بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي مَالِكٍ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 85
صفحہ 4 از 5
حدیث نمبر: 22856 مسند احمد
هَاشِمٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ ، قَالَ: جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَجْلَانَ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَيَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَكَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھئے کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور آدمی کو پائے اور اسے قتل کر دے تو کیا بدلے میں اسے بھی قتل کردیا جائے گا یا اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سوال کو اچھا نہیں سمجھا۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اپنی بیوی کو جدا کردیا (طلاق دے دی) اور یہ چیز لعان کرنے والوں کے درمیان رائج ہوگئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22856]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22857 مسند احمد
يُونُسُ ، الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبُو حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ! نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام کے لئے نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں کسی شخص کے کوڑے کی جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22857]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22858 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22858]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22859 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت اس وقت تک خیر پر قائم رہے گی جب تک وہ افطاری میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتی رہے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22859]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1957، م: 1098
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1957، م: 1098
حدیث نمبر: 22860 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي يَحْيَى ، أُمِّهِ ، سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أُمِّهِ , قَالَتْ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ، يَقُولُ: " سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ مِنْ بُضَاعَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیربضاعہ کا پانی پلایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22860]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أم محمد بن أبى يحيي
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أم محمد بن أبى يحيي
حدیث نمبر: 22861 مسند احمد
حُسَيْنُ ، الْفُضَيْلِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالْخَنْدَقِ فَأَخَذَ الْكِرْزِينَ فَحَفَرَ بِهِ، فَصَادَفَ حَجَرًا، فَضَحِكَ، قِيلَ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " ضَحِكْتُ مِنْ نَاسٍ يُؤْتَى بِهِمْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فِي النُّكُولِ يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ خندق کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک بڑی کدال پکڑی اور خندق کھودنے لگے اچانک ایک پتھر سامنے آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنسنے لگے کسی نے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو فرمایا میں ان لوگوں پر ہنس رہا ہوں جنہیں مشرق کی جانب سے بیڑیوں میں جکڑ کر لایا گیا اور جنت کی طرف ہانک دیا گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22861]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الفضيل بن سليمان
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الفضيل بن سليمان
حدیث نمبر: 22862 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بُعِثْتُ وَالسَّاعَةُ هَكَذَا"، وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے جیسے یہ انگلی اس انگلی کے قریب ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22862]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5301، م: 2950
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5301، م: 2950
حدیث نمبر: 22863 مسند احمد
حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي حَازِمٍ الْقَاصِّ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْقَاصِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَدْ اقْتَتَلُوا وَتَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، وَحَانَتْ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي فَأُقِيمَ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: فَأَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ، وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَيْثُ ذَهَبَ، فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ حَتَّى بَلَغَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ، ثُمَّ وَقَفَ وَجَعَلَ النَّاسُ يُصَفِّقُونَ لِيُؤْذِنُوا أَبَا بَكْرٍ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَيْهِ الْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ مَعَ النَّاسِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ اثْبُتْ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ كَأَنَّهُ يَدْعُو، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ الْقَهْقَرَى حَتَّى جَاءَ الصَّفَّ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُكُمْ وَنَابَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِكُمْ فَجَعَلْتُمْ تُصَفِّقُونَ؟ إِذَا نَابَ أَحَدَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّمَا التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ"، ثُمَّ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" لِمَ رَفَعْتَ يَدَيْكَ؟ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ؟" قَالَ: رَفَعْتُ يَدَيَّ لِأَنِّي حَمِدْتُ اللَّهَ عَلَى مَا رَأَيْتُ مِنْكَ، وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ انصاری لوگوں کے درمیان کچھ رنجش ہوگئی تھی جن کے درمیان صلح کرانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے گئے نماز کا وقت آیا تو حضرت بلال سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا اے ابوبکر! نماز کا وقت ہوچکا ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہاں موجود نہیں ہیں کیا میں اذان دے کر اقامت کہوں تو آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھا دیں گے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہاری مرضی چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان و اقامت کہی اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر نماز شروع کردی۔ اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے لوگ تالیاں بجانے لگے جسے محسوس کر کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اشارے سے فرمایا کہ اپنی ہی جگہ رہو لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھا دی نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر! تمہیں اپنی جگہ ٹھہرنے سے کس چیز نے منع کیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ ابن ابی قحافہ کی یہ جرأت کہاں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آگے بڑھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا تم لوگوں نے تالیاں کیوں بجائیں؟ انہوں نے عرض کیا تاکہ ابوبکر کو مطلع کرسکیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تالیاں بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے اور سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کے لئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22863]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 684، م: 421
الحكم: إسناده صحيح، خ: 684، م: 421
حدیث نمبر: 22864 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُسَلِّمُ فِي صَلَاتِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدَّيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے اپناچہرہ اس قدر پھیرتے کہ رخسار مبارک کی سفید نظر آتی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22864]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ولجهالة محمد بن عبدالله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ولجهالة محمد بن عبدالله
حدیث نمبر: 22865 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، وَفَاءِ الحِمْيَريِ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ وَفَاءِ الحِمْيَريِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِيكُمْ كِتَابُ اللَّهِ يَتَعَلَّمُهُ الْأَسْوَدُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ، تَعَلَّمُوهُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ زَمَانٌ يَتَعَلَّمُهُ أُنَاسٌ، وَلَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، وَيُقَوِّمُونَهُ كَمَا يُقَوَّمُ السَّهْمُ، فَيَتَعَجَّلُونَ أَجْرَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں اللہ کی کتاب موجود ہے جو سیاہ سرخ اور سفید سب ہی سیکھیں گے تم وہ زمانہ آنے سے پہلے اسے سیکھ لو جبکہ کچھ لوگ اسے سیکھیں گے اور وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور اسے تیر کے طرح سیدھا کریں گے اور اس کا ثواب آخرت پر رکھنے کی بجائے دنیا ہی طلب کریں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22865]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 22866 مسند احمد
أَبُو المُنْذِرِ ، مَالِكٌ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو المُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ، فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالْمَسْكَنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نحوست اگر کسی چیز میں ہوتی تو گھوڑے عورت اور گھر میں ہوتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22866]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2859، م: 2226
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2859، م: 2226
حدیث نمبر: 22867 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، مَالِكٍ ، أَبُو حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ، وَعَنْ شِمَالِهِ الْأَشْيَاخُ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ: " أَتَأْذَنُ فِي أَنْ أُعْطِيَهُ هَؤُلَاءِ؟" فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ کوئی مشروب لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا آپ کے دائیں جانب ایک لڑکا تھا اور بائیں جانب عمر رسیدہ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس لڑکے سے پوچھا کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہو کہ اپنا پس خودرہ انہیں دے دوں؟ اس لڑکے نے " نہیں " کہا اور کہنے لگا اللہ کی قسم! میں آپ کے حصے پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ برتن اس کے ہاتھ پر پٹک دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22867]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2351، م: 2030
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2351، م: 2030
حدیث نمبر: 22868 مسند احمد
عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ! نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام کے لئے نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں کسی شخص کے کوڑے کی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22868]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22869 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ الْغَسِيلِ ، حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ ، أَبِيهِ ، وَعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ الْغَسِيلِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ , وَعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَا: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابٌ لَهُ، فَخَرَجْنَا حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ: الشَّوْطُ، حَتَّى إِذَا انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ مِنْهَا جَلَسْنَا بَيْنَهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْلِسُوا" , وَدَخَلَ هُوَ وَأُتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ، فَعُزِلَتْ فِي بَيْتٍ فِي النَّخْلِ، أُمَيْمَةُ بِنْتُ النُّعْمَانِ ابْنِ شَرَاحِيلَ، وَمَعَهَا دَايَةٌ لَهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هَبِي لِي نَفْسَكِ" , قَالَتْ: وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ؟ وَقَالَ غَيْرُ أَبِي أَحْمَدَ: امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي الْجَوْنِ، يُقَالُ لَهَا: أُمَيْنَةُ، قَالَتْ:" إِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ" , قَالَ: لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا أَبَا أُسَيْدٍ، اكْسُهَا فَارِسِيَّتَيْنِ، وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ اور سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ہمارے پاس سے گذرے میں بھی ہمراہ ہوگیا حتیٰ کہ چلتے چلتے ہم " سوط " نامی ایک باغ میں پہنچے وہاں ہم بیٹھ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایک طرف بٹھا کر ایک گھر میں داخل ہوگئے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قبیلہ جون کی ایک خاتون کو لایا گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے ساتھ امیمہ بنت نعمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں خلوت کی، اس خاتون کے ساتھ سواری کا جانور بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اس خاتون کے پاس پہنچے تو اس سے فرمایا کہ اپنی ذات کو میرے لئے ھبہ کردو اس پر (العیاذباللہ) وہ کہنے لگی کہ کیا ایک ملکہ اپنے آپ کو کسی بازاری آدمی کے حوالے کرسکتی ہے؟ میں تم سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسی ذات سے پناہ چاہی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر آگئے اور فرمایا اے ابو اسید! اسے دو جوڑے دے کر اس کے اہل خانہ کے پاس چھوڑ آؤ بعض راویوں نے اس عورت کا نام امینہ بتایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22869]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5257, 5256
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5257, 5256
