بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22661
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22661
حدیث نمبر: 22661 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، الْمَقْبُرِيِّ ، صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ , أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَّا أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ، وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ، فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ فَصَلِّ، فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَعْتَدِلَ عَلَى رَأْسِكَ مِثْلَ الرُّمْحِ، فَإِذَا اعْتَدَلَتْ عَلَى رَأْسِكَ، فَإِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُهَا حَتَّى تَزُولَ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ، فَإِذَا زَالَتْ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ، فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے نبی! میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جس سے آپ باخبر ہیں اور میں ناواقف ہوں اور وہ یہ کہ دن رات کے وہ کون سے اوقات ہیں جن میں آپ نماز کو مکروہ سمجھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم فجر کی نماز پڑھ لیا کرو تو طلوع آفتاب تک نماز سے رکے رہا کرو جب سورج طلوع ہوجائے تو نماز پڑھا کرو کیونکہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ قبول ہوتی ہے یہاں تک کہ سورج تمہارے سر پر نیزے کی مانند برابر ہوجائے جب ایسا ہوجائے تو یہی وہ گھڑی ہوتی ہے جس میں جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ تمہاری دائیں جانب سے ڈھل جائے جب ایسا ہوجائے تو نماز پڑھا کرو کیونکہ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ قبول ہوتی ہے یہاں تک کہ تم نماز عصر پڑھ لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22661]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، المقبري لم يسمعه من صفوان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، المقبري لم يسمعه من صفوان
← پچھلی حدیث (22660) باب پر واپس اگلی حدیث (22662) →