مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، الْحَسَنِ ، عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ رَجُلًا اعْتَزَى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَعَضَّهُ، وَلَمْ يُكَنِّهِ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: إِنِّي قَدْ أَرَى الَّذِي فِي أَنْفُسِكُمْ، إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا أَنْ أَقُولَ هَذَا، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَنَا إِذَا سَمِعْتُمْ مَنْ يَعْتَزِي بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ، وَلَا تَكْنُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عتی بن ضمرہ سعدی کے ایک آدمی نے کسی کی طرف اپنی جھوٹی نسبت کی تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے اسے اس کے باپ کی شرمگاہ سے شرم دلائی لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ تو ایسی کھلی گفتگو نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا ہمیں اسی کا حکم دیا گیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جس آدمی کو جاہلیت کی نسبت کرتے ہوئے سنو تو اسے اس کے باپ کی شرمگاہ سے شرم دلاؤ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21233]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد صالح للمتابعات والشواهد لأجل عتي بن ضمرة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد صالح للمتابعات والشواهد لأجل عتي بن ضمرة