عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الْبَهْزِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الْبَهْزِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُفْتَحُ الْيَمَنُ , فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ , وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ , ثم يُفتَح الشامُ , فيأتي قومٌ يَبُسُّونَ , فَيَتَحمَّلونَ بَأهليهِم ومَن أطاعَهم , والمدينةُ خيرٌ لهم لو كانواَ يَعلَمونَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب یمن فتح ہوجائے گا اس شہر کے کچھ لوگ وہاں جائیں گے تو انہیں وہاں کی شادابی اور آب وہوا خوب پسند آئے گی، حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا، پھر شام بھی فتح ہوجائے گا اور ایک قوم پھیل جائے گی، وہ اپنے اہل خانہ اور اپنی بات ماننے والوں کو لے کر سوار ہوجائیں گے حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21915]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1875، م: 1388
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1875، م: 1388