بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 31
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 21181 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، لِأُبَيٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيٍّ ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ: فِي الْمُعَوِّذَتَيْنِ، فَقَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا، فَقَالَ:" قِيلَ لِي، فَقُلْتُ: فَأَنَا أَقُولُ كَمَا قَالَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ معوذتین کے متعلق کہتے ہیں (کہ یہ قرآن کا حصہ نہیں ہیں اسی لئے وہ انہیں اپنے نسخے میں نہیں لکھتے؟) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان سورتوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ ("" قل "" کہہ دیجئے) لہٰذا میں کہہ دیتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو چیز کہی ہے وہ میں بھی کہتا ہوں۔
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے معوذتین کے متعلق پوچھا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان سورتوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ ("" قل "" کہہ دیجئے) لہٰذا میں کہہ دیتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو چیز کہی ہے وہ ہم بھی کہتے ہیں۔
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے معوذتین کے متعلق پوچھا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان سورتوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ ("" قل "" کہہ دیجئے) لہٰذا میں کہہ دیتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو چیز کہی ہے وہ ہم بھی کہتے ہیں۔
گزشتہ حدیث اس دوسری سند بھی مروی ہے۔
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے معوذتین کے متعلق پوچھا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان سورتوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ ("" قل "" کہہ دیجئے) لہٰذا میں کہہ دیتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو چیز کہی ہے وہ ہم بھی کہتے ہیں۔
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ معوذتین کے متعلق کہتے ہیں (کہ یہ قرآن کا حصہ نہیں ہیں اسی لئے وہ انہیں اپنے نسخے میں نہیں لکھتے؟) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان سورتوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ ( «قل» کہہ دیجئے) لہٰذا میں کہہ دیتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو چیز کہی ہے وہ ہم بھی کہتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21181]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21182 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ، فَقَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا، فَقَالَ:" قِيلَ لِي، فَقُلْتُ لَكُمْ، فَقُولُوا"، قَالَ أُبَيٌّ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَحْنُ نَقُولُ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21182]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21183 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُعَوِّذَتَيْنِ، فَقَالَ:" قِيلَ لِي، فَقُلْتُ" قَالَ أُبَيٌّ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَحْنُ نَقُولُ..
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21184 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، أَبِي رَزِينٍ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، بِمِثْلِهِ..
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21185 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، زِرٍّ ، أُبَيًّا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: سَأَلْتُ أُبَيًّا عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ، فَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ عَنْهُمَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَقِيلَ لِي، فَقُلْتُ" فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَحْنُ نَقُولُ..
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21186 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ لَا يَكْتُبُ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي مُصْحَفِهِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ، قَالَ لَهُ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ سورة الفلق آية 1، فَقُلْتُهَا، فَقَالَ: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ سورة الناس آية 1، فَقُلْتُهَا، فَنَحْنُ نَقُولُ: مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21187 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، أُبَيٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21188 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَشْكَابٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشِ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَشْكَابٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَحُكُّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ مِنْ مَصَاحِفِهِ، وَيَقُولُ: إِنَّهُمَا لَيْسَتَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ الْأَعْمَشُ وَحَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا عَنْهُمَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قِيلَ لِي، فَقُلْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ معوذتین کے متعلق کہتے ہیں (کہ یہ قرآن کا حصہ نہیں ہیں اسی لئے وہ انہیں اپنے نسخے میں نہیں لکھتے؟) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان سورتوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ (" قل " کہہ دیجئے) لہٰذا میں کہہ دیتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو چیز کہی ہے وہ ہم بھی کہتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21188]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21189 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدةَ ، وَعَاصِمٍ ، زِرٍّ ، لِأُبَيٍّ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدةَ ، وَعَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيٍّ ، إِنَّ أَخَاكَ يَحُكُّهُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ، قِيلَ لِسُفْيَانَ ابْنِ مَسْعُودٍ؟ فَلَمْ يُنْكِرْ، قَالَ: سَألتُ رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " قِيلَ لِي، فَقُلْتُ" فَنحن نَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ سُفْيَان يُحُكُّهُمَا المَعُوذِّتين، وَلَيْسَا فِي مُصْحَفِ ابْنِ مَسْعُودٍ، كَانَ يَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهِمَا الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ يَقْرَؤُهُمَا فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ، فَظَنَّ أَنَّهُمَا عُوذَتَانِ، وَأَصَرَّ عَلَى ظَنِّهِ، وَتَحَقَّقَ الْبَاقُونَ كَوْنَهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ، فَأَوْدَعُوهُمَا إِيَّاهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ معوذتین کے متعلق کہتے ہیں (کہ یہ قرآن کا حصہ نہیں ہیں اسی لئے وہ انہیں اپنے نسخے میں نہیں لکھتے؟) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان سورتوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ (" قل " کہہ دیجئے) لہٰذا میں کہہ دیتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو چیز کہی ہے وہ ہم بھی کہتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21189]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21190 مسند احمد
مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، الْأَجْلَحُ ، الشَّعْبِيِّ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: تَذَاكَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ أُبَيٌّ: " أَنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ أَعْلَمُ أَيُّ لَيْلَةٍ هِيَ، هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَخْبَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ تَمْضِي مِنْ رَمَضَانَ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ الشَّمْسَ تُصْبِحُ الْغَدَ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ تَرَقْرَقُ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ، فَزَعَمَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ أَنَّ زِرًّا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَصَدَهَا ثَلَاثَ سِنِينَ، مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ يَدْخُلُ رَمَضَانُ إِلَى آخِرِهِ، فَرَآهَا تَطْلُعُ صَبِيحَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، تَرَقْرَقُ، لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شب قدر کا ذکر کرنے لگے تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس رات کے متعلق سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس حوالے سے جس رات کی خبر دی ہے وہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس رات کے گذرنے کے بعد اگلے دن جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ گھومتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ زر کے بقول وہ تین سال سے مسلسل ماہ رمضان کے آغاز سے لے کر اختتام تک اسے تلاش کر رہے ہیں انہوں نے ہمیشہ سورج کو اس کیفیت کے ساتھ ستائیسویں شب کی صبح کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21190]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 792، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل مصعب والأجلح، فهما ضعيفان يعتبر بهما، لكنهما قد توبعا
الحكم: حديث صحيح، م: 792، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل مصعب والأجلح، فهما ضعيفان يعتبر بهما، لكنهما قد توبعا
حدیث نمبر: 21191 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، الْأَجْلَحِ ، الشَّعْبِيِّ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ إِدْرِيسَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَجْلَحِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، يَقُولُ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ هِيَ الَّتِي أَخْبَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْضَاءَ تَرَقْرَقُ" ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الله 22، وحَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ بِإِسْنَادِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِيهِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس حوالے سے جس رات کی خبر دی ہے وہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس رات کے گذرنے کے بعد اگلے دن سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ گھومتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21191]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 792، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل الأجلح لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 792، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل الأجلح لكنه توبع
حدیث نمبر: 21192 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله وحَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ بِإِسْنَادِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 792، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل الأجلح، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 792، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل الأجلح، لكنه توبع
حدیث نمبر: 21193 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدَةَ ، وَعَاصِمٍ ، زِرٍّ ، أُبَيًّا
