے ہوئے، مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک دن یا ایک رات کے لئے سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے یہ ایسے ہے جیسے کوئی اپنی باری کے انتظار میں بیٹھ کر ایک مہینے تک روزے رکھے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہوجائے اللہ اس کا اجر جاری رکھتا ہے اور ان اعمال کا اجر بھی جو وہ کرتا تھا مثلاً نماز، روزہ اور انفاق فی سبیل اللہ اور اسے قبر کی آزمائش سے محفوظ رکھا جائے گا اور وہ بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23727]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 23728 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إِسْحَاقَ ، زَائِدَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، جَمِيلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ ، سَلْمَانَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَصِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، إِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ أَجْرُ الْمُرَابِطِ حَتَّى يُبْعَثَ، وَيُؤْمَنَ الْفَتَّانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک دن یا ایک رات کے لئے سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے یہ ایسے ہے جیسے کوئی اپنی باری کے انتظار میں بیٹھ کر ایک مہینے تک روزے رکھے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہوجائے اللہ اس کا اجر جاری رکھتا ہے اور ان اعمال کا اجر بھی جو وہ کرتا تھا مثلاً نماز، روزہ اور انفاق فی سبیل اللہ اور اسے قبر کی آزمائش سے محفوظ رکھا جائے گا اور وہ بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23728]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة جيمل ابن أبى ميمونة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة جيمل ابن أبى ميمونة
حدیث نمبر: 23729 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مُغِيرَةَ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، قَرْثَعٍ الضَّبِّيِّ ، سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ قَرْثَعٍ الضَّبِّيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟ قلت: الله ورسوله أعلم , ثم قال:" أتدري ما يوم الجمعة؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: لَا أَدْرِي زَعَمَ سَأَلَهُ الرَّابِعَةَ أَمْ لَا، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ الْيَوْمُ الَّذِي جُمِعَ فِيهِ أَبُوهُ أَوْ أَبُوكُمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ لَا يَتَطَهَّرُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ ثُمَّ يَمْشِي إِلَى، الْمَسْجِدِ ثُمَّ يُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ الْإِمَامُ صَلَاتَهُ إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي بَعْدَهَا مَا اجْتُنِبَتْ الْمَقْتَلَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے حسب استطاعت پاکیزگی حاصل کرے، تیل لگائے اپنے گھر کی خوشبو لگائے پھر مسجد کی طرف روانہ ہو تو کسی دو آدمیوں کے درمیان تفرق پیدا نہ کرے حسب استطاعت نماز پڑھے جب امام گفتگو کر رہا ہو تو خاموشی اختیار کرے تو اگلے جمعہ تک اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، جب تک کہ لڑائی سے بچتار ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23729]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل قرثع الضبي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل قرثع الضبي
حدیث نمبر: 23730 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، سَلْمَانَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى أَنْ أَغْرِسَ لَهُمْ خَمْسَ مِائَةِ فَسِيلَةٍ، فَإِذَا عَلِقَتْ فَأَنَا حُرٌّ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: " اغْرِسْ وَاشْتَرِطْ لَهُمْ، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَغْرِسَ فَآذِنِّي" قَالَ: فَآذَنْتُهُ، قَالَ: فَجَاءَ، فَجَعَلَ يَغْرِسُ بِيَدِهِ إِلَّا وَاحِدَةً غَرَسْتُهَا بِيَدَيَّ، فَعَلِقْنَ إِلَّا الْوَاحِدَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے آقا سے اس شرط پر مکاتبت منظور کرلی کہ میں ان کے لئے کھجور کے پانچ سو پودے لگاؤں گا جب ان پر کھجور آجائے گی تو میں آزاد ہوجاؤں گا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ شرط ذکر کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یہ شرط قبول کرلو اور جب پودے لگانے کا ارادہ ہو تو مجھے مطلع کرنا چناچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتادیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے پودے لگانے لگے سوائے ایک پودے کے جو میں نے اپنے ہاتھ سے لگایا تھا اور اس ایک پودے کے علاوہ سب پودے پھل لے آئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23730]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23731 مسند احمد
شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ ، أَبِيهِ ، سَلْمَانَ
