يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، حَرَامِ بْنِ سَاعِدَةَ بْنِ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَاعِدَةَ بْنِ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو طَيِّبَةَ يَكْسِبُ كَسْبًا كَثِيرًا، فَلَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ اسْتَرْخَصَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهُ فِيهِ وَيَذْكُرُ لَهُ الْحَاجَة، حَتَّى قَالَ لَهُ: " لِتُلْقِ كَسْبَهُ فِي بَطْنِ نَاضِحِك" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابو طیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23692]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع، وحرام بن ساعدة بن محيصة ليست له صحبة
الحكم: حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع، وحرام بن ساعدة بن محيصة ليست له صحبة