بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 9
حدیث نمبر: 20721 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ بْنُ زَيْدٍ ، عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، نُبَيْشَةُ الْهُذَلِيُّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، قَالَ: كَانَ نُبَيْشَةُ الْهُذَلِيُّ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُؤْذِي أَحَدًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ الْإِمَامَ، خَرَجَ صَلَّى مَا بَدَا لَهُ، وَإِنْ وَجَدَ الْإِمَامَ قَدْ خَرَجَ جَلَسَ، فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ حَتَّى يَقْضِيَ الْإِمَامُ جُمُعَتَهُ وَكَلَامَهُ، إِنْ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ فِي جُمُعَتِهِ تِلْكَ ذُنُوبُهُ كُلُّهَا، أَنْ تَكُونَ كَفَّارَةً لِلْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نبیشہ ہذلی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی مسلمان جمعہ کے دن غسل کرتا ہے پھر مسجد کی طرف روانہ ہوتا ہے اور کسی کو کوئی تکلیف نہیں دیتا ہے پھر وہ دیکھتا ہے کہ ابھی تک امام نہیں نکلا تو حسب توفیق نماز پڑھتا ہے اور اگر دیکھتا ہے کہ امام آچکا ہے تو بیٹھ کر توجہ اور خاموشی سے اس کی بات سنتا ہے یہاں تک کہ امام اپنا جمعہ اور تقریر مکمل کرلے تو اگر اس جمعہ اس کے سارے گناہ معاف نہ ہوئے تو وہ آئندہ آنے والے جمعہ تک اس کے گناہوں کا کفارہ ضرور بن جائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20721]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، رواية عطاء عن الصحابة مرسلة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، رواية عطاء عن الصحابة مرسلة
حدیث نمبر: 20722 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، خَالِدٌ ، أَبِي الْمَلِيحِ ، نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ، وَشُرْبٍ، وَذِكْرِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20722]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1141
الحكم: إسناده صحيح، م: 1141
حدیث نمبر: 20723 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " اذْبَحُوا لِلَّهِ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ، وَبَرُّوا اللَّهَ، وَأَطْعِمُوا" . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نُفَرِّعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَرَعًا، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ، حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ، ذَبَحْتَهُ، فَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ قَالَ خَالِدٌ أُرَاهُ قَالَ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ" . قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ كَيْ تَسَعَكُمْ، فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ، فَكُلُوا، وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا، أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ"، قَالَ خَالِدٌ: قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: كَمْ السَّائِمَةُ؟ قَالَ: مِائَةٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یارسول اللہ ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب میں قربانی کیا کرتے تھے آپ اس حوالے سے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نام پر جس مہینے میں چاہو ذبح کرسکتے ہو اللہ کے لئے نیکی کیا کرو اور لوگوں کو کھانا کھلایا کرو صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ زمانہ جاہلیت میں ہم لوگ پہلونٹھی کا جانور بھی ذبح کیا کرتے تھے اس حوالے سے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر چرنے والے جانور کا پہلو نٹھی کا بچہ ہوتا ہے جسے تم کھلاتے پلاتے ہو جب وہ بوجھ اٹھانے کے قابل ہوجائے تو تم اسے ذبح کرکے اس کا گوشت صدقہ کردو غالباً یہ فرمایا مسافر پر کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے اس لئے ممانعت کی تھی تاکہ وہ تم سب تک پہنچ جائے اب اللہ نے وسعت فرمادی ہے لہذا اسے کھاؤذخیرہ کرو اور تجارت کرو۔ اور یاد رکھو ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20723]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1141
الحكم: إسناده صحيح، م: 1141
حدیث نمبر: 20724 مسند احمد
عَفَّانُ ، الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ الْهُذَلِيُّ ، نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ، يُقَالُ لَهُ: نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ، فَقَالَ لَنَا: حَدَّثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ، ثُمَّ لَحَسَهَا، اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام عاصم کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی اور نبی شۃ الخیر کے نام سے مشہور ہیں تشریف لائے ہم لوگ ایک پیالے میں کھانا کھا رہے تھے انہوں نے فرمایا کہ ہم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص کسی پیالے میں کھانا کھائے پھر اسے چاٹ لے تو وہ پیالہ اس کے لئے بخشش کی دعا کرتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20724]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال أم عاصم
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال أم عاصم
حدیث نمبر: 20725 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عَبْدِ المُؤْمِنِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ ، الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ ، أَبُو الْيَمَانِ النَبَّالُ ، جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ ، نُبَيْشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ المُؤْمِنِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ ، قَالَ أَحَدُ الْمُحَدِّثِينَ فِيهِ: أَبُو الْيَمَانِ النَبَّالُ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال أم عاصم
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال أم عاصم
حدیث نمبر: 20726 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنُ عَوْنٍ ، جَمِيلٍ ، أَبِي مَلِيحٍ ، نُبَيْشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ: ابْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا، عَنْ جَمِيلٍ ، عَنْ أَبِي مَلِيحٍ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ: ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّا نَعْتِرُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: " اذْبَحُوا لِلَّهِ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ، وَبَرُّوا اللَّه وَأَطْعِمُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب میں ایک قربانی کیا کر تھے تھے آپ اس حوالے سے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نام پر جس مہینے میں چاہو ذبح کرسکتے ہو، اللہ کے لئے نیکی کیا کرو اور لوگوں کو کھانا کھلایا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20726]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة جميل، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة جميل، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20727 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، خَالِدٌ ، أَبِي مَلِيحٍ ، نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي مَلِيحٍ ، عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً لَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " اذْبَحُوا فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ، وَبَرُّوا اللَّهَ، وَأَطْعِمُوا" . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نُفَرِّعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ، فَإِذَا اسْتَحْمَلَ، ذَبَحْتَهُ، وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب میں ایک قربانی کیا کرتے تھے آپ اس حوالے سے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نام پر جس مہینے میں چاہو ذبح کرسکتے ہو، اللہ کے لئے نیکی کیا کرو اور لوگوں کو کھانا کھلایا کرو۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ زمانہ جاہلیت میں ہم لوگ پہلونٹھی کا جانور بھی ذبح کردیا کرتے تھے اس حوالے سے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چرنے والے جانور کا پہلونٹھی کا بچہ ہوتا ہے جسے تم کھلاتے پلاتے ہو، جب وہ بوجھ اٹھانے کے قابل ہوجائے تم اسے ذبح کرکے اس کا گوشت صدقہ کرو، غالبا یہ فرمایا مسافر پر کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20727]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20728 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٌ ، أَبِي مَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، نُبَيْشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي مَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ كَيْ يَسَعَكُمْ، فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ، فَكُلُوا، وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا، أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ، وَشُرْبٍ، وَذِكْرِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے منع اس لئے کیا تھا کہ وہ تم سب تک پہنچ جائے اب اللہ نے وسعت فرمادی ہے لہذا اسے کھاؤ، ذخیرہ کرو اور تلاوت کرو۔ اور یاد رکھو کہ ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20728]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1141
الحكم: إسناده صحيح، م: 1141
حدیث نمبر: 20729 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمَلِيحِ ، خَالِدٌ ، أَبِي الْمَلِيحِ ، نُبَيْشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، قَالَ خَالِدٌ وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ كَيْمَا تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْخَيْرِ، فَكُلُوا، وَادَّخِرُوا، وَاتَّجِرُوا، وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرٍ لِلَّهِ" . فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَقَالَ " اذْبَحُوا لِلَّهِ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ، وَبَرُّوا اللَّهَ وَأَطْعِمُوا" . فَقَالَ رَجُلٌ آخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نُفَرِّعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَرَعٌ تَغْذُوهُ غَنَمُكَ، حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ، ذَبَحْتَهُ، فَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے ممانعت اس لئے کر رکھی ہے کہ وہ تم سب تک پہنچ جائے اب اللہ نے وسعت فرمادی ہے لہذا اسے کھاؤ، ذخیرہ کرو اور تجارت کرو۔ اور یاد رکھو کہ ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب میں ایک قربانی کیا کرتے تھے آپ اس حوالے سے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نام پر جس مہینے میں چاہو ذبح کرسکتے ہو، اللہ کے لئے نیکی کیا کرو اور لوگوں کو کھانا کھلایا کرو۔ ایک اور آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ زمانہ جاہلیت میں ہم لوگ پہلونٹھی کا جانور بھی ذبح کردیا کرتے تھے اس حوالے سے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چرنے والے جانور کا پہلونٹھی بچہ ہوتا ہے جسے تم کھلاتے پلاتے ہو، جب وہ بوجھ اٹھانے کے قابل ہوجائے تم اسے ذبح کرکے اس کا گوشت صدقہ کرو، غالبا یہ فرمایا مسافر پر کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20729]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1141
الحكم: إسناده صحيح، م: 1141