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: ذَكَرَهُ قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا سَلْمَانُ، " لَا تُبْغِضْنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ أُبْغِضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللَّهُ؟! قَالَ:" تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے سلمان! مجھ سے بغض نہ رکھیں اور نہ تم اپنے دین سے جدا ہوجاؤ گے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں آپ سے بغض کیسے رکھ سکتا ہوں جبکہ اللہ نے ہمیں آپ کے ذریعے ہدایت عطاء فرمائی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم عرب سے نفرت کرو گے تو مجھ سے نفرت کرنے والے ہوگے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23731]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الضعف قابوس بن أبى ظبيان، ولانقطاعه بين أبى ظبيان وبين سلمان الفارسي
الحكم: إسناده ضعيف الضعف قابوس بن أبى ظبيان، ولانقطاعه بين أبى ظبيان وبين سلمان الفارسي
حدیث نمبر: 23732 مسند احمد
عَفَّانُ ، قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، أَبُو هَاشِمٍ ، زَاذَانَ ، سَلْمَانَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ: بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ بَعْدَهُ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ، فَقَالَ: " بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ کھانے کی برکت اس سے پہلے ہاتھ دھونا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات ذکر کی اور تورات میں پڑھی ہوئی بات کا حوالہ دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کھانے کی برکت اس سے پہلے ہاتھ دھونا بھی ہے اور اس کے بعد ہاتھ دھونا بھی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23732]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل قيس بن الربيع
الحكم: إسناده ضعيف من أجل قيس بن الربيع
حدیث نمبر: 23733 مسند احمد
عَفَّانُ ، قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عُثْمَانُ بْنُ شَابُورَ ، شَقِيقٍ ، سَلْمَانَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ شَابُورَ رَجُلٌ مَنْ بَنِي أَسَدٍ، عَنْ شَقِيقٍ أَوْ نَحْوِهِ شَكَّ قَيْسٌ، أَنَّ سَلْمَانَ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَدَعَا لَهُ بِمَا كَانَ عِنْدَهُ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَانَا أَوْ لَوْلَا أَنَّا نُهِينَا أَنْ يَتَكَلَّفَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ"، لَتَكَلَّفْنَا لَكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شقیق کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس جو موجود تھا وہی اس کے سامنے پیش کردیا اور فرمایا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں تکلف برتنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں تمہارے لئے تکلف کرتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23733]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين بمجموع طرقه، وهذا إسناد ضعيف الجهالة عثمان بن سابور، وقيس بن الربيع فيه ضعف
الحكم: حديث محتمل للتحسين بمجموع طرقه، وهذا إسناد ضعيف الجهالة عثمان بن سابور، وقيس بن الربيع فيه ضعف
حدیث نمبر: 23734 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، سَلْمَانَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، أَنَّ سَلْمَانَ حَاصَرَ قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ، فقال لأصحابه: دَعُوني حتى أَفعلَ ما رأيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ،" فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي امْرُؤٌ مِنْكُمْ وَإِنَّ اللَّهَ رَزَقَنِي الْإِسْلَامَ، وَقَدْ تَرَوْنَ طَاعَةَ الْعَرَبِ، فَإِنْ أَنْتُمْ أَسْلَمْتُمْ وَهَاجَرْتُمْ إِلَيْنَا، فَأَنْتُمْ بِمَنْزِلَتِنَا، يَجْرِي عَلَيْكُمْ مَا يَجْرِي عَلَيْنَا، وَإِنْ أَنْتُمْ أَسْلَمْتُمْ وَأَقَمْتُمْ فِي دِيَارِكُمْ، فَأَنْتُمْ بِمَنْزِلَةِ الْأَعْرَابِ، يَجْرِي لَكُمْ مَا يَجْرِي لَهُمْ، وَيَجْرِي عَلَيْكُمْ مَا يَجْرِي عَلَيْهِمْ، فَإِنْ أَبَيْتُمْ وَأَقْرَرْتُمْ بِالْجِزْيَةِ، فَلَكُمْ مَا لِأَهْلِ الْجِزْيَةِ، وَعَلَيْكُمْ مَا عَلَى أَهْلِ الْجِزْيَةِ" ، عَرَضَ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: انْهَدُوا إِلَيْهِمْ فَفَتَحَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ وہ ایک شہر کے قریب پہنچے تو اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو تاکہ میں ان کے سامنے اسی طرح دعوت پیش کردوں جیسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دعوت دیتے ہوئے دیکھا ہے پھر انہوں نے اہل شہر سے فرمایا کہ میں تم ہی میں کا ایک فرد تھا اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دے دی اگر تم بھی اسلام قبول کرلو تو تمہارے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے ہیں اگر تم اس سے انکار کرتے ہوجزیہ ادا کرو اس حال میں تم ذلیل ہوگے اگر تم اس سے بھی انکار کرتے ہو تو ہم تمہیں برابرکا جواب دیں گے بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا " تین دن تک وہ اسی طرح کرتے رہے پھر جب چوتھا دن ہوا تو وہ لوگوں کو لے کر اس شہر کی طرف بڑھے اور اسے فتح کرلیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23734]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه بين أبى البختري وبين سلمان، وعطاء بن السائب مختلط
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه بين أبى البختري وبين سلمان، وعطاء بن السائب مختلط
