بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 11
حدیث نمبر: 23689 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي عُفَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي عُفَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ يُقَالُ لَهُ: نَافِعٌ أَبُو طَيِّبَةَ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ خَرَاجِهِ، فَقَالَ: " لَا تَقْرَبْهُ" فَرَدَّدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اعْلِفْ بِهِ النَّاضِحَ، وَاجْعَلْهُ فِي كِرْشِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23689]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عفير الأنصاري
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عفير الأنصاري
حدیث نمبر: 23690 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ، فَنَهَاهُ عَنْهَا، فَلَمْ يَسْأَلْهُ فِيهَا حَتَّى قَالَ لَهُ: " اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ، وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23690]
حکم دارالسلام
إسناده متصل صحيح إن كان ابن محيصة سمع من جده محيصة سمع من جده محيصة
الحكم: إسناده متصل صحيح إن كان ابن محيصة سمع من جده محيصة سمع من جده محيصة
حدیث نمبر: 23691 مسند احمد
إِسْحَاقُ هُوَ ابْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، حَرامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هُوَ ابْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ،" أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ دَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتْ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حرام بن محیصہ (اپنے والد سے) نقل کرتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی اونٹنی نے ایک باغ میں داخل ہو کر اس میں تباہی مچا دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت اس کے مالکوں کے ذمے ہے اور اگر رات کو جانور کوئی نقصان پہنچاتے ہیں تو اس نقصان کا ضامن جانور کا مالک ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23691]
حکم دارالسلام
إسناده مرسل صحيح
الحكم: إسناده مرسل صحيح
حدیث نمبر: 23692 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، حَرَامِ بْنِ سَاعِدَةَ بْنِ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَاعِدَةَ بْنِ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو طَيِّبَةَ يَكْسِبُ كَسْبًا كَثِيرًا، فَلَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ اسْتَرْخَصَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهُ فِيهِ وَيَذْكُرُ لَهُ الْحَاجَة، حَتَّى قَالَ لَهُ: " لِتُلْقِ كَسْبَهُ فِي بَطْنِ نَاضِحِك" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابو طیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23692]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع، وحرام بن ساعدة بن محيصة ليست له صحبة
الحكم: حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع، وحرام بن ساعدة بن محيصة ليست له صحبة
حدیث نمبر: 23693 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، مُحَيِّصَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَنَّ مُحَيِّصَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ حَجَّامٍ لَهُ، فَنَهَاهُ عَنْهُ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ يُكَلِّمُهُ حَتَّى قَالَ: " اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ، وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زرمحصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23693]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفي سماع حرام بن سعد من جده محيصة نظر
الحكم: حديث صحيح، وفي سماع حرام بن سعد من جده محيصة نظر
حدیث نمبر: 23694 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَحَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: وَسَمِعَهُ الزُّهْرِيُّ ، من سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَحَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ،" أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ قَوْمٍ فَأَفْسَدَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ الْأَمْوَالِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ، وَأَنَّ عَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَةِ مَا أَصَابَتْ بِاللَّيْلِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حرام بن محیصہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (اپنے والد سے) نقل کرتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی اونٹنی نے ایک باغ میں داخل ہو کر اس میں تباہی مچادی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت اس کے مالکوں کے ذمے ہے اور اگر رات کو جانور کوئی نقصان پہنچاتے ہیں تو اس نقصان کا ضامن جانور کا مالک ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23694]
حکم دارالسلام
إسناده مرسل صحيح
الحكم: إسناده مرسل صحيح
حدیث نمبر: 23695 مسند احمد
حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَاعِدَةَ بْنِ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23695]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23696 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَنَهَاهُ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ فَنَهَاهُ، فَذَكَرَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَقَالَ: " اعْلِفْ نَاضِحَكَ، وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23696]
حکم دارالسلام
إسناده متصل صحيح إن كان حرام بن سعد ابن محيصة سمع من جده، وقوله هنا : "عن أبيه" أراد به جده، وليس لأبيه سعد بن محيصة صحبة
الحكم: إسناده متصل صحيح إن كان حرام بن سعد ابن محيصة سمع من جده، وقوله هنا : "عن أبيه" أراد به جده، وليس لأبيه سعد بن محيصة صحبة
حدیث نمبر: 23697 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ،" أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْهُ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي حِفْظَهَا بِاللَّيْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حرام بن محیصہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (اپنے والد سے) نقل کرتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی اونٹنی نے ایک باغ میں داخل ہو کر اس میں تباہی مچا دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت اس کے مالکوں کے ذمے ہے اور اگر رات کو جانور کوئی نقصان پہنچاتے ہیں تو اس نقصان کا ضامن جانور کا مالک ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23697]
حکم دارالسلام
مرسل صحيح، وقوله فيه : "عن ابيه" وهم من عبدالرزاق
الحكم: مرسل صحيح، وقوله فيه : "عن ابيه" وهم من عبدالرزاق
حدیث نمبر: 23698 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَنَهَاهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ لَهُ الْحَاجَةَ، فَقَالَ: " اعْلِفْهُ نَوَاضِحكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23698]
حکم دارالسلام
إسناده متصل صحيح إن كان حرام بن سعد بن محيصة سمع من جده
الحكم: إسناده متصل صحيح إن كان حرام بن سعد بن محيصة سمع من جده
حدیث نمبر: 23699 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، مُحَيِّصَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ يُقَالُ لَهُ: مُحَيِّصَةُ ،" كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ، فَزَجَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِهِ، فَقَالَ: أَفَلَا أُطْعِمُهُ يَتَامَى لِي؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَلَا أَتَصَدَّقُ بِهِ؟ قَالَ: لَا، فَرَخَّصَ لَهُ أَنْ يَعْلِفَهُ نَاضِحَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23699]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن أيوب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن أيوب