عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام جَالِسٌ فِي الْمَقَاعِدِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَجَزْتُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ وَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هَلْ رَأَيْتَ الَّذِي كَانَ مَعِي؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ وَقَدْ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گذرا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی تھے جو اپنی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے میں نے انہیں سلام کیا اور آگے بڑھ گیا جب میں واپس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس جا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا تھا جو میرے ساتھ تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور انہوں نے تمہارے سلام کا جواب دیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23677]
الحكم: إسناده صحيح