حدیث نمبر: 23735 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، ابْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا ، رَجُلٍ ، سَلْمَانَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ سَلْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَفْضَلُ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، صَائِمًا لَا يُفْطِرُ، وَقَائِمًا لَا يَفْتُرُ، وَإِنْ مَاتَ مُرَابِطًا جَرَى عَلَيْهِ كَصَالِحِ عَمَلِهِ حَتَّى يُبْعَثَ، وَوُقِيَ عَذَابَ الْقَبْرِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک دن یا رات کے لئے سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے یہ ایک مہینے مسلسل صیام و قیام سے افضل ہے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہوجائے اللہ اس کا اجر جاری رکھتا ہے یہاں تک کہ دوبارہ جی اٹھے اور وہ قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23735]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن سلمان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن سلمان
حدیث نمبر: 23736 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، ابْنُ ثَوْبَانَ ، مَنْ ، خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ ، شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، سَلْمَانَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ سَلْمَانَ مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23736]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن خالد بن معدان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن خالد بن معدان
حدیث نمبر: 23737 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حَدِيثَهُ مِنْ فِيهِ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا فَارِسِيًّا مِنْ أَهْلِ أَصْبَهَانَ مِنْ أَهْلِ قَرْيَةٍ مِنْهَا، يُقَالُ لَهَا: جَيٌّ، وَكَانَ أَبِي دِهْقَانَ قَرْيَتِهِ، وَكُنْتُ أَحَبَّ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حُبُّهُ إِيَّايَ حَتَّى حَبَسَنِي فِي بَيْتِهِ أَيْ مُلَازِمَ النَّارِ كَمَا تُحْبَسُ الْجَارِيَةُ، وَأَجْهَدْتُ فِي الْمَجُوسِيَّةِ حَتَّى كُنْتُ قَطَنَ النَّارِ الَّذِي يُوقِدُهَا لَا يَتْرُكُهَا تَخْبُو سَاعَةً، قَالَ: وَكَانَتْ لِأَبِي ضَيْعَةٌ عَظِيمَةٌ، قَالَ: فَشُغِلَ فِي بُنْيَانٍ لَهُ يَوْمًا، فَقَالَ لِي: يَا بُنَيَّ، إِنِّي قَدْ شُغِلْتُ فِي بُنْيَانٍ هَذَا الْيَوْمَ عَنْ ضَيْعَتِي، فَاذْهَبْ فَاطَّلِعْهَا وَأَمَرَنِي فِيهَا بِبَعْضِ مَا يُرِيدُ، فَخَرَجْتُ أُرِيدُ ضَيْعَتَهُ، فَمَرَرْتُ بِكَنِيسَةٍ مِنْ كَنَائِسِ النَّصَارَى، فَسَمِعْتُ أَصْوَاتَهُمْ فِيهَا وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَكُنْتُ لَا أَدْرِي مَا أَمْرُ النَّاسِ لِحَبْسِ أَبِي إِيَّايَ فِي بَيْتِهِ، فَلَمَّا مَرَرْتُ بِهِمْ، وَسَمِعْتُ أَصْوَاتَهُمْ، دَخَلْتُ عَلَيْهِمْ أَنْظُرُ مَا يَصْنَعُونَ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبَنِي صَلَاتُهُمْ وَرَغِبْتُ فِي أَمْرِهِمْ، وَقُلْتُ: هَذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدِّينِ الَّذِي نَحْنُ عَلَيْهِ، فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتُهُمْ حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَتَرَكْتُ ضَيْعَةَ أَبِي وَلَمْ آتِهَا، فَقُلْتُ لَهُمْ: أَيْنَ أَصْلُ هَذَا الدِّينِ؟ قَالُوا: بِالشَّامِ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَبِي، وَقَدْ بَعَثَ فِي طَلَبِي وَشَغَلْتُهُ عَنْ عَمَلِهِ كُلِّهِ، قَالَ: فَلَمَّا جِئْتُهُ، قَالَ: أَيْ بُنَيَّ، أَيْنَ كُنْتَ؟ أَلَمْ أَكُنْ عَهِدْتُ إِلَيْكَ مَا عَهِدْتُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَتِ، مَرَرْتُ بِنَاسٍ يُصَلُّونَ فِي كَنِيسَةٍ لَهُمْ فَأَعْجَبَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ دِينِهِمْ، فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ عِنْدَهُمْ حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ، قَالَ: أَيْ بُنَيَّ، لَيْسَ فِي ذَلِكَ الدِّينِ خَيْرٌ، دِينُكَ وَدِينُ آبَائِكَ خَيْرٌ مِنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: كَلَّا وَاللَّهِ، إِنَّهُ خَيْرٌ مِنْ دِينِنَا، قَالَ: فَخَافَنِي، فَجَعَلَ فِي رِجْلَيَّ قَيْدًا، ثُمَّ حَبَسَنِي فِي بَيْتِهِ، قَالَ: وَبَعَثَتْ إِلَيَّ النَّصَارَى، فَقُلْتُ لَهُمْ: إِذَا قَدِمَ عَلَيْكُمْ رَكْبٌ مِنَ الشَّامِ تُجَّارٌ مِنْ النَّصَارَى فَأَخْبِرُونِي بِهِمْ، قَالَ: فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ رَكْبٌ مِنَ الشَّامِ تُجَّارٌ مِنْ النَّصَارَى، قَالَ: فَأَخْبَرُونِي بِهِمْ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُمْ: إِذَا قَضَوْا حَوَائِجَهُمْ وَأَرَادُوا الرَّجْعَةَ إِلَى بِلَادِهِمْ فَآذِنُونِي بِهِمْ، قَالَ: َلَمَّا أَرَادُوا الرَّجْعَةَ إِلَى بِلَادِهِمْ أَخْبَرُونِي بِهِمْ، فَأَلْقَيْتُ الْحَدِيدَ مِنْ رِجْلَيَّ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ، فَلَمَّا قَدِمْتُهَا، قُلْتُ: مَنْ أَفْضَلُ أَهْلِ هَذَا الدِّينِ، قَالُوا: الْأَسْقُفُّ فِي الْكَنِيسَةِ، قَالَ: فَجِئْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ رَغِبْتُ فِي هَذَا الدِّينِ، وَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ أَخْدُمُكَ فِي كَنِيسَتِكَ، وَأَتَعَلَّمُ مِنْكَ وَأُصَلِّي مَعَكَ، قَالَ: فَادْخُلْ، فَدَخَلْتُ مَعَهُ، قَالَ: فَكَانَ رَجُلَ سَوْءٍ يَأْمُرُهُمْ بِالصَّدَقَةِ وَيُرَغِّبُهُمْ فِيهَا، فَإِذَا جَمَعُوا إِلَيْهِ مِنْهَا أَشْيَاءَ، اكْتَنَزَهُ لِنَفْسِهِ، وَلَمْ يُعْطِهِ الْمَسَاكِينَ، حَتَّى جَمَعَ سَبْعَ قِلَالٍ مِنْ ذَهَبٍ وَوَرِقٍ، قَالَ: وَأَبْغَضْتُهُ بُغْضًا شَدِيدًا لِمَا رَأَيْتُهُ يَصْنَعُ ثُمَّ مَاتَ فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ النَّصَارَى لِيَدْفِنُوهُ، فَقُلْتُ لَهُمْ: إِنَّ هَذَا كَانَ رَجُلَ سَوْءٍ يَأْمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ وَيُرَغِّبُكُمْ فِيهَا، فَإِذَا جِئْتُمُوهُ بِهَا اكْتَنَزَهَا لِنَفْسِهِ وَلَمْ يُعْطِ الْمَسَاكِينَ مِنْهَا شَيْئًا، قَالُوا: وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَنْزِهِ، قَالُوا: فَدُلَّنَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَأَرَيْتُهُمْ مَوْضِعَهُ، قَالَ: فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهُ سَبْعَ قِلَالٍ مَمْلُوءَةٍ ذَهَبًا وَوَرِقًا، قَالَ: فَلَمَّا رَأَوْهَا، قَالُوا: وَاللَّهِ لَا نَدْفِنُهُ أَبَدًا، فَصَلَبُوهُ ثُمَّ رَجَمُوهُ بِالْحِجَارَةِ، ثُمَّ جَاءُوا بِرَجُلٍ آخَرَ، فَجَعَلُوهُ بِمَكَانِهِ، قَالَ: يَقُولُ سَلْمَانُ: فَمَا رَأَيْتُ رَجُلًا لَا يُصَلِّي الْخَمْسَ، أَرَى أَنَّهُ أَفْضَلُ مِنْهُ، أَزْهَدُ فِي الدُّنْيَا وَلَا أَرْغَبُ فِي الْآخِرَةِ، وَلَا أَدْأَبُ لَيْلًا وَنَهَارًا مِنْهُ، قَالَ: فَأَحْبَبْتُهُ حُبًّا لَمْ أُحِبَّهُ مَنْ قَبْلَهُ، وَأَقَمْتُ مَعَهُ زَمَانًا، ثُمَّ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ، إِنِّي كُنْتُ مَعَكَ وَأَحْبَبْتُكَ حُبًّا لَمْ أُحِبَّهُ مَنْ قَبْلَكَ، وَقَدْ حَضَرَكَ مَا تَرَى مِنْ أَمْرِ اللَّهِ فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي؟ وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ، أَيْ بُنَيَّ، وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا الْيَوْمَ عَلَى مَا كُنْتُ عَلَيْهِ، لَقَدْ هَلَكَ النَّاسُ وَبَدَّلُوا وَتَرَكُوا أَكْثَرَ مَا كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلًا بِالْمَوْصِلِ، وَهُوَ فُلَانٌ، فَهُوَ عَلَى مَا كُنْتُ عَلَيْهِ، فَالْحَقْ بِهِ، قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ وَغَيَّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ الْمَوْصِلِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ، إِنَّ فُلَانًا أَوْصَانِي عِنْدَ مَوْتِهِ أَنْ أَلْحَقَ بِكَ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّكَ عَلَى أَمْرِهِ، قَالَ: فَقَالَ لِي: أَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ، فَوَجَدْتُهُ خَيْرَ رَجُلٍ عَلَى أَمْرِ صَاحِبِهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ، إِنَّ فُلَانًا أَوْصَى بِي إِلَيْكَ، وَأَمَرَنِي بِاللُّحُوقِ بِكَ، وَقَدْ حَضَرَكَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا تَرَى، فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ أَيْ بُنَيَّ، وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ رَجُلًا عَلَى مِثْلِ مَا كُنَّا عَلَيْهِ إِلَّا بِنَصِيبِينَ، وَهُوَ فُلَانٌ، فَالْحَقْ بِهِ، وَقَالَ: فَلَمَّا مَاتَ وَغَيَّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ نَصِيبِينَ، فَجِئْتُهُ، فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِي، وَمَا أَمَرَنِي بِهِ صَاحِبِي، قَالَ: فَأَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى أَمْرِ صَاحِبَيْهِ، فَأَقَمْتُ مَعَ خَيْرِ رَجُلٍ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثَ أَنْ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ، فَلَمَّا حَضَرَ، قُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ، إِنَّ فُلَانًا كَانَ أَوْصَى بِي إِلَى فُلَانٍ، ثُمَّ أَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَيْكَ، فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي، وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ، وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ أَحَدًا بَقِيَ عَلَى أَمْرِنَا، آمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهُ إِلَّا رَجُلًا بِعَمُّورِيَّةَ، فَإِنَّهُ بِمِثْلِ مَا نَحْنُ عَلَيْهِ، فَإِنْ أَحْبَبْتَ فَأْتِهِ، قَالَ: فَإِنَّهُ عَلَى أَمْرِنَا، قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ وَغَيَّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ عَمُّورِيَّةَ، وَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي، فَقَالَ: أَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ مَعَ رَجُلٍ عَلَى هَدْيِ أَصْحَابِهِ وَأَمْرِهِمْ، قَالَ: وَاكْتَسَبْتُ حَتَّى كَانَ لِي بَقَرَاتٌ وَغُنَيْمَةٌ، قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ بِهِ أَمْرُ اللَّهِ، فَلَمَّا حَضَرَ، قُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ، إِنِّي كُنْتُ مَعَ فُلَانٍ، فَأَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَى فُلَانٍ، وَأَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَى فُلَانٍ، ثُمَّ أَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَيْكَ، فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي، وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ، وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُهُ أَصْبَحَ عَلَى مَا كُنَّا عَلَيْهِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ آمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهُ، وَلَكِنَّهُ قَدْ أَظَلَّكَ زَمَانُ نَبِيٍّ هُوَ مَبْعُوثٌ بِدِينِ إِبْرَاهِيمَ يَخْرُجُ بِأَرْضِ الْعَرَبِ، مُهَاجِرًا إِلَى أَرْضٍ بَيْنَ حَرَّتَيْنِ بَيْنَهُمَا نَخْلٌ، بِهِ عَلَامَاتٌ لَا تَخْفَى: يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ، وَلَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ، فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَلْحَقَ بِتِلْكَ الْبِلَادِ فَافْعَلْ، قَالَ: ثُمَّ مَاتَ وَغَيَّبَ، فَمَكَثْتُ بِعَمُّورِيَّةَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَمْكُثَ، ثُمَّ مَرَّ بِي نَفَرٌ مِنْ كَلْبٍ تُجَّارًا، فَقُلْتُ لَهُمْ تَحْمِلُونِي إِلَى أَرْضِ الْعَرَبِ، وَأُعْطِيكُمْ بَقَرَاتِي هَذِهِ وَغُنَيْمَتِي هَذِهِ، قَالُوا: نَعَمْ،، وَحَمَلُونِي، حَتَّى إِذَا قَدِمُوا بِي وَادِي الْقُرَى، ظَلَمُونِي فَبَاعُونِي مِنْ رَجُلٍ مِنْ يَهُودَ عَبْدًا، فَكُنْتُ عِنْدَهُ، وَرَأَيْتُ النَّخْلَ، وَرَجَوْتُ أَنْ تَكُونَ الْبَلَدَ الَّذِي وَصَفَ لِي صَاحِبِي، وَلَمْ يَحِقْ لِي فِي نَفْسِي، فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ، قَدِمَ عَلَيْهِ ابْنُ عَمٍّ لَهُ مِنَ الْمَدِينَةِ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ فَابْتَاعَنِي مِنْهُ، فَاحْتَمَلَنِي إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا فَعَرَفْتُهَا بِصِفَةِ صَاحِبِي، فَأَقَمْتُ بِهَا وَبَعَثَ اللَّهُ رَسُولَهُ، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ مَا أَقَامَ لَا أَسْمَعُ لَهُ بِذِكْرٍ مَعَ مَا أَنَا فِيهِ مِنْ شُغْلِ الرِّقِّ، ثُمَّ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَفِي رَأْسِ عَذْقٍ لِسَيِّدِي أَعْمَلُ فِيهِ بَعْضَ الْعَمَلِ، وَسَيِّدِي جَالِسٌ، إِذْ أَقْبَلَ ابْنُ عَمٍّ لَهُ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: فُلَانُ قَاتَلَ اللَّهُ بَنِي قَيْلَةَ، وَاللَّهِ إِنَّهُمْ الْآنَ لَمُجْتَمِعُونَ بِقُبَاءَ عَلَى رَجُلٍ قَدِمَ عَلَيْهِمْ مِنْ مَكَّةَ الْيَوْمَ، يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَبِيٌّ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعْتُهَا أَخَذَتْنِي الْعُرَوَاءُ، حَتَّى ظَنَنْتُ سَأَسْقُطُ عَلَى سَيِّدِي، قَالَ: وَنَزَلْتُ عَنِ النَّخْلَةِ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِابْنِ عَمِّهِ ذَلِكَ: مَاذَا تَقُولُ؟ مَاذَا تَقُولُ؟ قَالَ: فَغَضِبَ سَيِّدِي فَلَكَمَنِي لَكْمَةً شَدِيدَةً، ثُمَّ قَالَ: مَا لَكَ وَلِهَذَا!! أَقْبِلْ عَلَى عَمَلِكَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا شَيْءَ، إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَثْبِتَ عَمَّا قَالَ، وَقَدْ كَانَ عِنْدِي شَيْءٌ قَدْ جَمَعْتُهُ، فَلَمَّا أَمْسَيْتُ أَخَذْتُهُ ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِقُبَاءَ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجُلٌ صَالِحٌ، وَمَعَكَ أَصْحَابٌ لَكَ غُرَبَاءُ ذَوُو حَاجَةٍ، وَهَذَا شَيْءٌ كَانَ عِنْدِي لِلصَّدَقَةِ، فَرَأَيْتُكُمْ أَحَقَّ بِهِ مِنْ غَيْرِكُمْ، قَالَ: فَقَرَّبْتُهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" كُلُوا" وَأَمْسَكَ يَدَهُ فَلَمْ يَأْكُلْ، قَالَ: فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: هَذِهِ وَاحِدَةٌ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ عَنْهُ فَجَمَعْتُ شَيْئًا، وَتَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ، فَقُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أَكْرَمْتُكَ بِهَا، قَالَ: فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا مَعَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: هَاتَانِ اثْنَتَانِ، قال: ثُمَّ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، قَالَ: وَقَدْ تَبِعَ جَنَازَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، عَلَيْهِ شَمْلَتَانِ لَهُ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَدَرْتُ أَنْظُرُ إِلَى ظَهْرِهِ، هَلْ أَرَى الْخَاتَمَ الَّذِي وَصَفَ لِي صَاحِبِي؟ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَدَرْتُهُ، عَرَفَ أَنِّي أَسْتَثْبِتُ فِي شَيْءٍ وُصِفَ لِي، قَالَ: فَأَلْقَى رِدَاءَهُ عَنْ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى الْخَاتَمِ فَعَرَفْتُهُ، فَانْكَبَبْتُ عَلَيْهِ أُقَبِّلُهُ وَأَبْكِي، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَحَوَّلْ" فَتَحَوَّلْتُ، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ حَدِيثِي كَمَا حَدَّثْتُكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْمَعَ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ شَغَلَ سَلْمَانَ الرِّقُّ حَتَّى فَاتَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرٌ وَأُحُدٌ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَاتِبْ يَا سَلْمَانُ" فَكَاتَبْتُ صَاحِبِي عَلَى ثَلَاثِ مِائَةِ نَخْلَةٍ أُحْيِيهَا لَهُ بِالْفَقِيرِ وَبِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" أَعِينُوا أَخَاكُمْ" فَأَعَانُونِي بِالنَّخْلِ، الرَّجُلُ بِثَلَاثِينَ وَدِيَّةً، وَالرَّجُلُ بِعِشْرِينَ، وَالرَّجُلُ بِخَمْسَ عَشْرَةَ، وَالرَّجُلُ بِعَشْرٍ يَعْنِي: الرَّجُلُ بِقَدْرِ مَا عِنْدَهُ حَتَّى اجْتَمَعَتْ لِي ثَلَاثُ مِائَةِ وَدِيَّةٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ يَا سَلْمَانُ فَفَقِّرْ لَهَا، فَإِذَا فَرَغْتَ فَأْتِنِي أَكُونُ أَنَا أَضَعُهَا بِيَدَيَّ" فَفَقَّرْتُ لَهَا، وَأَعَانَنِي أَصْحَابِي، حَتَّى إِذَا فَرَغْتُ مِنْهَا جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعِي إِلَيْهَا، فَجَعَلْنَا نُقَرِّبُ لَهُ الْوَدِيَّ وَيَضَعُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ سَلْمَانَ بِيَدِهِ، مَا مَاتَتْ مِنْهَا وَدِيَّةٌ وَاحِدَةٌ، فَأَدَّيْتُ النَّخْلَ، وَبَقِيَ عَلَيَّ الْمَالُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ بَيْضَةِ الدَّجَاجَةِ مِنْ ذَهَبٍ مِنْ بَعْضِ الْمَغَازِي، فَقَالَ:" مَا فَعَلَ الْفَارِسِيُّ الْمُكَاتَبُ" قَالَ: فَدُعِيتُ لَهُ، فَقَالَ:" خُذْ هَذِهِ فَأَدِّ بِهَا مَا عَلَيْكَ يَا سَلْمَانُ"، فَقُلْتُ: وَأَيْنَ تَقَعُ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّا عَلَيَّ؟ قَالَ:" خُذْهَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُؤَدِّي بِهَا عَنْكَ"، قَالَ: فَأَخَذْتُهَا فَوَزَنْتُ لَهُمْ مِنْهَا وَالَّذِي نَفْسُ سَلْمَانَ بِيَدِهِ أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، فَأَوْفَيْتُهُمْ حَقَّهُمْ وَعُتِقْتُ، فَشَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَنْدَقَ، ثُمَّ لَمْ يَفُتْنِي مَعَهُ مَشْهَدٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں فارس صوبہ اصبہان میں ایک جگہ کا رہنے والا ہوں جس کا نام جے تھا میرا باپ اس جگہ کا چوہدری اور سردار تھا اور مجھ سے بہت ہی زیادہ محبت تھی اور میرے حوالے سے ان کی یہ محبت اتنی بڑھی کہ انہوں نے مجھے بچیوں کی طرح گھر میں بٹھا دیا میں نے اپنے قدیم مذہب مجوسیت میں اتنی زیادہ محنت کی کہ میں آتشکدہ کا محافظ بن گیا جس کی آگ کبھی بجھنے نہیں دی جاتی تھی میرے والد کی ایک بہت بڑی جائیداد تھی ایک دن وہ اپنے کسی کام میں مصروف ہوگئے تو مجھ سے کہنے لگے بیٹا! آج میں اس تعمیراتی کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے زمینوں پر نہیں جاسکا اس لئے تم وہاں جا کر ان کی دیکھ بھال کرو اور مجھے چند ضروری باتیں بتادیں میں زمینوں پر جانے کے ارادے سے روانہ ہوگیا راستہ میں میرا گذر نصاریٰ کے گرجے پر ہوا میں نے اس گرجے میں سے ان کی آوازیں سنیں وہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے چونکہ والد صاحب نے مجھے گھر میں بٹھائے رکھا تھا اس لئے مجھے لوگوں کے معاملات کا کچھ علم نہ تھا لہٰذا جب میں ان کے پاس گذرا اور ان کی آوازیں سنیں تو میں سیر کے لئے اس میں چلا گیا میں نے ان کو نماز پڑھتے دیکھا تو مجھے وہ پسند آگئی اور میں اس دین کو پسند کرنے لگا اور میں نے سوچا کہ واللہ یہ دین ہمارے دین سے زیادہ بہتر ہے شام تک میں وہیں رہا اور والد صاحب کی زمینوں پر نہیں گیا ان سے میں نے دریافت کیا کہ اس دین کا مرکز کہاں ہے؟ انہوں نے کہا ملک شام میں ہے رات کو میں گھر واپس آیا تو گھر والوں نے پوچھا کہ تو تمام دن کہاں رہا؟ میں نے تمام قصہ سنایا باپ نے کہا کہ بیٹا وہ دین اچھا نہیں ہے تیرا اور تیرے بڑوں کا جو دین ہے وہی بہتر ہے۔ میں نے ہرگز نہیں وہی دین بہتر ہے۔ باپ کو میری طرف سے خدشہ ہوگیا کہ کہیں چلا نہ جائے اس لئے میرے پاؤں میں ایک بیڑی ڈال دی اور گھر میں قید کردیا، میں نے ان عیسائیوں کے پاس کہلا بھیجا کہ جب شام سے سوداگر لوگ جو اکثر آتے رہتے تھے آئیں تو مجھے اطلاع کرا دیں چناچہ کچھ سوداگر آئے اور ان عیسائیوں نے مجھے اطلاع کرا دی جب وہ واپس جانے لگے تو میں نے اپنی پاؤں کی بیڑی کاٹ دی اور بھاگ کر ان کے ساتھ شام چلا گیا وہاں پہنچ کر میں نے تحقیق کی کہ اس مذہب کا سب سے زیادہ ماہر کون ہے لوگوں نے بتایا کہ گرجا میں فلاں پادری ہے میں اس کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ مجھے آپ کے دین میں داخل ہونے کی رغبت ہے اور میں آپ کی خدمت میں رہنا چاہتا ہوں اس نے منظور کرلیا میں اس کے پاس رہنے لگا لیکن وہ کچھ اچھا نہ نکلا لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دیتا اور جو کچھ جمع ہوتا اس کو اپنے خزانہ میں رکھ لیتا غریبوں کو کچھ نہ دیتا، یہاں تک کہ اس نے سونے چاندی کے سات مٹکے جمع کر لئے تھے مجھے اس کی ان حرکتوں پر اس سے شدید نفرت ہوگئی جب وہ مرگیا اور عیسائی اسے دفن کرنے کے لئے جمع ہوئے تو میں نے ان سے کہا کہ یہ بہت برا آدمی تھا تمہیں صدقہ کرنے کا حکم اور اس کی ترغیب دیتا تھا اور جب تم اس کے پاس صدقات لے کر آتے تو وہ انہیں اپنے پاس ذخیرہ کرلیتا تھا اور مسکینوں کو اس میں سے کچھ نہیں دیتا تھا لوگوں نے پوچھا تمہیں اس بات کا علم کیسے ہوا؟ میں نے کہا کہ میں تمہیں اس خزانے کا پتہ بتائے دیتا ہوں انہوں نے کہا ضرور بتاؤ چناچہ میں نے انہیں وہ جگہ دکھا دی اور لوگوں نے وہاں سے سونے چاندی سے بھرے ہوئے سات مٹکے برآمد کر لئے اور یہ دیکھ کہنے واللہ ہم اسے کبھی دفن نہیں کرے گے چناچہ انہوں نے اس پادری کو سولی پر لٹکا دیا اور پھر اسے پتھروں سے سنگسار کرنے لگے اس کی جگہ دوسرے شخص کو بٹھایا وہ اس سے بہتر تھا اور دنیا سے بےرغبت تھا میں نے اسے پنجگانہ نماز پڑھنے والے کو اس سے زیادہ افضل اس کی نسبت دنیا سے زیادہ بےرغبت اور رات دن عبادت کرنے والا نہیں دیکھا میں اس کی خدمت میں رہنے لگا اور اس سے مجھے ایسی محبت ہوگئی کہ اس سے پہلے کسی سے نہ ہوئی تھی بالآخر وہ بھی مرنے لگا تو میں نے اس سے پوچھا کہ مجھے کسی کے پاس رہنے کی وصیت کردو اس نے کہا کہ میرے طریقہ پر صرف ایک ہی شخص دنیا میں ہے اس کے سوا کوئی نہیں وہ موصل میں رہتا ہے تو اس کے پاس چلے جانا میں اس کے مرنے کے بعد موصل چلا گیا اور اس سے جا کر اپنا قصہ سنایا اس نے اپنی خدمت میں رکھ لیا وہ بھی بہترین آدمی تھا آخر اس کی بھی وفات ہونے لگی تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب میں کہاں جاؤ اس نے کہا فلاں شخص کے پاس نصیبین میں چلے جانا میں اس کے پاس چلا گیا اور اس سے اپنا قصہ سنایا اس نے اپنے پاس رکھ لیا وہ بھی اچھا آدمی تھا جب اس کے مرنے کا وقت آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب میں کہاں جاؤ اس نے کہا غموریا میں فلاں شخص کے پاس چلے جانا میں وہاں چلا گیا اس کے پاس اسی طرح رہنے لگا وہاں میں نے کچھ کمائی کا دھندا بھی کیا جس سے میرے پاس چند گائیں اور کچھ بکریاں جمع ہوگئیں جب اس کی وفات کا وقت قریب ہوا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب میں کہاں جاؤں اس نے کہا کہ اب اللہ کی قسم! کوئی شخص اس طریقے کا جس پر ہم لوگ ہیں عالم نہیں رہا البتہ نبی آخرالزمان کے پیدا ہونے کا زمانہ قریب آگیا جو دین ابراہیمی پر ہوں گے عرب میں پیدا ہوں گے اور ان کی ہجرت کی جگہ ایسی زمین ہے جہاں کھجوروں کی پیداوار بکثرت ہے اور اس کے دونوں جانب کنکریلی زمین ہے وہ ہدیہ نوش فرمائیں گے اور صدقہ نہیں کھائیں گے ان کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی پس اگر تم سے ہوسکے تو اس سر زمین پر پہنچ جانا۔ اس کے انتقال کے کچھ عرصے بعد قبیلہ بنو قلب کے چند تاجروں کا وہاں سے گذر ہوا میں نے ان سے کہا کہ تم مجھے اپنے ساتھ عرب لے چلو تو اس کے بدلے میں یہ گائیں اور بکریاں تمہاری نذر ہیں انہوں نے قبول کرلیا اور مجھے وادی القریٰ (یعنی مکہ مکرمہ) اور وہ گائیں اور بکریاں میں نے ان کو دے دیں لیکن انہوں نے مجھ پر یہ ظلم کیا کہ مجھے مکہ مکرمہ میں اپنا غلام ظاہر کر کے آگے بیچ دیا بنو قریظہ کے ایک یہودی نے مجھے خرید لیا اور اپنے ساتھ اپنے وطن مدینہ طیبہ لے آیا مدینہ طبیہ کو دیکھتے ہی میں نے ان علامات سے جو مجھے عموریا کے ساتھی (پادری) نے بتائی تھی پہچان لیا کہ یہی وہ جگہ ہے میں وہاں رہتا رہا کہ اتنے میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکے سے ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ ایک دن میں اپنے آقا کے باغ میں کام کر رہا تھا کہ میرے آقا کے بیٹھے بیٹھے اس کا چچا زاد بھائی آگیا اور کہنے لگا بنو قیلہ پر اللہ کی مار ہو اب وہ قبا میں ایک ایسے آدمی کے پاس جمع ہو رہے تھے جو ان کے پاس آج ہی آیا ہے اور اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے یہ سنتے ہی مجھ پر ایسی بےخودی طاری ہوئی کہ مجھے لگتا تھا میں اپنے آقا کے اوپر گر پڑوں گا پھر میں درخت سے نیچے اترا اور اس کے چچا زاد بھائی سے کہنے لگا کہ آپ کیا کہہ رہے تھے آپ کیا کہہ رہے تھے؟ اس پر میرے آقا کو غصہ آگیا اور اس نے مجھے ضرور سے مکہ مار کر کہا کہ تمہیں اس سے کیا مقصد؟ جاؤ جا کر اپنا کام کرو میں نے سوچا کوئی بات نہیں اور میں نے یہ ارادہ کرلیا کہ اس کے متعلق معلومات حاصل کر کے رہوں گا میرے پاس کچھ پونجی جمع تھی شام ہوئی تو وہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت تک قباہی میں تشریف فرما تھے میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نیک آدمی ہیں اور آپ کے ساتھ غریب اور حاجت مند لوگ ہیں یہ صدقے کا مال ہے میں دوسرے سے زیادہ آپ لوگوں کو اس کا حق دار سمجھتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود تناول نہیں فرمایا صحابہ کرام (فقراء) سے فرمایا تم کھالو میں نے اپنے دل میں کہا کہ ایک علامت تو پوری نکلی پھر میں مدینہ واپس آگیا اور کچھ جمع کیا کہ اس دوران میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ پہنچ گئے میں نے کچھ کھجوریں اور کھانا وغیرہ پیش کیا اور عرض کیا کہ یہ ہدیہ ہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں سے تناول فرمایا میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ دوسری علامت بھی پوری ہوگئی اس کے بعد میں ایک مرتبہ حاضرخدمت ہوا اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک صحابی ؓ کے جنازے میں شرکت کی وجہ سے بقیع میں تشریف فرما تھے میں نے سلام کیا اور پشت کی طرف گھومنے لگا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمجھ گئے اور اپنی چادر مبارک کمر سے ہٹا دی میں نے مہر نبوت کو دیکھا کر جوش میں اس پر جھک گیا اس کو چوم رہا تھا اور رو رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سامنے آؤ میں سامنے حاضر ہوا اور حاضر ہو کر سارا قصہ سنایا اس کے بعد میں اپنی غلامی کے مشاغل میں پھنسا رہا اور اسی بناء پر بدر واحد میں بھی شریک نہ ہوسکا۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے آقا سے مکاتبت کا معاملہ کرلو، میں نے اس سے معاملہ کرلیا اس نے دو چیزیں بدل کتابت قرار دیں ایک چالیس اوقیہ نقد سونا (ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اور ایک درہم تقریباً ٣۔ ٤ ماشتہ کا) اور دوسری یہ کہ تین سو درخت کھجور کے لگاؤں اور ان کو پرورش کروں یہاں تک کہ کھانے کے قابل ہوجائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ اپنے بھائی کی مدد کرو چناچہ انہوں نے درختوں کے حوالے سے میری اس طرح مدد کی کہ کسی نے مجھے تیس پودے دیئے کسی نے بیس، کسی نے پندرہ اور کسی نے دس، ہر آدمی اپنی گنجائش کے مطابق میری مدد کر رہا تھا یہاں تک میرے پاس تین سو پودے جمع ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا سلمان جا کر ان کے لئے کھدائی کرو اور فارغ ہو کر مجھے بتاؤ میں خود اپنے ہاتھ سے یہ پودے لگاؤں گا چناچہ میں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے زمین کی کھدائی اور فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں مطلع کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ساتھ باغ کی جانب روانہ ہوگئے ہم ایک ایک پودا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیتے جاتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے اپنے دست مبارک سے لگاتے جاتے تھے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں سلمان کی جان ہے ان میں سے ایک پودا بھی نہیں مرجھایا تھا اور یوں میں نے باغ کی شرط پوری کردی۔ اب مجھ پر مال باقی رہ گیا تھا اتفاق سے کسی غزوے سے مرغی کے انڈے کے برابر سونا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آگیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت سلمان کو مرحمت فرما دیا کہ اس کو جا کر اپنے بدل کتابت میں دے دو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیا کافی ہوگا وہ بہت زیادہ مقدار ہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حق تعالیٰ شانہ اسی سے عجب نہیں پورا فرما دیں چناچہ میں لے گیا اور اس میں سے وزن کر کے چالیس اوقیہ سونا اس کو تول دیا اور میں آزاد ہوگیا پھر میں غزوہ خندق میں شریک ہوا اور اس کے بعد کسی غزوے کو نہیں چھوڑا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23737]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23738 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، رَجُلٍ ، سَلْمَانَ الْخَيْرِ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْقَيْسِ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ ، قَالَ: لَمَّا قُلْتُ: وَأَيْنَ تَقَعُ هَذِهِ مِنَ الَّذِي عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! أَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَلَّبَهَا عَلَى لِسَانِهِ، ثُمَّ قَالَ: " خُذْهَا فَأَوْفِهِمْ مِنْهَا"، فَأَخَذْتُهَا فَأَوْفَيْتُهُمْ مِنْهَا حَقَّهُمْ كُلَّهُ أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرے اوپرواجب الاداء مقدارتک کہاں پہنچ سکے گا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پکر کر اپنی زبان مبارک پر پھیرا اور فرمایا اسے لے جاؤ اور اس میں سے ان کا حق ادا کردو چناچہ میں نے اسے لے لیا اور ان کو پورا حق یعنی چالیس اوقیہ ادا کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23738]
حکم دارالسلام
حديث حسن دون قوله: أخذها رسول الله فقلبها على لسانه، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الرجل من عبدالقيس
الحكم: حديث حسن دون قوله: أخذها رسول الله فقلبها على لسانه، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الرجل من عبدالقيس
حدیث نمبر: 23739 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: حَاصَرَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، أَلَا تَنْهَدُ إِلَيْهِمْ؟ قَالَ: لَا، حَتَّى أَدْعُوَهُمْ كَمَا كَانَ يَدْعُوهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَاهُمْ فَكَلَّمَهُمْ، قَالَ:" أَنَا رَجُلٌ فَارِسِيٌّ وَأَنَا مِنْكُمْ، وَالْعَرَبُ يُطِيعُونِي، فَاخْتَارُوا إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ تُسْلِمُوا، وَإِمَّا أَنْ تُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ غَيْرُ مَحْمُودِينَ، وَإِمَّا أَنْ نُنَابِذَكُمْ فَنُقَاتِلَكُمْ" ، قَالُوا: لَا نُسْلِمُ، وَلَا نُعْطِي الْجِزْيَةَ، وَلَكِنَّا نُنَابِذُكُمْ، فَرَجَعَ سَلْمَانُ إِلَى أَصْحَابِهِ، قَالُوا: أَلَا تَنْهَدُ إِلَيْهِمْ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَدَعَاهُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمْ يَقْبَلُوا، فَقَاتَلَهُمْ فَفَتَحَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ وہ ایک شہر کے قریب پہنچے تو اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو تاکہ میں ان کے سامنے اسی طرح دعوت پیش کر دوں جیسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دعوت دیتے ہوئے دیکھا ہے پھر انہوں نے اہل شہر سے فرمایا کہ میں تم ہی میں کا ایک فرد تھا اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دے دی اگر تم بھی اسلام قبول کرلو تو تمہارے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے ہیں اگر تم اس سے انکار کرتے ہو جزیہ ادا کرو اس حال میں تم ذلیل ہو گے اگر تم اس سے بھی انکار کرتے ہو تو ہم تمہیں برابر کا جواب دیں گے بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا " تین دن تک وہ اسی طرح کرتے رہے پھر جب چوتھا دن ہوا تو وہ لوگوں کو لے کر اس شہر کی طرف بڑھے اور اسے فتح کرلیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23739]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه بين أبى البختري وبين سلمان، وعطاء بن السائب مختلط
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه بين أبى البختري وبين سلمان، وعطاء بن السائب مختلط