بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي مَالِكٍ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 85
صفحہ 2 از 5
حدیث نمبر: 22816 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبُو حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُمْ بَعْدَ الظُّهْرِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، وَقَالَ:" يَا بِلَالُ، إِنْ حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَلَمْ آتِ، فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" , قَالَ: فَلَمَّا حَضَرَتْ الْعَصْرُ أَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ بِهِمْ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا رَأَوْهُ صَفَّحُوا، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشُقُّ النَّاسَ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ، فَلَمَّا رَأَى التَّصْفِيحَ لَا يُمْسَكُ عَنْهُ، فَالْتَفَتَ فَرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ امْضِهْ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيَّةً، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ مَشَى الْقَهْقَرَى، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لَا تَكُونَ مَضَيْتَ؟" , قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لَمْ يَكُنْ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لِلنَّاسِ: " إِذَا نَابَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ شَيْءٌ، فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ، وَلْيُصَفِّحْ النِّسَاءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ انصاری لوگوں کے درمیان کچھ رنجش ہوگئی تھی جن کے درمیان صلح کرانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے گئے نماز کا وقت آیا تو حضرت بلال سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا اے ابوبکر! نماز کا وقت ہوچکا ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہاں موجود نہیں ہیں کیا میں اذان دے کر اقامت کہوں تو آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھا دیں گے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہاری مرضی چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان و اقامت کہی اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر نماز شروع کردی۔ اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے لوگ تالیاں بجانے لگے جسے محسوس کر کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اشارے سے فرمایا کہ اپنی ہی جگہ رہو لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے آگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھا دی نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر! تمہیں اپنی جگہ ٹھہرنے سے کس چیز نے منع کیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ ابن ابی قحافہ کی یہ جرأت کہاں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آگے بڑھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا تم لوگوں نے تالیاں کیوں بجائیں؟ انہوں نے عرض کیا تاکہ ابوبکر کو مطلع کرسکیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تالیاں بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے اور سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کے لئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22816]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7190، م: 421
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7190، م: 421
حدیث نمبر: 22817 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَمَّادٌ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا حَازِمٍ فَحَدَّثَنِي بِهِ، فَلَمْ أُنْكِرْ مِمَّا حَدَّثَنِي شَيْئًا، قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَأَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، وَقَالَ لِبِلَالٍ:" إِنْ حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَلَمْ آتِ، فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" , قَالَ: فَلَمَّا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ، أَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ، فَلَمَّا تَقَدَّمَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ صَفَّحَ النَّاسُ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ، قَالَ: فَلَمَّا رَآهُمْ لَا يُمْسِكُونَ الْتَفَتَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ امْضِهْ، قَالَ: فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ الْقَهْقَرَى، قَالَ: وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ تَمْضِيَ فِي صَلَاتِكَ؟" قَالَ: فَقَالَ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ: " إِذَا نَابَكُمْ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ، وَلْيُصَفِّقْ النِّسَاءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ انصاری لوگوں کے درمیان کچھ رنجش ہوگئی تھی جن کے درمیان صلح کرانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے گئے نماز کا وقت آیا تو حضرت بلال سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا اے ابوبکر! نماز کا وقت ہوچکا ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہاں موجود نہیں ہیں کیا میں اذان دے کر اقامت کہوں تو آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھا دیں گے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہاری مرضی چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان و اقامت کہی اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر نماز شروع کردی۔ اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے لوگ تالیاں بجانے لگے جسے محسوس کر کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اشارے سے فرمایا کہ اپنی ہی جگہ رہو لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے آگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھا دی نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر! تمہیں اپنی جگہ ٹھہرنے سے کس چیز نے منع کیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ ابن ابی قحافہ کی یہ جرأت کہاں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آگے بڑھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا تم لوگوں نے تالیاں کیوں بجائیں؟ انہوں نے عرض کیا تاکہ ابوبکر کو مطلع کرسکیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تالیاں بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے اور سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کے لئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22817]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1201، م: 421
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1201، م: 421
