بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 23474 مسند احمد
يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَيَحْيَى بنُ جَعْدَةَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَاب الرَّسُولِ صلي الله عليه وسلم، قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْلَاةً لِبنِي عَبدِ الْمُطَّلِب، فَقَالَ: إِنَّهَا تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَكِنِّي أَنَا أَنَامُ وَأُصَلِّي، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، فَمَنْ اقْتَدَى بي فَهُوَ مِنِّي، وَمَنْ رَغِب عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي، إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً ثُمَّ فَتْرَةً، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى بدْعَةٍ، فَقَدْ ضَلَّ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّةٍ، فَقَدْ اهْتَدَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بنو عبدالمطلب کی ایک باندی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ قیام اللیل اور صائم النہار رہتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لیکن میں تو سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں سو جو شخص میری اقتداء کرے وہ مجھ سے ہے اور جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں ہے ہر عمل کی ایک تیزی ہوتی ہے جو کچھ عرصے بعد ختم ہوجاتی ہے سو جس کی تیزی کا اختتام اور انقطاع بدعت کی طرف ہو وہ گمراہ ہوگیا اور جس کی تیزی کا اختتام سنت پر ہوا تو وہ ہدایت پا گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23474]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23475 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدُ بنُ أَبي عَرُوبةَ ، قَتَادَةَ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَمِّهِ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بنُ أَبي عَرُوبةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: غَدَوْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبيحَةَ عَاشُورَاءَ وَقَدْ تَغَدَّيْنَا، فَقَالَ: " أَصُمْتُمْ هَذَا الْيَوْمَ؟"، قَالَ: قُلْنَا: قَدْ تَغَدَّيْنَا، قَالَ:" فَأَتِمُّوا بقِيَّةَ يَوْمِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن سلمہ خزاعی (رح) اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس محرم کے دن قبیلہ اسلم کے لوگوں سے فرمایا آج کے دن کا روزہ رکھو وہ کہنے لگے کہ ہم تو کھا پی چکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بقیہ دن کچھ نہ کھانا پینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23475]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن سلمة
الحكم: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن سلمة
حدیث نمبر: 23476 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَوْفٌ ، حَسْنَاءَ بنْتِ مُعَاوِيَةَ ، عَمِّي
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ حَسْنَاءَ بنْتِ مُعَاوِيَةَ مِنْ بنِي صُرَيْمٍ، قَالَتْ: حَدَّثَنَا عَمِّي ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: " النَّبيُّ فِي الْجَنَّةِ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْمَوْلُودُ وَالْوَلِيدَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسناء جو بنو صریم کی ایک خاتون تھیں اپنے چچا سے نقل کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے نبی جنت میں ہوں گے شہید جنت میں ہوں گے نومولود بچے جنت میں ہوں گے اور زندہ درگور کیئے ہوئے بچے بھی جنت میں ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23476]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حسناء بنت معاوية
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حسناء بنت معاوية