بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 27
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 20309 مسند احمد
عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ ، يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِيهِ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ شَهِدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ جَمَعَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهِ وَصِحَّتِهِ فَنَاشَدَهُمْ اللَّهَ:" مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فِي الْجَدِّ شَيْئًا؟ فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِفَرِيضَةٍ فِيهَا جَدٌّ، فَأَعْطَاهُ ثُلُثًا أَوْ سُدُسًا , قَالَ: وَمَا الْفَرِيضَةُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي , قَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْرِيَ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر تھے انہوں نے اپنی زندگی اور صحت میں صحابہ کو جمع کرلیا اور انہیں قسم دے کر پوچھا کہ دادا کی وراثت کے متعلق کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ سنا ہو؟ اس پر حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وراثت کا ایک مسئلہ لایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تہائی یا چھٹا حصہ دیا تھا حضرت عمر نے پوچھا کہ وہ مسئلہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے یاد نہیں رہا انہوں نے فرمایا اسے یاد رکھنے سے تمہیں کس نے روکا تھا؟ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20309]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20310 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ , سَأَلَ عَنْ فَرِيضَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَدِّ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ ، فَقَالَ: " قَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: مَاذَا؟ قَالَ: السُّدُسَ , قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي , قَالَ: لَا دَرَيْتَ، فَمَا تُغْنِي إِذًا؟! .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر تھے انہوں نے اپنی زندگی اور صحت میں صحابہ کو جمع کرلیا اور انہیں قسم دے کر پوچھا کہ دادا کی وراثت کے متعلق کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ سنا ہو؟ اس پر حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وراثت کا ایک مسئلہ لایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تہائی یا چھٹاحصہ دیا تھا حضرت عمر نے پوچھا کہ وہ مسئلہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے یاد نہیں رہا انہوں نے فرمایا اسے یاد رکھنے سے تمہیں کس نے روکا تھا؟ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20310]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يسمع من عمر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يسمع من عمر
حدیث نمبر: 20311 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعِبَادَةُ فِي الْفِتْنَةِ كَالْهِجْرَةِ إِلَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معقل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہرج (قتل) کے زمانے میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرکے آنے کے برابر ہوگا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20311]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2968، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، م: 2968، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 20312 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحَسَنٌ ، أَبُو هِلَالٍ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنُ ، مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَحَسَنٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ رَجُلٍ هُوَ الْحَسَنُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ , عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: " لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَيْلِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ غُفْرًا، لَا بَلْ النِّسَاءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھوڑوں سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہ تھی پھر کہنے لگے اے اللہ معاف فرما بلکہ عورتیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20312]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى هلال، والرجل المبهم إن كان هو الحسن البصري فإنه لم يصرح بسماعه من معقل
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى هلال، والرجل المبهم إن كان هو الحسن البصري فإنه لم يصرح بسماعه من معقل
حدیث نمبر: 20313 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، زَيْدُ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ أَبُو الْمُعَلَّى ، الْحَسَنِ ، مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ أَبُو الْمُعَلَّى ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: ثَقُلَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ ، فَدَخَلَ إِلَيْهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمُ يَا مَعْقِلُ أَنِّي سَفَكْتُ دَمًا؟ قَالَ: مَا عَلِمْتُ , قَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَنِّي دَخَلْتُ فِي شَيْءٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: مَا عَلِمْتُ , قَالَ: أَجْلِسُونِي , ثُمَّ قَالَ: اسْمَعْ يَا عُبَيْدَ اللَّهِ حَتَّى أُحَدِّثَكَ شَيْئًا لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً وَلَا مَرَّتَيْنِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ دَخَلَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِينَ لِيُغْلِيَهُ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُقْعِدَهُ بِعُظْمٍ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے عبیداللہ بن زیاد ان کی بیمار پرسی کے لئے آیا اور کہنے لگا کہ اے معقل کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے کسی کا خون بہایا ہے انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں ابن زیاد نے پوچھا کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کے نرخ میں کچھ دخل اندازی کی ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں مجھے اٹھا کر بٹھاؤ اور پھر فرمایا اے عبیداللہ سن۔ میں تجھ سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک دو مرتبہ نہیں سنی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مسلمانوں کے نرخ میں دخل اندازی کرتا ہے تو اللہ پر حق ہے کہ قیامت کے دن اسے جہنم کے بڑے حصے میں بٹھائے۔ ابن زیاد نے پوچھا کہ کیا یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آپ نے خود سنی ہے انہوں نے فرمایا ہاں ایک دو مرتبہ نہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20313]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 20314 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِيهِ ، مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , وَعَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَءُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ" قَالَ عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ فِي حَدِيثِهِ: يَعْنِي يس .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معقل سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سورت یسین کو اپنے مردوں کے لئے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20314]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى عثمان و أبيه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى عثمان و أبيه
حدیث نمبر: 20315 مسند احمد
هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَوْفٌ ، الْحَسَنِ ، مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: مَرِضَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ مَرَضًا ثَقُلَ فِيهِ، فَأَتَاهُ ابْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ اسْتُرْعِيَ رَعِيَّةً، فَلَمْ يُحِطْهُمْ بِنَصِيحَةٍ، لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ، وَرِيحُهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِئَةِ عَامٍ" , فقَالَ ابْنُ زِيَادٍ: أَلَا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي بِهَذَا قَبْلَ الْآنَ؟! قَالَ: وَالْآنَ لَوْلَا الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معقل بیمار ہوگئے اور بیماری نے انہیں نڈھال کردیا ابن زیاد ان کی عیادت کے لئے آیا انہوں نے فرمایا میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے جو شخص کسی رعایا کا ذمہ دار بنے اور خیرخواہی سے ان کا احاطہ نہ کرے وہ جنت کی مہک بھی نہ پاسکے گا۔ حالانکہ جنت کی مہک سو سال کے فاصلے سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے تو ابن زیاد نے کہا آپ نے یہ حدیث اس سے پہلے کیوں نہ بیان کی انہوں نے فرمایا اگر میں تمہیں اس عہدے پر نہ دیکھتا تو تم سے یہ حدیث بیان نہ کرتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20315]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي