بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ هَزَّالٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 21890 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بنِ هَزَّالٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بنِ هَزَّالٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: كَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فِي حِجْرِ أَبِي , فَأَصَابَ جَارِيَةً مِنَ الْحَيِّ , فَقَالَ لَهُ أَبِي: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ لَكَ , وَإِنَّمَا يُرِيدُ بِذَلِكَ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَخْرَجٌ , فَأَتَاهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ , ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ , ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ , ثُمَّ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكَ قَدْ قُلْتَهَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ , فَبِمَنْ؟" , قَالَ: بِفُلَانَةَ , قَالَ:" هَلْ ضَاجَعْتَهَا؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" هَلْ بَاشَرْتَهَا؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" هَلْ جَامَعْتَهَا؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ , قَالَ: فَأُخْرِجَ بِهِ إِلَى الْحَرَّةِ , فَلَمَّا رُجِمَ , فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزَعَ , فَخَرَجَ يَشْتَدُّ , فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْس وَقَدْ أَعْجَزَ أَصْحَابَهُ , فَنَزَعَ لَهُ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ فَرَمَاهُ بِهِ , فَقَتَلَهُ , قَالَ: ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ:" هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ يَتُوبُ , فَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ" . قَالَ هِشَامٌ: فَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي حِينَ رَآهُ:" وَاللَّهِ يَا هَزَّالُ لَوْ كُنْتَ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ , كَانَ خَيْرًا مِمَّا صَنَعْتَ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم بن ہزال کہتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ میرے والد کے زیر سایہ پرورش تھے وہ محلے کی ایک باندی کے ساتھ ملوث ہوگئے میرے والد نے ان سے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ بتاؤ تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے لئے بخشش کی دعاء کردیں، ان کا مقصد یہ تھا کہ شاید ان کے لئے کوئی راستہ نکل آئے چنانچہ وہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں اس لئے مجھ پر سزاجاری کیجئے جو کتاب اللہ کے مطابق ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے اعراض کیا چار مرتبہ اسی طرح ہوا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے چار مرتبہ اس کا اقرار کیا ہے یہ بتاؤ کس کے ساتھ یہ گناہ کیا ہے؟ ماعز نے کہا فلاں عورت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم اس کے ساتھ لیٹے تھے؟ ماعز نے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس کے جسم کے ساتھ اپناجسم ملایا تھا؟ ماعز نے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اس کے ساتھ مجامعت کی تھی؟ ماعزنے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے رجم کردیا جائے۔ چنانچہ لوگ اسے " حرہ " کی طرف لے گئے جب ماعز کو رجم کیا جانے لگا اور انہیں پتھر پڑے تو اس کی تکلیف محسوس کر کے وہ تیزی سے بھاگ کھڑے ہوئے لوگ انہیں پکڑنے سے عاجز آگئے تو اچانک عبداللہ بن انیس مل گئے انہوں نے اونٹ کی ایک ہڈی انہیں کھینچ کر دے ماری جس سے وہ جاں بحق ہوگئے، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟ شاید وہ توبہ کرلیتا اور اللہ اس کی توبہ کو قبول کرلیتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے والد سے فرمایا ہزال! بخدا! اگر تم اسے اپنے کپڑوں میں چھپالیتے تو یہ اس سے بہتر ہوتا جو تم نے اس کے ساتھ کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21890]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21891 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ ، هَزَّالًا
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ , حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ , أَنَّ هَزَّالًا كَانَ اسْتَأْجَرَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ , وَكَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ يُقَالُ لَهَا: فَاطِمَةُ , قَدْ أُمْلِكَتْ , وَكَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُمْ , وَإِنَّ مَاعِزًا وَقَعَ عَلَيْهَا , فَأَخْبَرَ هَزَّالًا فَخَدَعَهُ , فَقَالَ: انْطَلِقْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ , عَسَى أَنْ يَنْزِلَ فِيكَ قُرْآنٌ , فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ , فَلَمَّا عَضَّتْهُ مَسُّ الْحِجَارَةِ انْطَلَقَ يَسْعَى , فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ بِلَحْيِ جَزُورٍ , أَوْ سَاقِ بَعِيرٍ , فَضَرَبَهُ بِهِ فَصَرَعَهُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْلَكَ يَا هَزَّالُ لَوْ كُنْتَ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ , كَانَ خَيْرًا لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم بن ہزال کہتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ میرے والد کے یہاں نوکری کرتے تھے والد کی ایک باندی تھی جس کا نام فاطمہ تھا، وہ ان کی بکریاں چرایا کرتی تھی، ماعز اس کے ساتھ ملوث ہوگئے میرے والد نے ان سے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ بتاؤ شاید تمہارے متعلق قرآن میں کوئی حکم نازل ہوجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے رجم کردیا جائے۔ چنانچہ لوگ اسے " حرہ " کی طرف لے گئے جب ماعز کو رجم کیا جانے لگا اور انہیں پتھر پڑے تو اس کی تکلیف محسوس کر کے وہ تیزی سے بھاگ کھڑے ہوئے لوگ انہیں پکڑنے سے عاجز آگئے تو اچانک عبداللہ بن انیس مل گئے انہوں نے اونٹ کی ایک ہڈی انہیں کھینچ کر دے ماری جس سے وہ جاں بحق ہوگئے، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟ شاید وہ توبہ کرلیتا اور اللہ اس کی توبہ کو قبول کرلیتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے والد سے فرمایا ہزال! بخدا! اگر تم اسے اپنے کپڑوں میں چھپالیتے تو یہ اس سے بہتر ہوتا جو تم نے اس کے ساتھ کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21891]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21892 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهِ , فَلَمَّا مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَقَالَ مَرَّةً: فَلَمَّا عَضَّتْهُ الْحِجَارَةُ أَجْزَعَ , فَخَرَجَ يَشْتَدُّ , وَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ , أَوْ أَنَسُ بْنُ نَادِيَةَ , فَرَمَاهُ بِوَظِيفِ حِمَارٍ فَصَرَعَهُ , فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ بِأَمْرِهِ , فَقَالَ: " هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ , فَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ" , ثُمَّ قَالَ:" يَا هَزَّالُ لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ , كَانَ خَيْرًا لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم بن ہزال کہتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں، اس لئے مجھ پر سزا جاری کیجئے جو کتاب اللہ کے مطابق ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے اعراض کیا، چار مرتبہ اسی طرح ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے رجم کردیا جائے۔ چنانچہ لوگ اسے " حرہ " کی طرف لے گئے جب ماعز کو رجم کیا جانے لگا اور انہیں پتھر پڑے تو اس کی تکلیف محسوس کر کے وہ تیزی سے بھاگ کھڑے ہوئے لوگ انہیں پکڑنے سے عاجز آگئے تو اچانک عبداللہ بن انیس مل گئے انہوں نے اونٹ کی ایک ہڈی انہیں کھینچ کر دے ماری جس سے وہ جاں بحق ہوگئے، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟ شاید وہ توبہ کرلیتا اور اللہ اس کی توبہ کو قبول کرلیتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے والد سے فرمایا ہزال! بخدا! اگر تم اسے اپنے کپڑوں میں چھپالیتے تو یہ اس سے بہتر ہوتا جو تم نے اس کے ساتھ کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21892]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21893 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ فِي حِجْرِهِ , قَالَ: فَلَمَّا فَجَرَ , قَالَ لَهُ: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ , وَلَقِيَهُ:" يَا هَزَّالُ , أَمَا لَوْ كُنْتَ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ , لَكَانَ خَيْرًا مِمَّا صَنَعْتَ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم بن ہزال کہتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ میرے والد کے زیر سایہ پرورش تھے وہ محلے کی ایک باندی کے ساتھ ملوث ہوگئے میرے والد نے ان سے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ بتاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا ہزال! بخدا! اگر تم اسے اپنے کپڑوں میں چھپالیتے تو یہ اس سے بہتر ہوتا جو تم نے اس کے ساتھ کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21893]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21894 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، شُعْبَةُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، ابْنِ هَزَّالٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ هَزَّالٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ ذَكَرَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ مَاعِزٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتَ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ , كَانَ خَيْرًا لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم بن ہزال کہتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ میرے والد کے زیر سایہ پرورش تھے وہ محلے کی ایک باندی کے ساتھ ملوث ہوگئے میرے والد نے ان سے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ بتاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا ہزال! بخدا! اگر تم اسے اپنے کپڑوں میں چھپالیتے تو یہ اس سے بہتر ہوتا جو تم نے اس کے ساتھ کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21894]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21895 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، شُعْبَةُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، ابْنِ هَزَّالٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ هَزَّالٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" وَيْحَكَ يَا هَزَّالُ لَوْ سَتَرْتَهُ يَعْنِي مَاعِزًا , بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم بن ہزال کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے والد سے فرمایا ہزال! بخدا! اگر تم اسے اپنے کپڑوں میں چھپالیتے تو یہ اس سے بہتر ہوتا جو تم نے اس کے ساتھ کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21895]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن