عَفَّانُ ، الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، الْحَسَنُ ، شَيْخٌ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَخْبَرَنِي شَيْخٌ مَنْ بَنِي سَلِيطٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُكَلِّمُهُ فِي سَبْيٍ أُصِيبَ لَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِذَا هُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ، وَحَلْقَةٌ قَدْ أَطَافَتْ بِهِ، فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ عَلَيْهِ إِزَارُ قِطْرٍ لَهُ غَلِيظٌ، أَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْهُ يَقُولُ وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَأَشَارَ الْمُبَارَكُ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، التَّقْوَى هَاهُنَا، التَّقْوَى هَاهُنَا"، أَيْ فِي الْقَلْبِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے ان قیدیوں کے متعلق گفتگو کرنے کے لئے حاضر ہوا جو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لئے گئے تھے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگوں نے حلقہ بنا کر آپ کو گھیر رکھا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک موٹی تہبند باندھ رکھی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی انگلیوں سے اشارہ فرما رہے تھے میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارومددگار چھوڑتا ہے تقوی یہاں ہوتا ہے تقوی یہاں ہوتا ہے یعنی دل میں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20688]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن