عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، سَلْمَانَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى أَنْ أَغْرِسَ لَهُمْ خَمْسَ مِائَةِ فَسِيلَةٍ، فَإِذَا عَلِقَتْ فَأَنَا حُرٌّ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: " اغْرِسْ وَاشْتَرِطْ لَهُمْ، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَغْرِسَ فَآذِنِّي" قَالَ: فَآذَنْتُهُ، قَالَ: فَجَاءَ، فَجَعَلَ يَغْرِسُ بِيَدِهِ إِلَّا وَاحِدَةً غَرَسْتُهَا بِيَدَيَّ، فَعَلِقْنَ إِلَّا الْوَاحِدَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے آقا سے اس شرط پر مکاتبت منظور کرلی کہ میں ان کے لئے کھجور کے پانچ سو پودے لگاؤں گا جب ان پر کھجور آجائے گی تو میں آزاد ہوجاؤں گا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ شرط ذکر کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یہ شرط قبول کرلو اور جب پودے لگانے کا ارادہ ہو تو مجھے مطلع کرنا چناچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتادیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے پودے لگانے لگے سوائے ایک پودے کے جو میں نے اپنے ہاتھ سے لگایا تھا اور اس ایک پودے کے علاوہ سب پودے پھل لے آئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23730]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، لكنه توبع