عَفَّانُ ، الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ الْهُذَلِيُّ ، نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ، يُقَالُ لَهُ: نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ، فَقَالَ لَنَا: حَدَّثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ، ثُمَّ لَحَسَهَا، اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام عاصم کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی اور نبی شۃ الخیر کے نام سے مشہور ہیں تشریف لائے ہم لوگ ایک پیالے میں کھانا کھا رہے تھے انہوں نے فرمایا کہ ہم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص کسی پیالے میں کھانا کھائے پھر اسے چاٹ لے تو وہ پیالہ اس کے لئے بخشش کی دعا کرتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20724]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال أم عاصم
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال أم عاصم