بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 21891
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 21891
حدیث نمبر: 21891 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ ، هَزَّالًا
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ , حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ , أَنَّ هَزَّالًا كَانَ اسْتَأْجَرَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ , وَكَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ يُقَالُ لَهَا: فَاطِمَةُ , قَدْ أُمْلِكَتْ , وَكَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُمْ , وَإِنَّ مَاعِزًا وَقَعَ عَلَيْهَا , فَأَخْبَرَ هَزَّالًا فَخَدَعَهُ , فَقَالَ: انْطَلِقْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ , عَسَى أَنْ يَنْزِلَ فِيكَ قُرْآنٌ , فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ , فَلَمَّا عَضَّتْهُ مَسُّ الْحِجَارَةِ انْطَلَقَ يَسْعَى , فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ بِلَحْيِ جَزُورٍ , أَوْ سَاقِ بَعِيرٍ , فَضَرَبَهُ بِهِ فَصَرَعَهُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْلَكَ يَا هَزَّالُ لَوْ كُنْتَ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ , كَانَ خَيْرًا لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم بن ہزال کہتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ میرے والد کے یہاں نوکری کرتے تھے والد کی ایک باندی تھی جس کا نام فاطمہ تھا، وہ ان کی بکریاں چرایا کرتی تھی، ماعز اس کے ساتھ ملوث ہوگئے میرے والد نے ان سے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ بتاؤ شاید تمہارے متعلق قرآن میں کوئی حکم نازل ہوجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے رجم کردیا جائے۔ چنانچہ لوگ اسے " حرہ " کی طرف لے گئے جب ماعز کو رجم کیا جانے لگا اور انہیں پتھر پڑے تو اس کی تکلیف محسوس کر کے وہ تیزی سے بھاگ کھڑے ہوئے لوگ انہیں پکڑنے سے عاجز آگئے تو اچانک عبداللہ بن انیس مل گئے انہوں نے اونٹ کی ایک ہڈی انہیں کھینچ کر دے ماری جس سے وہ جاں بحق ہوگئے، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟ شاید وہ توبہ کرلیتا اور اللہ اس کی توبہ کو قبول کرلیتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے والد سے فرمایا ہزال! بخدا! اگر تم اسے اپنے کپڑوں میں چھپالیتے تو یہ اس سے بہتر ہوتا جو تم نے اس کے ساتھ کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21891]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
← پچھلی حدیث (21890) باب پر واپس اگلی حدیث (21892) →