بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 20748 مسند احمد
أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، بَعْضُ
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ، وَغَزَوْنَا نَحْوَ فَارِسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَاتَ فَوْقَ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ إِجَّارٌ فَوَقَعَ فَمَاتَ، فَبَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ عِنْدَ ارْتِجَاجِهِ فَمَاتَ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایسے گھر کی چھت پر سوئے جس کی کوئی منڈ یر نہ ہو اور وہ اس سے نیچے گرجائے تو کسی پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے اور جو شخص ایسے وقت میں سمندری سفر پر روانہ ہو جب سمندر میں طغیانی آئی ہوئی اور مرجائے تو اس کی ذمہ داری بھی کسی پر نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20748]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف محمد بن ثابت، وقول أبى عمران الجوني: حدثني
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن ثابت، وقول أبى عمران الجوني: حدثني
حدیث نمبر: 20749 مسند احمد
أَزْهَرُ ، هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، زُهَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، رَجُلٌ
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ: كُنَّا بِفَارِسَ وَعَلَيْنَا أَمِيرٌ يُقَالُ لَهُ: زُهَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ بَاتَ فَوْقَ إِجَّارٍ أَوْ فَوْقَ بَيْتٍ لَيْسَ حَوْلَهُ شَيْءٌ يَرُدُّ رِجْلَهُ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ بَعْدَ مَا يَرْتَجُّ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایسے گھر کی چھت پر سوئے جس کی کوئی منڈ یر نہ ہو اور وہ اس سے نیچے گرجائے تو کسی پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے اور جو شخص ایسے وقت میں سمندری سفر پر روانہ ہو جب سمندر میں طغیانی آئی ہوئی اور مرجائے تو اس کی ذمہ داری بھی کسی پر نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20749]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة زهير بن عبدالله، وفي الإسناد اضطراب
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة زهير بن عبدالله، وفي الإسناد اضطراب