بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 21233 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، الْحَسَنِ ، عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ رَجُلًا اعْتَزَى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَعَضَّهُ، وَلَمْ يُكَنِّهِ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: إِنِّي قَدْ أَرَى الَّذِي فِي أَنْفُسِكُمْ، إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا أَنْ أَقُولَ هَذَا، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَنَا إِذَا سَمِعْتُمْ مَنْ يَعْتَزِي بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ، وَلَا تَكْنُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عتی بن ضمرہ سعدی کے ایک آدمی نے کسی کی طرف اپنی جھوٹی نسبت کی تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے اسے اس کے باپ کی شرمگاہ سے شرم دلائی لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ تو ایسی کھلی گفتگو نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا ہمیں اسی کا حکم دیا گیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جس آدمی کو جاہلیت کی نسبت کرتے ہوئے سنو تو اسے اس کے باپ کی شرمگاہ سے شرم دلاؤ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21233]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد صالح للمتابعات والشواهد لأجل عتي بن ضمرة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد صالح للمتابعات والشواهد لأجل عتي بن ضمرة
حدیث نمبر: 21234 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَوْفٌ ، الْحَسَنِ ، عُتَيٍّ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا تَعَزَّى عِنْدَ أُبَيٍّ بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ، افْتَخَرَ بِأَبِيهِ، فَأَعَضَّهُ بِأَبِيهِ وَلَمْ يُكَنِّهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَمَا إِنِّي قَدْ أَرَى الَّذِي فِي أَنْفُسِكُمْ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ إِلَّا ذَلِكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ وَلَا تَكْنُوا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عتی بن ضمرہ سعدی کے ایک آدمی نے کسی کی طرف اپنی جھوٹی نسبت کی تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے اسے اس کے باپ کی شرمگاہ سے شرم دلائی لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ تو ایسی کھلی گفتگو نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا ہمیں اسی کا حکم دیا گیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جس آدمی کو جاہلیت کی نسبت کرتے ہوئے سنو تو اسے اس کے باپ کی شرمگاہ سے شرم دلاؤ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21234]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد صالح للمتابعات والشواهد لأجل عتي بن ضمرة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد صالح للمتابعات والشواهد لأجل عتي بن ضمرة
حدیث نمبر: 21235 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَوْفٍ ، الْحَسَنِ ، عُتَيٍّ ، أُبَيٍّ
حَدَّثَنَا عَبْد الله، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، عَنْ أُبَيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
عتی بن ضمرہ سعدی کے ایک آدمی نے کسی کی طرف اپنی جھوٹی نسبت کی۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا انہوں نے فرمایا ہمیں اسی کا حکم دیا گیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جس آدمی کو جاہلیت کی نسبت کرتے ہوئے سنو تو اسے اس کے باپ کی شرمگاہ سے شرم دلاؤ۔
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21235]
حکم دارالسلام
حديث حسن، راجع ما قبله
الحكم: حديث حسن، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 21236 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، عُتَيٍّ ، أُبَيٌّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، أَنَّ رَجُلًا تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ أُبَيٌّ كُنَّا نُؤْمَرُ" إِذَا الرَّجُلُ تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَعِضُّوهُ بِهَنِ أَبِيهِ وَلَا تَكْنُوا"..