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدَةَ ، وَعَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: سَأَلْتُ أُبَيًّا ، قُلْتُ: أَبَا الْمُنْذِرِ، إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ، يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ! فَقَالَ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ، لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، قَالَ: وَحَلَفَ، قُلْتُ: وَكَيْفَ تَعْلَمُونَ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أُخْبِرْنَا بِهَا أَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ ذَلِكَ الْيَوْمَ لَا شُعَاعَ لَهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص سارا سال قیام کرے وہ شب قدر پاسکتا ہے؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں وہ جانتے ہیں کہ شب قدر ماہ رمضان میں ہوتی ہے اور اس کی بھی ستائیسویں شب ہوتی ہے (لیکن وہ لوگوں سے اسے مخفی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس پر بھروسہ کرکے نہ بیٹھ جائیں) پھر انہوں نے اس بات پر قسم کھائی (کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کتاب نازل کی شب قدر ماہ رمضان کی ستائیسویں شب ہوتی ہے) میں نے عرض کیا (اے ابو المنذر!) آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟ فرمایا اس علامت سے جو ہمیں بتائی گئی ہے کہ اس رات کی صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21193]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 762
الحكم: إسناده صحيح، م: 762
حدیث نمبر: 21194 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، لِأُبَيٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيٍّ : أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَإِنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ كَانَ يَقُولُ: مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ، يُصِبْهَا! قَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَأَنَّهَا لِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ، وَلَكِنَّهُ عَمَّى عَلَى النَّاسِ لِكَيْ لَا يَتَّكِلُوا، فَوَاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى مُحَمَّدٍ، إِنَّهَا فِي رَمَضَانَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، وَأَنَّى عَلِمْتَهَا؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي أَنْبَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا، فَوَاللَّهِ إِنَّهَا لَهِيَ مَا يُسْتَثْنَى، قُلْتُ لِزِرٍّ مَا الْآيَةُ؟ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ غَدَاةَ إِذٍ كَأَنَّهَا طَسْتٌ، لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے شب قدر کے متعلق بتائیے کیونکہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص سارا سال قیام کرے وہ شب قدر پاسکتا ہے؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں وہ جانتے ہیں کہ شب قدر ماہ رمضان میں ہوتی ہے اور اس کی بھی ستائیسویں شب ہوتی ہے لیکن وہ لوگوں سے اسے مخفی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں پھر انہوں نے اس بات پر قسم کھائی کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کتاب نازل کی شب قدر ماہ رمضان کی ستائیسویں شب ہوتی ہے میں نے عرض کیا اے ابوالمنذر! آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟ فرمایا اس علامت سے جو ہمیں بتائی گئی ہے کہ اس رات کی صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21194]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 762، وهذا إسناد
الحكم: حديث صحيح، م: 762، وهذا إسناد
حدیث نمبر: 21195 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أُبَيٌّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: قَالَ أُبَيٌّ لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْثَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا، هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي صَاحِبٌ لِي بِهَا عَنْهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ واللہ شب قدر کے متعلق سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس حوالے سے جس رات کی خبر دی ہے وہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21195]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 762
الحكم: إسناده صحيح، م: 762
حدیث نمبر: 21196 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، أُبَيٌّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي: أُبَيٌّ ، إِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، وَإِنَّهَا لَهِيَ هِيَ مَا يُسْتَثْنَى بِالْآيَةِ الَّتِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَسَبْنَا وَعَدَدْنَا، فَإِنَّهَا لَهِيَ هِيَ مَا يُسْتَثْنَى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شب قدر ماہ رمضان کی ستائیسویں شب ہوتی ہے اس علامت سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے ہم نے اس کا حساب لگایا اور اسے شمار کیا تو یہ وہی رات تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21196]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21197 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : أَبَا الْمُنْذِرِ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَإِنَّ صَاحِبَنَا يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا، قَالَ: مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ، يُصِبْهَا، فَقَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَلَكِنْ أَحَبَّ أَنْ لَا يَتَّكِلُوا، وَإِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ لَمْ يَسْتَثْنِ، قُلْتُ أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُبِيْحَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ تَطْلُعُ الشَّمْسُ لَا شُعَاعَ لَهَا كَأَنَّهَا طَسْتٌ حَتَّى تَرْتَفِعَ"، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقَدَّمِيِّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَبَا الْمُنْذِرِ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے شب قدر کے متعلق بتائیے کیونکہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص سارا سال قیام کرے وہ شب قدر پاسکتا ہے؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں وہ جانتے ہیں کہ شب قدر ماہ رمضان میں ہوتی ہے اور اس کی بھی ستائیسویں شب ہوتی ہے لیکن وہ لوگوں سے اسے مخفی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں پھر انہوں نے اس بات پر قسم کھائی کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کتاب نازل کی شب قدر ماہ رمضان کی ستائیسویں شب ہوتی ہے میں نے عرض کیا اے ابو المنذر! آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟ فرمایا اس علامت سے جو ہمیں بتائی گئی ہے کہ اس رات کی صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21197]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21198 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَبَا الْمُنْذِرِ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21199 مسند احمد
أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، يَقُولُ: لَوْلَا سُفَهَاؤُكُمْ، لَوَضَعْتُ يَدَيَّ فِي أُذُنَيَّ، ثُمَّ نَادَيْتُ أَلَا إِنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي رَمَضَانَ، فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، قَبْلَهَا ثَلَاثٌ، وَبَعْدَهَا ثَلَاثٌ، نَبَأُ مَنْ لَمْ يَكْذِبْنِي، عَنْ نَبَإِ مَنْ لَمْ يَكْذِبْهُ، قُلْتُ لِأَبِي يُوسُفَ يَعْنِي أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كَذَا هُوَ عِنْدِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ اگر بیوقوف لوگ نہ ہوتے تو میں اپنے ہاتھ اپنے کانوں پر رکھ یہ منادی کردیتا کہ شب قدر ماہ رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے آخری سات راتوں میں خواہ پہلی تین راتیں ہوں یا بعد کی یہ اس شخص کی خبر ہے جس نے مجھ سے جھوٹ نہیں بولا اس شخص کے حوالے سے ہے جس سے بیان کرنے والے نے جھوٹ نہیں بولا (مراد حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21199]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال يزيد بن أبى سليمان
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال يزيد بن أبى سليمان
حدیث نمبر: 21200 مسند احمد
الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَاصِمٍ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، لِأُبَيٍّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّه، أَنَّهُ قَالَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَأَرَدْتُ لُقِيَّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، قَالَ عَاصِمٌ فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ لَزِمَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَزَعَمَ أَنَّهُمَا كَانَا يَقُومَانِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَيَرْكَعَانِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، قَالَ: فَقُلْتُ لِأُبَيٍّ : وَكَانَتْ فِيهِ شَرَاسَةٌ اخْفِضْ لَنَا جَنَاحَكَ رَحِمَكَ اللَّهُ، فَإِنِّي إِنَّمَا أَتَمَتَّعُ مِنْكَ تَمَتُّعًا، فَقَالَ: تُرِيدُ أَنْ لَا تَدَعَ آيَةً فِي الْقُرْآنِ إِلَّا سَأَلْتَنِي عَنْهَا!، قَالَ: وَكَانَ لِي صَاحِبَ صِدْقٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَإِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَلَكِنَّهُ عَمَّى عَلَى النَّاسِ لِكَيْلَا يَتَّكِلُوا، وَاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى مُحَمَّدٍ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ، وَإِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي أَنْبَأَنَا بِهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا، فَوَاللَّهِ إِنَّهَا لَهِيَ مَا يُسْتَثْنَى، قَالَ: فَقُلْتُ: وَمَا الْآيَةُ؟ فَقَالَ: " إِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ حَتَّى تَرْتَفِعَ"، وَكَانَ عَاصِمٌ لَيْلَتَئِذٍ مِنَ السَّحَرِ لَا يَطْعَمُ طَعَامًا، حَتَّى إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ، صَعِدَ عَلَى الصَّوْمَعَةِ، فَنَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ حِينَ تَطْلُعُ لَا شُعَاعَ لَهَا، حَتَّى تَبْيَضَّ وَتَرْتَفِعَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جو شخص سارا سال قیام کرے وہ شب قدر پاسکتا ہے؟ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میرا ارادہ تھا کہ مہاجرین و انصار میں سے کسی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ سے ملوں چنانچہ میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ چمٹا رہا یہ دونوں حضرات غروب آفتاب کے بعد اٹھتے اور مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے حضرت ابی رضی اللہ عنہ کے مزاج میں تھوڑی سی سختی تھی، میں نے ان سے کہا کہ اللہ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں میرے ساتھ شفقت کیجئے میں آپ سے کچھ فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ قرآن کریم کی کوئی آیت نہ چھوڑو گے جس کے متعلق مجھ سے پوچھ نہ لو؟ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص سارے سال قیام کرے وہ شب قدر کو پاسکتا ہے؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں وہ جانتے ہیں کہ شب قدر ماہ رمضان میں ہوتی ہے اور اس کی بھی ستائیسویں شب ہوتی ہے لیکن وہ لوگوں سے اسے مخفی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں پھر انہوں نے اس بات پر قسم کھائی کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کتاب نازل کی شب قدر ماہ رمضان کی ستائیسویں شب ہوتی ہے میں نے عرض کیا اے ابو المنذر! آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟ فرمایا اس علامت سے جو ہمیں بتائی گئی ہے کہ اس رات کی صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی، چنانچہ عاصم اس دن کی سحری نہیں کرتے تھے جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو چھت پر چڑھ کر سورج کو دیکھتے اس وقت اس کی شعاع نہیں ہوتی تھی یہاں تک کہ وہ روشن ہوجاتا اور بلند ہوجاتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21200]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف حماد ابن شعيب، لكنه توبع
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف حماد ابن شعيب، لكنه توبع