حدیث نمبر: 22818 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ لِلْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ , قَالَ: يُقَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ هَلُمُّوا إِلَى الرَّيَّانِ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ، أُغْلِقَ ذَلِكَ الْبَابُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام " ریان " ہے قیامت کے دن یہ اعلان کیا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں؟ ریان کی طرف آؤ جب ان کا آخری آدمی بھی اندر داخل ہوچکے گا تو وہ دروازہ بند کردیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22818]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1896، م: 1152
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1896، م: 1152
حدیث نمبر: 22819 مسند احمد
عَفَّانُ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلْجَنَّةِ بَابًا يُدْعَى: الرَّيَّانُ، يُقَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَإِذَا دَخَلُوهُ أُغْلِقَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ غَيْرُهُمْ" , قَالَ: فَلَقِيتُ أَبَا حَازِمٍ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ، غَيْرَ أَنِّي لِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْفَظُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام " ریان " ہے قیامت کے دن یہ اعلان کیا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں؟ ریان کی طرف آؤ جب ان کا آخری آدمی بھی اندر داخل ہوچکے گا تو وہ دروازہ بند کردیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22819]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22820 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ" , وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَلِيلًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت والی اور درمیانی انگلی میں کچھ فاصلہ رکھتے ہوئے اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22820]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5304
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5304
حدیث نمبر: 22821 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: " لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ" , قَالَ: فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ، غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ:" أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟ فَقَالَ: هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ , قَالَ: فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأُتِيَ بِهِ، فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ، فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا؟ فَقَالَ: انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل میں یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں اللہ خیبر پر فتح عطاء فرما دے گا وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا لوگوں کی رات اسی اشتیاق میں گذر گئی کہ دیکھیں جھنڈا کس کو ملتا ہے؟ صبح ہوئی تو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہر ایک کی خواہش یہی تھی کہ جھنڈا اسے ملے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ تو بیمار ہیں چنانچہ انہیں قاصد بھیج کر بلایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن لگایا اور ان کے لئے دعاء کی تو وہ ٹھیک ہوگئے اور یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ کبھی بیمار ہی نہیں ہوئے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ جھنڈا انہیں دے دیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں ان سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ ہم جیسے نہ ہوجائیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رکو جب تم ان کے علاقے میں پہنچو تو انہیں اسلام کی طرف دعوت دو اور انہیں اللہ کے حقوق سے آگاہ کرو، بخدا! تمہارے ذریعے کسی ایک آدمی کو ہدایت مل جانا تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22821]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3009، م: 2406
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3009، م: 2406
حدیث نمبر: 22822 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلًا ، أَبُو حَازِمٍ ، النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ، شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ، لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَلَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونَنِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ" , قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَسَمِعَنِي النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا يَقُولُ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُ يَزِيدَ، فَيَقُولُ:" إِنَّهُمْ مِنِّي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ , فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا جو شخص وہاں آئے گا وہ اس کا پانی بھی پئے گا اور جو اس کا پانی پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اور میرے پاس کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہنچانوں گا اور وہ مجھے پہچانیں گے لیکن پھر ان کے اور میرے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جائے گی۔ ابوحازم کہتے ہیں کہ حضرت نعمان بن ابی عیاش نے مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تو کہنے لگے کیا تم نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ میں نے انہیں یہ اضافہ نقل کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمائیں گے یہ میرے امتی ہیں تو کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا اعمال سر انجام دیئے تھے؟ میں کہوں گا کہ دور ہوجائیں وہ لوگ جنہوں نے میرے بعد میرے دین کو بدل دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22822]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7050، م: 2290
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7050، م: 2290
حدیث نمبر: 22823 مسند احمد
عَفَّانُ ، عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَبَا حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَوَكَّلَ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، تَوَكَّلْتُ لَهُ بِالْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے اپنے دونوں جبڑوں اور دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیزوں کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22823]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6474
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6474
حدیث نمبر: 22824 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ: " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ , فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ، لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا , قَالَ: فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ کوئی مشروب لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا آپ کی دائیں جانب ایک لڑکا تھا اور بائیں جانب عمر رسیدہ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس لڑکے سے پوچھا کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہو کہ اپنا پس خودرہ انہیں دے دوں؟ اس لڑکے نے " نہیں " کہا اور کہنے لگا اللہ کی قسم! میں آپ کے حصے پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ برتن اس کے ہاتھ پر پٹک دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22824]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2451، م: 2030
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2451، م: 2030
حدیث نمبر: 22825 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ، فِيهَا حَاشِيَتَاهَا، قَالَ سَهْلٌ: وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، هِيَ الشَّمْلَةُ , قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي، فَجِئْتُ بِهَا لِأَكْسُوَكَهَا فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ عَلَيْنَا، وَإِنَّهَا لَإِزَارُهُ، فَجَسَّهَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ رَجُلٌ سَمَّاهُ، فَقَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْبُرْدَةَ! اكْسُنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" نَعَمْ" , فَلَمَّا دَخَلَ طَوَاهَا وَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: وَاللَّهِ مَا أَحْسَنْتَ، كُسِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا! فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي مَا سَأَلْتُهُ لِأَلْبَسَهَا، وَلَكِنْ سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لِتَكُونَ كَفَنِي يَوْمَ أَمُوتُ" , قَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ كَفَنَهُ يَوْمَ مَاتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک بنی ہوئی چادر " جس پر دونوں طرف کناری لگی ہوئی تھی " لے کر آئی (حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو چادر کی وضاحت بھی بتائی) اور کہنے لگی یا رسول اللہ! یہ میں اپنے ہاتھ سے بن کر آپ کے پاس لائی ہوں تاکہ آپ اسے پہن لیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چونکہ ضرورت تھی اس لئے وہ چادر اس سے لے لی، تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب باہر آئے تو وہ چادر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم مبارک پر تھی ایک آدمی نے " جس کا نام حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا " اسے چھو کر دیکھا اور کہنے لگا کہ کیسی عمدہ چادر ہے یا رسول اللہ! یہ مجھے پہننے کے لئے دے دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اچھا، گھر جا کر اسے لپیٹا اور اس آدمی کے پاس اسے بھجوا دیا۔ لوگوں نے اس سے کہا بخدا! تم نے اچھا نہیں کیا یہ چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی نے دی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر تم نے ان سے مانگ لی جب کہ تم جانتے بھی کہ وہ کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے اس نے جواب دیا واللہ میں نے یہ چادر پہننے کے لئے نہیں مانگی بلکہ اس لئے مانگی ہے کہ دم واپسی یہ میرا کفن بنایا جائے چنانچہ جس دن وہ فوت ہوا اس کا کفن وہی چادر تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22825]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1277
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1277
حدیث نمبر: 22826 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أَبُو صَخْرٍ ، أَبَا حَازِمٍ ، سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَي أَبِي، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ أَبَا حَازِمٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ: شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا وَصَفَ فِيهِ الْجَنَّةَ حَتَّى انْتَهَى، ثُمَّ قَالَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ: " فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ خَطَرَ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 16 - 17" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک مجلس میں شریک ہوا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت کے احوال بیان فرما رہے تھے جب گفتگو کا اختتام ہونے لگا تو آخر میں فرمایا وہاں ایسی چیزیں ہوں گی جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا ہوگا اور نہ کسی کان نے سنا ہوگا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گذرا ہوگا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی " تتجافی جنوبہم عن المضاجع یدعون ربہم خوفا وطمعا و مما رزقناہم ینفقون فلاتعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین جزاء بماکانوایعملون "۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22826]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2825، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 2825، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22827 مسند احمد
نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سوال کرنے کو ناپسند اور معیوب قرار دیا ہے (مکمل تفصیل کے لئے حدیث نمبر ٢٣٢١٨ دیکھئے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22827]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22828 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت اس وقت تک خیر پر قائم رہے گی جب تک وہ افطاری میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتی رہے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22828]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1957، م: 1098
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1957، م: 1098
حدیث نمبر: 22829 مسند احمد
رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ " أَحْرَقَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ، ثُمَّ أَخَذَتْ تَجْعَلُهُ عَلَى جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِوَجْهِهِ، قَالَ: وَأُتِيَ بِتُرْسٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَتْ عَنْهُ الدَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زخم کا علاج کسی طرح کیا گیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لاتے تھے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ چہرہ مبارک سے خون دھوتی جاتی تھیں پھر انہوں نے ایک چٹائی لے کر اسے جلایا اور اس کی راکھ زخم میں بھر دی (جس سے خون رک گیا) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22829]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، إسناده حسن
الحكم: حديث صحيح، إسناده حسن
