بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 20688 مسند احمد
عَفَّانُ ، الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، الْحَسَنُ ، شَيْخٌ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَخْبَرَنِي شَيْخٌ مَنْ بَنِي سَلِيطٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُكَلِّمُهُ فِي سَبْيٍ أُصِيبَ لَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِذَا هُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ، وَحَلْقَةٌ قَدْ أَطَافَتْ بِهِ، فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ عَلَيْهِ إِزَارُ قِطْرٍ لَهُ غَلِيظٌ، أَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْهُ يَقُولُ وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَأَشَارَ الْمُبَارَكُ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، التَّقْوَى هَاهُنَا، التَّقْوَى هَاهُنَا"، أَيْ فِي الْقَلْبِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے ان قیدیوں کے متعلق گفتگو کرنے کے لئے حاضر ہوا جو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لئے گئے تھے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگوں نے حلقہ بنا کر آپ کو گھیر رکھا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک موٹی تہبند باندھ رکھی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی انگلیوں سے اشارہ فرما رہے تھے میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارومددگار چھوڑتا ہے تقوی یہاں ہوتا ہے تقوی یہاں ہوتا ہے یعنی دل میں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20688]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20689 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، رَجُلٌ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي أَزْفَلَةٍ مِنَ الْنَّاسِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، التَّقْوَى هَاهُنَا" . قَالَ حَمَّادٌ: وَقَالَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ: " وَمَا تَوَادَّ رَجُلَانِ فِي اللَّهِ فَتَفَرِّقُ بَيْنَهُمَا إِلَّا بِحَدَثٌ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا، وَالْمُحْدِثُ شَرٌّ، وَالْمُحْدِثُ شَرٌّ، وَالْمُحْدِثُ شَرٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگوں نے حلقہ بنا کر آپ کو گھیر رکھا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک موٹی تہبند باندھ رکھی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی انگلیوں سے اشارہ فرما رہے تھے میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارومددگار چھوڑتا ہے تقوی یہاں ہوتا ہے تقوی یہاں ہوتا ہے یعنی دل میں۔ اور جو آدمی اللہ رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں انہیں کوئی چیز جدا نہیں کرسکتی سوائے اس نئی چیز کے جو ان میں سے کوئی ایک ایجاد کرلے اور کسی چیز کو ایجاد کرنے والا شر ہے (تین مرتبہ فرمایا)۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20689]
حکم دارالسلام
الشطر الأول منه صحيح، والشطر الثاني منه حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: الشطر الأول منه صحيح، والشطر الثاني منه حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد