عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ" فَرَمَقْتُ صَلَاتَهُ لَيْلَةً فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ نَامَ، فَلَمَّا كَانَ نِصْفُ اللَّيْلِ اسْتَيْقَظَ فَتَلَا الْآيَاتِ الْعَشْرَ آخِرَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ تَسَوَّكَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَلَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ أَطْوَلُ؟ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، فَتَلَا الْآيَاتِ ثُمَّ تَسَوَّكَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ أَطْوَلُ؟ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ ذَلِكَ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ كَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا تو رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز دیکھنے کا موقع ملا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عشاء پڑھ کر سوگئے نصف رات کو بیدار ہوئے سورت آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی، مسواک کی وضو فرمایا اور کھڑے ہو کردو رکعتیں پڑھیں اب مجھے معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قیام زیادہ لمبا تھا یا رکوع سجدہ پھر دوبارہ سوگئے تھوڑی دیر بعد اٹھے اور یہی سارا عمل دہرایا اور پھر اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ گیارہ رکعتیں پڑھ لیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22663]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن جعفر ضعيف، وأبو بكر بن عبدالرحمن لم يسمع من صفوان
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن جعفر ضعيف، وأبو بكر بن عبدالرحمن لم يسمع من صفوان