حکم دارالسلام
حديث حسن، راجع ما قبله
الحكم: حديث حسن، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 21237 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، عُتَيٍّ ، أُبَيٌّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، قَالَ: قَالَ أُبَيٌّ كُنَّا نُؤْمَرُ" إِذَا اعْتَزَى رَجُلٌ"، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
حديث حسن، راجع ما قبله
الحكم: حديث حسن، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 21238 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى الْعَنَزِيُّ ، أَبُو دَاوُدَ ، خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، عُتَيٍّ ، أُبَيٍّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، عَنْ أُبَيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِلْوُضُوءِ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ: الْوَلَهَانُ، فَاتَّقُوهُ أَوْ قَالَ: فَاحْذَرُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وضو کا بھی شیطان ہوتا ہے جسے " ولہان " کہا جاتا ہے اس سے بچتے رہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21238]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا العلل
الحكم: إسناده ضعيف جدا العلل
حدیث نمبر: 21239 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ ، أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ، سُفْيَانُ ، يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، عُتَيٍّ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ جُعِلَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا، وَإِنْ قَزَّحَهُ، وَمَلَّحَهُ، فَانْظُرُوا إِلَى مَا يَصِيرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابن آدم کا کھانا ہی دنیا کی مثال قرار دیا گیا ہے کہ اس میں جتنے مرضی نمک مصالحے ڈال لو یہ دیکھو کہ اس کا انجام کیا ہوگا؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21239]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد صالح للمتابعات والشواهد لأجل عتي بن ضمرة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد صالح للمتابعات والشواهد لأجل عتي بن ضمرة
حدیث نمبر: 21240 مسند احمد
هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، عُتَيٍّ ، أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يَتَكَلَّمُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَذَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، فَقَالَ: إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ، قَالَ: لِبَنِيهِ أَيْ بَنِيَّ إِنِّي أَشْتَهِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، فَذَهَبُوا يَطْلُبُونَ لَهُ، فَاسْتَقْبَلَتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَمَعَهُمْ أَكْفَانُهُ وَحَنُوطُهُ، وَمَعَهُمْ الْفُئُوسُ وَالْمَسَاحِي وَالْمَكَاتِلُ، فَقَالُوا لَهُمْ: يَا بَنِي آدَمَ، مَا تُرِيدُونَ وَمَا تَطْلُبُونَ أَوْ مَا تُرِيدُونَ وَأَيْنَ تَذْهَبُونَ؟ قَالُوا: أَبُونَا مَرِيضٌ، فَاشْتَهَى مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، قَالُوا: لَهُمْ ارْجِعُوا فَقَدْ قُضِيَ قَضَاءُ أَبِيكُمْ، فَجَاءوا فَلَمَّا رَأَتْهُمْ حَوَّاءُ عَرَفَتْهُمْ، فَلَاذَتْ بِآدَمَ، فَقَالَ: إِلَيْكِ عَنِّي فَإِنِّي إِنَّمَا أُوتِيتُ مِنْ قِبَلِكِ، خَلِّي بَيْنِي وَبَيْنَ مَلَائِكَةِ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَقَبَضُوهُ، وَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ، وَحَفَرُوا لَهُ وَأَلْحَدُوا لَهُ، وَصَلَّوْا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلُوا قَبْرَهُ فَوَضَعُوهُ فِي قَبْرِهِ وَوَضَعُوا عَلَيْهِ اللَّبِنَ، ثُمَّ خَرَجُوا مِنَ الْقَبْرِ، ثُمَّ حَثَوْا عَلَيْهِ التُّرَابَ، ثُمّ قَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ هَذِهِ سُنَّتُكُمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عتی کہتے ہیں کہ میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ کو گفتگو کرتے ہوئے دیکھا تو لوگوں سے ان کے متعلق پوچھا (یہ کون ہیں) لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے فرمایا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کے دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے فرمایا بچو! میرا دل جنت کا پھل کھانے کی خواہش کر رہا ہے چنانچہ ان کے بیٹے جنتی پھل کی تلاش میں نکل گئے سامنے سے فرشتے آتے ہوئے دکھائی دیئے ان کے ساتھ کفن اور حنوط تھی اور ان کے ہاتھوں میں کلہاڑیاں، پھاوڑے اور کسیاں بھی تھیں فرشتوں نے ان سے پوچھا کہ اے اولاد آدم کہاں کا ارادہ ہے اور کس چیز کو تلاش کر رہے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے والد بیمار ہیں اور ان کا دل جنتی پھل کھانے کو چاہ رہا ہے فرشتوں نے ان سے کہا کہ واپس چلے جاؤ کہ تمہارے والد کا وقت آخر قریب آگیا ہے۔ فرشتے جب حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پہنچے تو حضرت حواء (علیہا السلام) انہیں دیکھتے ہی پہچان گئیں اور حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ چمٹ گئیں حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا پیچھے ہٹو تمہاری ہی وجہ سے میرے ساتھ یہ معاملات پیش آئے میرا اور میرے رب کے فرشتوں کا راستہ چھوڑ دو چنانچہ فرشتوں نے ان کی روح قبض کرلی انہیں غسل دیا کفن پہنایا، حنوط لگائی گڑھا کھود کر قبر تیار کی ان کی نماز جنازہ پڑھی پھر قبر میں اتر کر انہیں قبر میں لٹایا اور اس پر کچی اینٹیں برابر کردیں پھر قبر سے باہر نکل کر ان پر مٹی ڈالنے لگے اور اس کے بعد کہنے لگے اے بنی آدم! یہ ہے مردوں کو دفن کرنے کا طریقہ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21240]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وقد تفرد به عتي بن ضمرة، ومثله يضعف فيما يتفرد به، والحديث هنا موقوف، وقد اختلف فى رفعه ووقفه
الحكم: إسناده ضعيف، وقد تفرد به عتي بن ضمرة، ومثله يضعف فيما يتفرد به، والحديث هنا موقوف، وقد اختلف فى رفعه ووقفه