بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 20315
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 20315
حدیث نمبر: 20315 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَوْفٌ ، الْحَسَنِ ، مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: مَرِضَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ مَرَضًا ثَقُلَ فِيهِ، فَأَتَاهُ ابْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ اسْتُرْعِيَ رَعِيَّةً، فَلَمْ يُحِطْهُمْ بِنَصِيحَةٍ، لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ، وَرِيحُهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِئَةِ عَامٍ" , فقَالَ ابْنُ زِيَادٍ: أَلَا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي بِهَذَا قَبْلَ الْآنَ؟! قَالَ: وَالْآنَ لَوْلَا الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معقل بیمار ہوگئے اور بیماری نے انہیں نڈھال کردیا ابن زیاد ان کی عیادت کے لئے آیا انہوں نے فرمایا میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے جو شخص کسی رعایا کا ذمہ دار بنے اور خیرخواہی سے ان کا احاطہ نہ کرے وہ جنت کی مہک بھی نہ پاسکے گا۔ حالانکہ جنت کی مہک سو سال کے فاصلے سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے تو ابن زیاد نے کہا آپ نے یہ حدیث اس سے پہلے کیوں نہ بیان کی انہوں نے فرمایا اگر میں تمہیں اس عہدے پر نہ دیکھتا تو تم سے یہ حدیث بیان نہ کرتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20315]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
← پچھلی حدیث (20314) باب پر واپس اگلی حدیث (20316) →