حدیث نمبر: 22830 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: جَاءَ عُوَيْمِرٌ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: فَقَالَ سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِهِ فَقَتَلَهُ، أَيُقْتَلُ بِهِ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ، قَالَ: فَلَقِيَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: مَا صَنَعْتُ! إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ الْمَسَائِلَ , فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ فِيهِمَا، قَالَ: فَدَعَا بِهِمَا فَلَاعَنَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: لَئِنْ انْطَلَقْتُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا , قَالَ: فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَصَارَتْ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ، أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا" , قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھئے کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور آدمی کو پائے اور اسے قتل کر دے تو کیا بدلے میں اسے بھی قتل کردیا جائے گا یا اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سوال کو اچھا نہیں سمجھا۔ پھر عویمر رضی اللہ عنہ کی عاصم رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو عویمر نے پوچھا کیا بنا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا بننا کیا تھا؟ تم نے مجھے اچھا کام نہیں بتایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سوال کو ہی اچھا نہیں سمجھا عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ بخدا! میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور ان سے یہ سوال پوچھ کر رہوں گا چنانچہ وہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو اس وقت تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اس سلسلے میں وحی نازل ہوچکی تھی اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں میاں بیوی کو بلا کر ان کے درمیان لعان کرا دیا پھر عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! اگر میں اسے اپنے ساتھ لے گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے اس پر ظلم کیا ہے چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اپنی بیوی کو جدا کردیا (طلاق دے دی) اور یہ چیز لعان کرنے والوں کے درمیان رائج ہوگئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس عورت کا خیال رکھنا اگر اس کے یہاں سیاہ رنگ سیاہ آنکھوں اور بڑی سرینوں والا بچہ پیدا ہوا تو میں عویمر کو سچا ہی سمجھوں گا اور اگر اس کے یہاں سرخ رنگت والا اور چھپکلی کی مانند بچہ پیدا ہوا تو میں اسے جھوٹا سمجھوں گا چنانچہ اس کے یہاں جو بچہ پیدا ہوا وہ ناپسندیدہ صفات کے ساتھ تھا (جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر ان صفات پر بچہ پیدا ہوا تو میں عویمر کو سچا سمجھوں گا) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22830]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 423، م: 1492
الحكم: إسناده صحيح، خ: 423، م: 1492
حدیث نمبر: 22831 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، ابْنُ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ:" لَمَّا لَاعَنَ عُوَيْمِرٌ أَخُو بَنِي الْعَجْلَانِ امْرَأَتَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ظَلَمْتُهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا، هِيَ الطَّلَاقُ، هِيَ الطَّلَاقُ، هِيَ الطَّلَاقُ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب عویمر نے ابنی بیوی سے لعان کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! اگر میں نے اسے اپنے پاس ہی رکھا تو گویا میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا لہٰذا میں اسے طلاق دیتا ہوں طلاق، طلاق۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22831]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، لكنه متابع
حدیث نمبر: 22832 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ , أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " فَهَلْ تَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: مَاذَا؟ قَالَ: سُورَةَ كَذَا، وَسُورَةَ كَذَا، وَسُورَةَ كَذَا قَالَ: فَقَدْ أَمْلَكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ" , قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يَمْضِي وَهِيَ تَتْبَعُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں لوگوں کے ساتھ تھا کہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں قرآن بھی کچھ آتا ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! فلاں فلاں سورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے اس عورت کے ساتھ تمہارا نکاح قرآن کریم کی ان سورتوں کی وجہ سے کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22832]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5149، م: 1425
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5149، م: 1425
حدیث نمبر: 22833 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سِتْرِ حُجْرَتِهِ، وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى، فَقَالَ: " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ هَذَا يَنْظُرُنِي حَتَّى آتِيَهُ لَطَعَنْتُ بِالْمِدْرَى فِي عَيْنِهِ وَهَلْ جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ إِلَّا مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حجرہ مبارک میں کسی سوراخ سے جھانکنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک میں اس وقت ایک کنگھی تھی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے سر میں کنگھی فرما رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے یقین ہوتا کہ تم دیکھ رہے ہو تو میں یہ کنگھی تمہاری آنکھوں پردے مارتا اجازت کا حکم نظر ہی کی وجہ سے تو دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22833]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5924، م: 1456
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5924، م: 1456
حدیث نمبر: 22834 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے جیسے یہ انگلی اس انگلی کے قریب ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22834]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5301، م: 2950
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5301، م: 2950
حدیث نمبر: 22835 مسند احمد
يَزِيدُ ، أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان بظاہر لوگوں کی نظروں میں اہل جنت والے اعمال کر رہا ہوتا ہے لیکن درحقیقت وہ اہل جہنم میں ہوتا ہے اسی طرح انسان بظاہر لوگوں کی نظروں میں اہل جہنم والے اعمال کر رہا ہوتا ہے لیکن درحقیقت وہ جنتی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22835]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6493، م: 112
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6493، م: 112