بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ مَطَرِ بْنِ عُكَامِسَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 21983 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، مَطَرِ بْنِ عُكَامِسٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ مَطَرِ بْنِ عُكَامِسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَضَى اللَّهُ مِيتَةَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مطربن عکامس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی خاص جگہ میں کسی کو موت کا فیصلہ فرما لیتا ہے (تو اس کے دن میں اس جگہ کی محبت ڈال دی جاتی ہے اور) وہاں اس کی کوئی ضرورت پیدا کردیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21983]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، مطر بن عكامس اختلف فى صحبته
الحكم: صحيح لغيره، مطر بن عكامس اختلف فى صحبته
حدیث نمبر: 21984 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، حُدَيْجٌ أَبُو سُلَيْمَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، مَطَرِ بْنِ عُكَامِسٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ , حَدَّثَنَا حُدَيْجٌ أَبُو سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ مَطَرِ بْنِ عُكَامِسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُقَدَّرُ لِأَحَدٍ يَمُوتُ بِأَرْضٍ إِلَّا حُبِّبَتْ إِلَيْهِ , وَجُعِلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مطربن عکامس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی خاص جگہ میں کسی کو موت کا فیصلہ فرما لیتا ہے (تو اس کے دن میں اس جگہ کی محبت ڈال دی جاتی ہے اور) وہاں اس کی کوئی ضرورت پیدا کردیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21984]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حديج أبو سليمان مجهول
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حديج أبو سليمان مجهول