عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، دَاوُدُ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، زِيَادٍ الْأَنْصَارِيِّ ، لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ زِيَادٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : لَوْ مِتْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُنَّ، كَانَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ؟ قَالَ: وَمَا يُحَرِّمُ ذَاكَ عَلَيْهِ؟ قَالَ: قُلْتُ لِقَوْلِهِ: لا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ سورة الأحزاب آية 52، قَالَ: إِنَّمَا أُحِلَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرْبٌ مِنَ النِّسَاءِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد انصاری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ساری ازواج مطہرات کا انتقال ہوجاتا تو کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے دوسری شادی کرنا جائز ہوتا؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے حرام کس نے کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آپ کے لئے اس کے بعد کسی عورت سے نکاح حلال نہیں ہے انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کئی قسم کی عورتیں حلال کی گئی تھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21208]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة زياد الأنصاري، ومحمد بن أبى موسى
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة زياد الأنصاري، ومحمد بن أبى موسى