بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 28
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 21052 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدَ بْنَ وَهْبٍ ، خَبَّابًا
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ وَهْبٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ خَبَّابًا ، يَقُولُ:" شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّمْضَاءَ، فَلَمْ يُشْكِنَا" ، قَالَ شُعْبَةُ: يَعْنِي فِي الظُّهْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نماز ظہر کے وقت گرمی شدید ہونے کی شکایت بارگاہ نبوت میں پیش کی لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شکایت کا ازالہ نہیں فرمایا (کیونکہ اوقات نماز اللہ کی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں) [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21052]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 619
الحكم: إسناده صحيح، م: 619
حدیث نمبر: 21053 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ ، شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، وَأَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ . ح وَأَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ: وَقَالَ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِيهِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: رَاقَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا حَتَّى كَانَ مَعَ الْفَجْرِ، فَلَمَا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ جَاءَهُ خَبَّابٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، لَقَدْ صَلَّيْتَ اللَّيْلَةَ صَلَاةً مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ نَحْوَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ، سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثَ خِصَالٍ فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يُهْلِكَنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَنَا، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا غَيْرَنَا، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يَلْبِسَنَا شِيَعًا، فَمَنَعَنِيهَا" ، حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْت أَبِي، يَقُولُ عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ سَمَاعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خباب رضی اللہ عنہ جو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتظار کررہا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز شروع کی تو ساری رات پڑھتے رہے حتی کہ فجر کا وقت ہوا تو اپنی نماز سے سلام پھیرا اس کے بعد خباب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آج رات تو آپ نے ایسی نماز پڑھی ہے کہ اس طرح کی نماز پڑھتے ہوئے پہلے میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ یہ ترغیب وترہیب والی نماز تھی میں نے اس نماز میں اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا تھا جن میں سے دو چیزیں اس نے مجھے دیدی اور ایک سے انکار کردیا میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ ہمیں اس طرح ہلاک نہ کرے جیسے ہم سے پہلی امتوں کو ہلاک کیا تھا اس نے میری یہ درخواست قبول کرلی پھر میں نے اسے یہ درخواست کی وہ ہم پر کسی بیرونی دشمن کو مسلط نہ کرے اس نے یہ بھی قبول کرلی پھر میں نے اپنے رب سے یہ درخواست کی کہ وہ ہمیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ کرے لیکن اس نے میری یہ درخواست قبول نہ کی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21053]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21054 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، حَارِثَةَ ، خَبَّابًا
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ ، قَالَ: أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ"، لَتَمَنَّيْتُهُ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حارثہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لئے حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے تو میں ضرور اس کی تمنا کرلیتا۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ جو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتظار کررہا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز شروع کی تو ساری رات پڑھتے رہے حتی کہ فجر کا وقت ہوا تو اپنی نماز سے سلام پھیرا اس کے بعد خباب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آج رات تو آپ نے ایسی نماز پڑھی ہے کہ۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21054]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، وقد توبع
حدیث نمبر: 21055 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ ، خَبَّابًا
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ ، أَنَّ خَبَّابًا قَالَ: رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ صَلَّاهَا حَتَّى إِذَا كَانَ مَعَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ، جَاءَهُ خَبَّابٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَقَدْ صَلَّيْتَ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ شُعْيبٍ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21056 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، خَبَّابًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا خَبَّابًا " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمِنْ أَيْنَ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ؟ قَالَ: بِتَحَرُّكِ لِحْيَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز ظہر میں قرأت کرتے تھے انہوں نے فرمایا کہ ہاں ہم نے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتا چلا تو انہوں نے کہا کہ آپ کی داڑھی مبارک ہلنے کی وجہ سے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21056]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 746
الحكم: إسناده صحيح، خ: 746
حدیث نمبر: 21057 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، خَبَّابٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ مُتَوَسِّدًا بُرْدَةً لَهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لَنَا، وَاسْتَنْصِرْهُ، قَالَ: فَاحْمَرَّ لَوْنُهُ أَوْ تَغَيَّرَ، فَقَالَ:" لَقَدْ كَانَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهُ حُفْرَةٌ، وَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ، فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ، مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ، وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ، مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ، وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ، لَا يَخْشَى إِلَّا اللَّهَ، وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ، وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے ہم نے عرض کیا یارسول اللہ اللہ سے ہماری لئے دعا کیجیے اور مدد مانگیے یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہوگیا اور فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں کے لئے دین قبول کرنے کی پاداش میں گڑھے کھودے جاتے تھے اور آرے لے کر سر پر رکھے جاتے اور ان سے سر کو چیر دیا جاتا تھا لیکن یہ چیز بھی انہیں ان کے دین سے برگشہ نہیں کرتی تھی اس طرح لوہے کی کنگھیاں لے کر جسم کی ہڈیوں کے پیچھے گوشت پٹھوں میں گاڑھی جاتی تھیں لیکن یہ تکلیف بھی انہیں ان کے دین سے برگشتہ نہیں کرتی تھی اور اللہ اس دین کو پورا کرکے رہے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء اور حضرموت کے درمیان سفر کرے گا جس میں اسے صرف خوف اللہ ہوگا یا بکری پر بھیڑیے کے حملے کا لیکن تم لوگ جلدباز ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21057]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3852
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3852
حدیث نمبر: 21058 مسند احمد
يَحْيَى ، الْأَعْمَشَ ، شَقِيقًا ، خَبَّابًا ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، خَبَّابٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَقِيقًا ، حَدَّثَنَا خَبَّابًا ، ح، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمْ نَجِدْ لَهُ شَيْئًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً، كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ،" فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ بِهَا رَأْسَهُ، وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا"، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ، فَهُوَ يَهْدِبُهَا، يَعْنِي يَجْتَنِيهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ صرف اللہ کی رضا کے لئے ہجرت کی تھی لہذا ہمارا اجر اللہ کے ذمہ ہوگا اب ہم میں سے کچھ لوگ دنیا سے چلے گئے اور اپنے اجروثواب میں سے کچھ نہ کھاسکے۔ ان ہی افراد میں حضرت مصعب بن عمیر بھی شامل ہیں جو غزوہ احد کے موقع پر شہید ہوگئے تھے اور ہمیں کوئی چیز انہیں کفنانے کے لئے نہیں مل رہی تھی صرف ایک چادر تھی جس سے ہم اس کا سر ڈھانپتے تو پاؤں کھلے رہتے اور اگر پاؤں ڈھانپتے تو سر کھلا رہ جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کا سر ڈھانپ دیں اور پاؤں پر اذخر نامی گھاس ڈال دیں اور ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کا پھل تیار ہوگیا اور وہ اسے چن رہے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21058]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3914، م: 940
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3914، م: 940
حدیث نمبر: 21059 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسٍ ، خَبَّابٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ نَعُودُهُ، وَهُوَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ، فَقَالَ: الْمُسْلِمُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ خَلَا مَا يَجْعَلُ فِي هَذَا التُّرَابِ، وَقَدْ اكْتَوَى سَبْعًا فِي بَطْنِهِ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ"، لَدَعَوْتُ بِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے وہ اپنے باغ کی تعمیر میں مصروف تھے ہمیں دیکھ کر فرمایا کہ مسلمان کو ہر چیز میں ثواب ملتا ہے سوائے اس کے جو اس مٹی میں لگاتا ہے انہوں نے سات مرتبہ اپنے پیٹ پر داغنے کا علاج کیا تھا اور کہہ رہے تھے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا مانگنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21059]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5672، م: 2681
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5672، م: 2681
حدیث نمبر: 21060 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، لِخَبَّابٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ: قُلْنَا لِخَبَّابٍ : " بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز ظہر میں قرأت کرتے تھے انہوں نے کہا ہاں۔ ہم نے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتا چلا انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ڈارھی مبارک ہلنے کی وجہ سے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21060]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 746
الحكم: إسناده صحيح، خ: 746
حدیث نمبر: 21061 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عُمَارَةَ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، خَبَّابٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: قِيلَ لَهُ" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز ظہر میں قرأت کرتے تھے انہوں نے کہا ہاں۔ ہم نے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتا چلا انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ڈارھی مبارک ہلنے کی وجہ سے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21061]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 761
الحكم: إسناده صحيح، خ: 761
حدیث نمبر: 21062 مسند احمد
وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، عُمَارَةَ
وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ ، مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 746
الحكم: إسناده صحيح، خ: 746
حدیث نمبر: 21063 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، خَبَّابٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: " شَكَوْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِدَّةَ الرَّمْضَاءِ، فَمَا أَشْكَانَا" ، يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فَلَمْ يُشْكِنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نماز ظہر کے وقت گرمی شدید ہونے کی شکایت بارگاہ نبوت میں پیش کی لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ازالہ نہ فرمایا (کیونکہ نماز کے اوقات اللہ کی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں) [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21063]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 619
الحكم: إسناده صحيح، م: 619
حدیث نمبر: 21064 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، رَجُلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ كَانَ مَعَ الْخَوَارِجِ ثُمَّ فَارَقَهُمْ، قَالَ: دَخَلُوا قَرْيَةً، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ ذَعِرًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَقَالُوا: لَمْ تُرَعْ؟ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ رُعْتُمُونِي، قَالُوا: أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ حَدِيثًا يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحَدِّثُنَاهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ " فِتْنَةً الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي"، قَالَ:" فَإِنْ أَدْرَكْتَ ذَاكَ، فَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ"، قَالَ أَيُّوبُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ:" وَلَا تَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ"، قَالُوا: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِيكَ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَدَّمُوهُ عَلَى ضَفَّةِ النَّهَرِ، فَضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَسَالَ دَمُهُ كَأَنَّهُ شِرَاكُ نَعْلٍ مَا ابْذَقَرَّ، وَبَقَرُوا أُمَّ وَلَدِهِ عَمَّا فِي بَطْنِهَا ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالقیس کے ایک آدمی جو خوارج کے ساتھ تھا پھر ان سے جدا ہوگیا کہتا کہ خوارج ایک بستی میں داخل ہوئے تو وہاں سے حضرت عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ گھبرا کر اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے خوارج نے ان سے کہا آپ مت گبھرائیں انہوں نے فرمایا کہ واللہ تم نے مجھے ڈرادیا خوارج نے پوچھا کہ کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ ہیں انہوں نے فرمایا ہاں خوارج نے کہا کیا آپ نے اپنے والد سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنی ہے جو آپ ہمیں سنائیں انہوں نے فرمایا کہ ہاں میں نے اپنے والد کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتنوں کے دور کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس زمانے میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ اگر تم اس زمانے کو پاؤ تو اللہ کا مقتول بندہ بن جانا اللہ کا قاتل بندہ نہ بننا خوارج نے پوچھا کہ کیا آپ نے واقعی اپنے والد سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ بات سنی ہے انہوں نے فرمایا ہاں۔ چنانچہ وہ حضرت عبداللہ کو پکڑ کر نہر کے کنارے لے گئے اور وہاں لے جا کر شہید کردیا ان کا خون اس طرح بہہ رہا تھا جیسے جوتی کا وہ تسمہ جو جدا نہ ہوا ہو پھر انہوں نے ان کی ام ولد (باندی) کا پیٹ چاک کرکے اس کے بچے کو بھی مار ڈالا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21064]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إن كان الرجل المبهم الذى روى عنه حميد ثقة
الحكم: إسناده صحيح إن كان الرجل المبهم الذى روى عنه حميد ثقة
حدیث نمبر: 21065 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، سُلَيْمَانُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، بَهْزٌ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مَا امْذَقَرَّ، يَعْنِي لَمْ يَتَفَرَّقْ، وَقَالَ:" لَا تَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ"، وَكَذَلِكَ قَالَ بَهْزٌ أَيْضًا.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إن كان الرجل المبهم الذى روى عنه حميد ثقة
الحكم: إسناده صحيح إن كان الرجل المبهم الذى روى عنه حميد ثقة
حدیث نمبر: 21066 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، خَبَّابٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدْ اكْتَوَى، فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ أَحَدًا لَقِيَ مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَقِيتُ، لَقَدْ كُنْتُ وَمَا أَجِدُ دِرْهَمًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ لِي فِي نَاحِيَةِ بَيْتِي هَذَا أَرْبَعِينَ أَلْفًا، وَلَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَانَا، أَوْ نَهَى أَنْ نَتَمَنَّى الْمَوْتَ"، لَتَمَنَّيْتُهُ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حارثہ کہتے ہیں کہ میں حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لئے حاضر ہوا انہوں نے اپنے جسم کو داغا ہوا تھا مجھے دیکھ کر انہوں نے فرمایا کہ جتنی تکلیف مجھے ہے میں نہیں سمجھتا کہ کسی کو اتنی تکلیف ہوئی ہوگی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں مجھے ایک درہم نہ ملتا تھا اور اب میرے اسی گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم دفن ہیں۔ اگر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے تو میں ضرور اس کی تمنا کرلیتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21066]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21067 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، لِخَبَّابٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِخَبَّابٍ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَذَكَرَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 746
الحكم: إسناده صحيح، خ: 746
حدیث نمبر: 21068 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قَالَ خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ كُنْتُ قَيْنًا بِمَكَّةَ، فَكُنْتُ أَعْمَلُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، فَاجْتَمَعَتْ لِي عَلَيْهِ دَرَاهِمُ، فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: لَا أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: فَإِذَا بُعِثْتُ كَانَ لِي مَالٌ وَوَلَدٌ؟ قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا سورة مريم آية 77 حَتَّى بَلَغَ فَرْدًا سورة مريم آية 80 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خباب رضی اللہ عنہ بن ارت سے مروی ہے کہ میں مکہ مکرمہ میں لوہے کا کام کرتا تھا اور میں عاص بن وائل کے لئے کام کرتا تھا ایک مرتبہ اس کے ذمے میرے کچھ درہم اکٹھے ہوگئے میں اس سے ان کا تقاضا کرنے کے لے آیا تو کہنے لگا کہ میں تمہارا اس وقت تک ادا نہیں کروں گا جب تک تم محمد کا انکار نہ کردوگے میں نے کہا کہ میں تو محمد کا انکار اس وقت نہیں کروں گا اگر تم مر کر دوبارہ زندہ ہوجائے اس نے کہا جب میں دوبارہ زندہ ہوں گا تو میرے پاس مال واولاد ہوگی (اس وقت تمہارا قرض چکا دوں گا) میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس واقعہ کا تذکرہ کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے وہاں بھی مال واولاد سے نوازا جائے گا "۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21068]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2091، م: 2795
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2091، م: 2795
