بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 21913 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مَالِكٌ ، يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا , لَا يُغْنِي مِنْ زَرْعٍ أَوْ ضَرْعٍ , نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ" , قَالَ السَّائِبُ: فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ , وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگ بھی اپنے یہاں کتے کو رکھتے ہیں جو کھیت، شکار یا ریوڑ کی حفاظت کے لئے نہ ہو، ان کے اجروثواب سے روزانہ ایک قیراط کی کمی ہوتی رہتی ہے، سائب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سفیان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے براہ راست یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اس مسجد کے رب کی قسم۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21913]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2323، م: 1576
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2323، م: 1576
حدیث نمبر: 21914 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، اللَّيْثِيِّينَ ، سُفْيَانَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ , أَخبرنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ , أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ , أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ فِي مَجْلِسِ اللَّيْثِيِّينَ يَذْكُرُونَ , أَنَّ سُفْيَانَ أَخْبَرَهُمْ , أَنَّ فَرَسَهُ أَعْيَتْ بِالْعَقِيقِ وَهُوَ فِي بَعْثٍ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَجَعَ إِلَيْهِ يَسْتَحْمِلُهُ , فَزَعَمَ سُفْيَانُ كَمَا ذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَعَهُ يَبْتَغِي لَهُ بَعِيرًا , فَلَمْ يَجِدْه إِلَّا عِنْدَ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ الْعَدَوِيِّ , فَسَامَهُ لَهُ , فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْمٍ: لَا أَبِيعُكَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَلَكِنْ خُذْهُ فَاحْمِلْ عَلَيْهِ مَنْ شِئْتَ , فَزَعَمَ أَنَّهُ أَخَذَهُ مِنْهُ , ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ بِئْرَ الْإِهَابِ , زَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُوشِكُ الْبُنْيَانُ أَنْ يَأْتِيَ هَذَا الْمَكَانَ , وَيُوشِكُ الشَّامُ أَنْ يُفْتَتَحَ , فَيَأْتِيَهُ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْبَلَدِ , فَيُعْجِبَهُمْ رِيفُهُ وَرَخَاؤُهُ , وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ , ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ , فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ , فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ , وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ , إِنَّ إِبْرَاهِيمَ دَعَا لِأَهْلِ مَكَّةَ , وَإِنِّي أَسْأَلُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُبَارِكَ لَنَا فِي صَاعِنَا , وَأَنْ يُبَارِكَ لَنَا فِي مُدِّنَا , مِثْلَ مَا بَارَكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وادی عقیق میں پہنچ کر ایک مرتبہ ان کا گھوڑا چلنے پھرنے سے عاجز ہوگیا وہ اس لشکر میں شامل تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روانہ فرمایا تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سواری کی درخواست لے کر واپس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے ساتھ اونٹ کی تلاش میں نکلے لیکن کہیں سے اونٹ نہ مل سکا، البتہ ابو جہم بن حذیفہ عدوی کے پاس ایک اونٹ نظر آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے بھاؤ تاؤ کیا لیکن ابوجہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اسے آپ کے ہاتھ فروخت تو نہیں کرتا البتہ آپ اسے لے جائیے اور جسے چاہیں اس پر سوار ہونے کی اجازت دے دیں ان کے بقول نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ اونٹ ابوجہم سے لے لیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے نکلے، جب بئر اہاب پر پہنچے تو ان کے بقول نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب بلند وبالا عمارتیں اس جگہ تک بھی پہنچ جائیں گی اور شام فتح ہوجائے گا اس شہر کے کچھ لوگ وہاں جائیں گے تو انہیں وہاں کی شادابی اور آب وہوا خوب پسند آئے گی، حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا، پھر عراق بھی فتح ہوجائے گا اور ایک قوم پھیل جائے گی وہ اپنے اہل خانہ اور اپنی بات ماننے والوں کو لے کر سوار ہوجائیں گے حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ میں رہنے والوں کے لئے دعاء مانگی تھی اور میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعاء کرتا ہوں کہ وہ ہمارے صاع اور مد میں اسی طرح برکت عطاء فرمائے جیسے اہل مکہ کو عطاء فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21914]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الإبهام الليثين، وقوله: يوشك الشام أن يفتح..... الي آخر الحديث صحيح
الحكم: إسناده ضعيف الإبهام الليثين، وقوله: يوشك الشام أن يفتح..... الي آخر الحديث صحيح
حدیث نمبر: 21915 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الْبَهْزِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الْبَهْزِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُفْتَحُ الْيَمَنُ , فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ , وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ , ثم يُفتَح الشامُ , فيأتي قومٌ يَبُسُّونَ , فَيَتَحمَّلونَ بَأهليهِم ومَن أطاعَهم , والمدينةُ خيرٌ لهم لو كانواَ يَعلَمونَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب یمن فتح ہوجائے گا اس شہر کے کچھ لوگ وہاں جائیں گے تو انہیں وہاں کی شادابی اور آب وہوا خوب پسند آئے گی، حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا، پھر شام بھی فتح ہوجائے گا اور ایک قوم پھیل جائے گی، وہ اپنے اہل خانہ اور اپنی بات ماننے والوں کو لے کر سوار ہوجائیں گے حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21915]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1875، م: 1388
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1875، م: 1388
حدیث نمبر: 21916 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , أَخْبَرَنِي مَالِكٌ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يُفْتَحُ الْيَمَنُ , فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ" , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21916]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1875، م: 1388
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1875، م: 1388
حدیث نمبر: 21917 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ , قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ بِالْمَوْسِمِ , فَأَتَيْتُهُ , فَسَأَلْتُهُ , فَأَخْبَرَنِي , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَفْتَحُونَ الشَّامَ , فَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يَبُسُّونَ" , قَالَ: كُلُّهَا فَتَحُوا , وَقَالَ: يَبُسُّونَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1875، م: 1388
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1875، م: 1388
حدیث نمبر: 21918 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ شَنُوءَةَ , مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ نَاسًا مَعَهُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا , لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا , وَلَا ضَرْعًا , نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ" , قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگ بھی اپنے یہاں کتے کو رکھتے ہیں جو کھیت، شکار یار یوڑ کی حفاظت کے لئے نہ ہو، ان کے اجروثواب سے روزانہ ایک قیراط کی کمی ہوتی رہتی ہے، سائب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سفیان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے براہ راست یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اس مسجد کے رب کی قسم۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21918]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2323، م: 1576
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2323، م: 1576