بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 31
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 21201 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أُبَيٍّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا، وَيُفْرَغَ مِنْهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ، وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا، فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَهُوَ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِهِ مِنْ أُحُدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ میں شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملے گا اور جو شخص دفن ہونے تک جنازے کے ساتھ رہے تو اسے دو قیراط ثواب ملے گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے وہ ایک قیراط میزان عمل میں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21201]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
حدیث نمبر: 21202 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ، قَالَ فَقَرَأَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ سورة البينة آية 1"، قَالَ: فَقَرَأَ فِيهَا" وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا، ولو سَأْلَ ثَانيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ، وَإِنَّ ذَلِكَ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ، غَيْرُ الْمُشْرِكَةِ، وَلَا الْيَهُودِيَّةِ، وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ، وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا، فَلَنْ يُكْفَرَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت البینہ پڑھ کر سنائی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں اگر ابن آدم مال کی ایک وادی مانگے اور وہ اسے دے دی جائے تو وہ دوسری کا سوال کرے گا اور اگر دوسری کا سوال کرنے پر وہ بھی مل جائے تو تیسری کا سوال کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کا علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللہ اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور یہ دین اللہ کے نزدیک " حنیفیت " کا نام ہے جس میں شرک، یہودیت یا عیسائیت قطعًا نہیں ہے اور جو شخص نیکی کا کوئی بھی کام کرے گا اس کا انکار ہرگز نہیں کیا جائے گا، (بعد میں یہ آیات منسوخ ہوگئیں) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21202]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21203 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، سَلَمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، زِرٍّ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ"، قَالَ: فَقَرَأَ عَلَيَّ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ سورة البينة آية 1 - 4،" إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ، غَيْرُ الْمُشْرِكَةِ، وَلَا الْيَهُودِيَّةِ، وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ، وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا، فَلَنْ يُكْفَرَهُ"، قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ قَرَأَ آيَاتٍ بَعْدَهَا، ثُمَّ قَرَأَ" لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ، لَسَأَلَ وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ"، قَالَ: ثُمَّ خَتَمَهَا بِمَا بَقِيَ مِنْهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت البینہ پڑھ کر سنائی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں اگر ابن آدم مال کی ایک وادی مانگے اور وہ اسے دے دی جائے تو وہ دوسری کا سوال کرے گا اور اگر دوسری کا سوال کرنے پر وہ بھی مل جائے تو تیسری کا سوال کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کا علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللہ اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور یہ دین اللہ کے نزدیک " حنیفیت " کا نام ہے جس میں شرک، یہودیت یا عیسائیت قطعًا نہیں ہے اور جو شخص نیکی کا کوئی بھی کام کرے گا اس کا انکار ہرگز نہیں کیا جائے گا، (بعد میں یہ آیات منسوخ ہوگئیں) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21203]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21204 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، زَائِدَةَ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، أُبَيٍّ ، أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، زَائِدَةُ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، أُبَيٍّ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيٍّ ، قَالَ: لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ: " إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيِّينَ، فِيهِمْ الشَّيْخُ الْعَاصِي، وَالْعَجُوزَةُ الْكَبِيرَةُ، وَالْغُلَامُ" قَالَ: فَمُرْهُمْ، فَلْيَقْرَءُوا الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيٍّ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ، وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ: عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مقام " احجازالمراء " میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ مجھے ایک ایسی امت کی طرف مبعوث کیا گیا ہے جو امی ہے اس میں انتہائی بوڑھے مرد و عورت بھی ہیں اور غلام بھی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ آپ نے انہیں حکم دیجئے کہ وہ قرآن کریم کو سات حروف پر پڑھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21204]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21205 مسند احمد
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ أُبَيٍّ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ: عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21206 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كَمْ تَقْرَءُونَ سُورَةَ الْأَحْزَابِ؟ قَالَ: بِضْعًا وَسَبْعِينَ آيَةً، قَالَ: لَقَدْ قَرَأْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ الْبَقَرَةِ، أَوْ أَكْثَرَ مِنْهَا، وَإِنَّ فِيهَا آيَةَ الرَّجْمِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم لوگ سورت احزاب کی کتنی آیتیں پڑھتے ہو؟ زر نے جواب دیا کہ ستر سے کچھ زائد آیتیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سورت جب پڑھی تھی تو یہ سورت بقرہ کے برابر یا اس سے بھی زیادہ تھی اور اس میں آیت رجم بھی تھی (کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد و عورت بدکاری کا ارتکاب کریں تو انہیں لازماً رجم کردو یہ سزا ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21206]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 21207 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، زِرٍّ ، أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : كَأَيِّنْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْأَحْزَابِ؟ أَوْ كَأَيِّنْ تَعُدُّهَا؟ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ آيَةً، فَقَالَ: قَطُّ، لَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَتُعَادِلُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، وَلَقَدْ قَرَأْنَا فِيهَا" الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم لوگ سورت احزاب کی کتنی آیتیں پڑھتے ہو؟ زر نے جواب دیا کہ ستر سے کچھ زائد آیتیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سورت جب پڑھی تھی تو یہ سورت بقرہ کے برابر یا اس سے بھی زیادہ تھی اور اس میں آیت رجم بھی تھی (کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد و عورت بدکاری کا ارتکاب کریں تو انہیں لازماً رجم کردو یہ سزا ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21207]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عاصم بن بهدلة له أوهام بسبب سوء حفظه، فلا يحتمل تفرده بمثل هذا المتن
الحكم: إسناده ضعيف، عاصم بن بهدلة له أوهام بسبب سوء حفظه، فلا يحتمل تفرده بمثل هذا المتن
حدیث نمبر: 21208 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، دَاوُدُ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، زِيَادٍ الْأَنْصَارِيِّ ، لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ زِيَادٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : لَوْ مِتْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُنَّ، كَانَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ؟ قَالَ: وَمَا يُحَرِّمُ ذَاكَ عَلَيْهِ؟ قَالَ: قُلْتُ لِقَوْلِهِ: لا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ سورة الأحزاب آية 52، قَالَ: إِنَّمَا أُحِلَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرْبٌ مِنَ النِّسَاءِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد انصاری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ساری ازواج مطہرات کا انتقال ہوجاتا تو کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے دوسری شادی کرنا جائز ہوتا؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے حرام کس نے کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آپ کے لئے اس کے بعد کسی عورت سے نکاح حلال نہیں ہے انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کئی قسم کی عورتیں حلال کی گئی تھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21208]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة زياد الأنصاري، ومحمد بن أبى موسى
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة زياد الأنصاري، ومحمد بن أبى موسى
حدیث نمبر: 21209 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، بِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْد الله، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَنَا بِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ أَبَا الْمُنْذِرِ، اخْفِضْ لِي جَنَاحَكَ وَكَانَ امْرَأً فِيهِ شَرَاسَةٌ فَسَأَلْتُهُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، قُلْتُ أَبَا الْمُنْذِرِ: أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَتِهَا مِثْلَ الطَّسْتِ لَا شُعَاعَ لَهَا، حَتَّى تَرْتَفِعَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا مسجد نبوی میں داخل ہوا تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی میں نے عرض کیا اے ابو المنذر! اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں مجھ پر شفقت فرمائیے دراصل آپ کے مزاج میں تھوڑی سی سختی تھی، میں نے ان سے شب قدر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ستائیسویں شب کو قرار دیا میں نے عرض کیا کیا (اے ابوالمنذر!) آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟ فرمایا اس علامت سے جو ہمیں بتائی گئی ہے کہ اس رات کی صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21209]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21210 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أُبَيٍّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد الله، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، قَالَ: " لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا شب قدر ستائیسویں رات ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21210]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21211 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد الله، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ أَخُو الْفُرَاتِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: " لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ لِثَلَاثٍ يَبْقَيْنَ"، وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا شب قدر ستائیسویں رات ہوتی ہے جبکہ تین راتیں باقی رہ جاتی ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21211]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 762، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الحجاج بن أبى الفرات، لكنه توبع
الحكم: صحيح، م: 762، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الحجاج بن أبى الفرات، لكنه توبع