حدیث نمبر: 21069 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: أَتَيْنَا خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَعُودُهُ، وَقَدْ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ سَبْعًا، فَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ" لَدَعَوْتُ بِهِ، فَقَدْ طَالَ بِي مَرَضِي، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ مَضَوْا لَمْ تُنْقِصْهُمْ الدُّنْيَا شَيْئًا، وَإِنَّا أَصَبْنَا بَعْدَهُمْ مَا لَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ وَقَالَ: كَانَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ وَإِنَّ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ يُؤْجَرُ فِي نَفَقَتِهِ كُلِّهَا إِلَّا فِي شَيْءٍ يَجْعَلُهُ فِي التُّرَابِ . قَالَ: وَشَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَسْتَنْصِرُ اللَّهَ تَعَالَى لَنَا؟ فَجَلَسَ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، فَقَالَ: " وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ فَتُجْعَلُ الْمَنَاشِيرُ عَلَى رَأْسِهِ، فَيُفَرَّقُ بِفِرْقَتَيْنِ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ، حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَحَضْرَمَوْتَ، لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ، وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے وہ اپنے باغ کی تعمیر میں مصروف تھے ہمیں دیکھ کر فرمایا کہ مسلمان کو ہر چیز میں ثواب ملتا ہے سوائے اس کے جو اس مٹی میں لگاتا ہے انہوں نے سات مرتبہ اپنے پیٹ پر داغنے کا علاج کیا تھا اور کہہ رہے تھے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا مانگنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔ کیونکہ میری بیماری لمبی ہوگئی ہے اور فرمایا ہمارے وہ ساتھی جو دنیا سے چلے گئے ہیں دنیا ان کا کچھ ثواب کم نہ کرسکی اور ہمیں ان کے بعد جو کچھ ملا ہم نے اس کے لئے مٹی کے علاوہ کوئی جگہ نہ پائی۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ اللہ سے ہماری لئے دعا کیجیے اور مدد مانگیے یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہوگیا اور فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں کے لئے دین قبول کرنے کی پاداش میں گڑھے کھودے جاتے تھے اور آرے لے کر سر پر رکھے جاتے اور ان سے سر کو چیر دیا جاتا تھا لیکن یہ چیز بھی انہیں ان کے دین سے برگشہ نہیں کرتی تھی اس طرح لوہے کی کنگیاں لے کر جسم کی ہڈیوں کے پیچھے گوشت پٹھوں میں گاڑھی جاتی تھیں لیکن یہ تکلیف بھی انہیں ان کے دین سے برگشتہ نہیں کرتی تھی اور اللہ اس دین کو پورا کرکے رہے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء اور حضرموت کے درمیان سفر کرے گا جس میں اسے صرف خوف اللہ ہوگا یا بکری پر بھیڑیے کے حملے کا لیکن تم لوگ جلد باز ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21069]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3612
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3612
حدیث نمبر: 21070 مسند احمد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" لَمْ تُنْقِصْهُمْ الدُّنْيَا شَيْئًا، وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمِهِ مِنْ لَحْمٍ وَعَصَبٍ، لَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ شَيْءٌ" .
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3612
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3612
حدیث نمبر: 21071 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْفَائِشِيِّ ، بِنْتٍ لِخَبَّابٍ ، خَبَّابٌ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْفَائِشِيِّ ، عَنْ بِنْتٍ لِخَبَّابٍ ، قَالَتْ: خَرَجَ خَبَّابٌ فِي سَرِيَّةٍ،" وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَاهَدُنَا، حَتَّى كَانَ يَحْلُبُ عَنْزًا لَنَا، فَكَانَ يَحْلُبُهَا فِي جَفْنَةٍ لَنَا، فَكَانَتْ تَمْتَلِئُ حَتَّى تَطْفَحَ"، قَالَتْ: فَلَمَّا قَدِمَ خَبَّابٌ حَلَبَهَا، فَعَادَ حِلَابُهَا إِلَى مَا كَانَ، قَالَ: فَقُلْنَا لِخَبَّابٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْلُبُهَا حَتَّى تَمْتَلِئَ جَفْنَتُنَا، فَلَمَّا حَلَبْتَهَا نَقَصَ حِلَابُهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کہتی ہیں کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ ایک لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے ان کے پیچھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارا یہاں تک خیال رکھتے تھے کہ ہماری بکری کا دودھ دوہ دیتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک بڑے پیالے میں دودھ دوہتے تھے جس سے وہ پیالہ لباب بھر جاتا تھا جب حضرت خباب رضی اللہ عنہ واپس آئے اور انہوں نے اسے دوہا تو اس میں سے حسب معمول دودھ نکالا ہم نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا دودھ دوہتے تھے تو پیالہ لباب بھرجاتا تھا اور آپ نے دوہا تو اس کا دودھ کم کردیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21071]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن زيد، وقد اختلف فيه على أبى إسحاق، وقد اختلط
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن زيد، وقد اختلف فيه على أبى إسحاق، وقد اختلط