حدیث نمبر: 22870 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت اس وقت تک خیر پر قائم رہے گی جب تک وہ افطاری میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتی رہے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22870]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1957، م: 1098
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1957، م: 1098
حدیث نمبر: 22871 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِيهِ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمِنْبَرِ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ؟ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ، وَأَعْرِفُ مَنْ عَمِلَهُ، وَأَيُّ يَوْمٍ صُنِعَ، وَأَيُّ يَوْمٍ وُضِعَ، وَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ، أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ لَهَا غُلَامٌ نَجَّارٌ، فَقَالَ لَهَا: " مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهَا إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ"، فَأَمَرَتْهُ فَذَهَبَ إِلَى الْغَابَةِ فَقَطَعَ طَرْفَاءَ فَعَمِلَ الْمِنْبَرَ ثَلَاثَ دَرَجَاتٍ، فَأَرْسَلَتْ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوُضِعَ فِي مَوْضِعِهِ هَذَا الَّذِي تَرَوْنَ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ، فَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهِ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي" , فَقِيلَ لِسَهْلٍ: هَلْ كَانَ مِنْ شَأْنِ الْجِذْعِ مَا يَقُولُ النَّاسُ؟ قَالَ: قَدْ كَانَ مِنْهُ الَّذِي كَانَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا منبر کس لکڑی کا بنا ہوا تھا؟ انہوں نے فرمایا بخدا! یہ بات سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے کہ وہ کس لکڑی سے بنا ہوا تھا؟ کس نے اسے بنایا تھا؟ کس دن بنایا گیا تھا؟ کس دن مسجد نبوی میں لا کر رکھا گیا اور جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلی مرتبہ اس پر رونق افروز ہوئے وہ بھی میں نے دیکھا ہے۔ ان تمام باتوں کی تفصیل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک خاتون کے پاس " جس کا ایک غلام بڑھئی تھا " پیغام بھیجا کر اپنے بڑھئی غلام سے کہو کہ میرے لئے کچھ لکڑیاں ٹھونک دے تاکہ میں دوران تقریر ان پر بیٹھ سکوں اس عورت نے اپنے غلام کو اس کا حکم دیا تو وہ " غابہ " چلا گیا اور ایک درخت کی لکڑیاں کاٹیں اور تین سیڑھیوں پر مشتمل منبر بنادیا اس عورت نے وہ منبر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اسی جگہ رکھوا دیا جہاں آج تم اسے دیکھ رہے ہو اور اسی دن پہلی مرتبہ اس پر تشریف فرما ہوئے اور اس پر تکبیر کہی پھر جھک کر الٹے پاؤں نیچے اتر اور سجدہ ریز ہوگئے لوگوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ سجدہ کیا حتیٰ کہ اس سے فارغ ہوگئے اور فرمایا لوگو! میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ تم میری اقتداء کرسکو اور میرا طریقہ نماز سیکھ لو ' کسی نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس تنے کے متعلق لوگوں میں جو بات مشہور ہے کیا وہ صحیح ہے؟ انہوں نے فرمایا جو واقعہ رونما ہوا تھا وہ تو پیش آیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22871]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 377، م: 544
الحكم: إسناده صحيح، خ: 377، م: 544
حدیث نمبر: 22872 مسند احمد
هَاشِمُ بنُ الْقَاسِمِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَالرَّوْحَةُ يَرُوحُهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ الْغَدْوَةُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ! نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک دن کی پہرہ داری دنیا و ماعلیہا سے بہتر ہے اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام کے لئے نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں کسی شخص کے کوڑے کی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22872]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالرحمن بن عبدالله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالرحمن بن عبدالله
حدیث نمبر: 22873 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ عَلَيَّ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، أَبْصَرْتُ أَنْ لَا يَرِدَ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونَنِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ" , قَالَ: فَسَمِعَنِي النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ أُحَدِّثُ بِهِ، فَقَالَ: وَأَشْهَدُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَزِيدُ فِيهِ، فَيَقُولُ:" وَأَقُولُ: إِنَّهُمْ أُمَّتِي، أَوْ مِنِّي، فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، أَوْ مَا بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا جو شخص وہاں آئے گا وہ اس کا پانی بھی پئے گا اور جو اس کا پانی پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اور میرے پاس کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانوں گا اور وہ مجھے پہچانیں گے لیکن پھر ان کے اور میرے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جائے گی۔ ابو حازم کہتے ہیں کہ حضرت نعمان بن ابی عیاش نے مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تو کہنے لگے کیا تم نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ میں نے انہیں یہ اضافہ نقل کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمائیں گے یہ میرے امتی ہیں تو کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا اعمال سر انجام دیئے تھے؟ میں کہوں گا کہ دور ہوجائیں وہ لوگ جنہوں نے میرے بعد میرے دین کو بدل دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22873]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7050، م: 2290، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالرحمن بن عبدالله
الحكم: حديث صحيح، خ: 7050، م: 2290، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالرحمن بن عبدالله
حدیث نمبر: 22874 مسند احمد
يُونُسُ ، عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بَصْرِيٌّ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بَصْرِيٌّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا منبر جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22874]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمران بن يزيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمران بن يزيد
حدیث نمبر: 22875 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُسْلِمٌ ، عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّهُ قَدْ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ فَدَعَاهَا، فَسَأَلَهَا عَمَّا قَالَ، فَأَنْكَرَتْ، فَحَدَّهُ وَتَرَكَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اس نے ایک عورت سے بدکاری کی ہے جس کا نام بھی اس نے بتایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے اس شخص کی بات کے متعلق پوچھا تو اس نے انکار کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آدمی پر حد جاری فرما دی اور عورت کو چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22875]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مسلم، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مسلم، وقد توبع