بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 21066
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 21066
حدیث نمبر: 21066 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، خَبَّابٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدْ اكْتَوَى، فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ أَحَدًا لَقِيَ مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَقِيتُ، لَقَدْ كُنْتُ وَمَا أَجِدُ دِرْهَمًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ لِي فِي نَاحِيَةِ بَيْتِي هَذَا أَرْبَعِينَ أَلْفًا، وَلَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَانَا، أَوْ نَهَى أَنْ نَتَمَنَّى الْمَوْتَ"، لَتَمَنَّيْتُهُ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حارثہ کہتے ہیں کہ میں حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لئے حاضر ہوا انہوں نے اپنے جسم کو داغا ہوا تھا مجھے دیکھ کر انہوں نے فرمایا کہ جتنی تکلیف مجھے ہے میں نہیں سمجھتا کہ کسی کو اتنی تکلیف ہوئی ہوگی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں مجھے ایک درہم نہ ملتا تھا اور اب میرے اسی گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم دفن ہیں۔ اگر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے تو میں ضرور اس کی تمنا کرلیتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21066]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (21065) باب پر واپس اگلی حدیث (21067) →