أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، بَعْضُ
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ، وَغَزَوْنَا نَحْوَ فَارِسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَاتَ فَوْقَ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ إِجَّارٌ فَوَقَعَ فَمَاتَ، فَبَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ عِنْدَ ارْتِجَاجِهِ فَمَاتَ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایسے گھر کی چھت پر سوئے جس کی کوئی منڈ یر نہ ہو اور وہ اس سے نیچے گرجائے تو کسی پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے اور جو شخص ایسے وقت میں سمندری سفر پر روانہ ہو جب سمندر میں طغیانی آئی ہوئی اور مرجائے تو اس کی ذمہ داری بھی کسی پر نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20748]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف محمد بن ثابت، وقول أبى عمران الجوني: حدثني
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن ثابت، وقول أبى عمران الجوني: حدثني