بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 23677 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام جَالِسٌ فِي الْمَقَاعِدِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَجَزْتُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ وَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هَلْ رَأَيْتَ الَّذِي كَانَ مَعِي؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ وَقَدْ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گذرا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی تھے جو اپنی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے میں نے انہیں سلام کیا اور آگے بڑھ گیا جب میں واپس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس جا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا تھا جو میرے ساتھ تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور انہوں نے تمہارے سلام کا جواب دیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23677]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23678 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عُمَرَ ، ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتَّخِذُ أَحَدُكُمْ السَّائِمَةَ فَيَشْهَدُ الصَّلَاةَ فِي جَمَاعَةٍ، فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ، فَيَقُولُ: لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَكْلَأُ مِنْ هَذَا، فَيَتَحَوَّلُ وَلَا يَشْهَدُ إِلَّا الْجُمُعَةَ، فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ، فَيَقُولُ: لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَكْلَأُ مِنْ هَذَا، فَيَتَحَوَّلُ فَلَا يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ وَلَا الْجَمَاعَةَ، فَيُطْبَعُ عَلَى قَلْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ایک آدمی جانور حاصل کرتا ہے اور کچھ عرصے تک جماعت کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا رہتا ہے پھر اس کے جانور بڑھنے کی وجہ سے اسے مشکلات پیش آتی ہیں اور وہ سوچتا ہے کہ مجھے اپنے جانوروں کے لئے کوئی ایسی جگہ تلاش کرنی چاہئے جو اس سے زیادہ گھاس والی ہو چناچہ وہ وہاں سے منتقل ہوجاتا ہے اور صرف جمعہ میں شریک ہونے لگتا ہے کچھ عرصے بعد پھر مشکل پیش آتی ہے اور وہ سابقہ سوچ کے مطابق وہاں سے بھی منتقل ہوجاتا ہے اور جماعت میں حاضر ہوتا ہے اور نہ جمعہ میں یوں اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23678]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عمر مولي غفرة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عمر مولي غفرة