بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 24
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 19474 مسند احمد
هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ، فَقَدْ بَايَعْتُكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قبیلہ ثقیف کا ایک جذامی آدمی (کوڑھ کے مرض میں مبتلا) بیعت کرنے کے لئے آیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کے پاس جا کر کہو کہ میں نے اسے بیعت کرلیا ہے اس لئے وہ واپس چلاجائے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19474]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2231
الحكم: إسناده صحيح، م: 2231
حدیث نمبر: 19475 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَمْرِو ابْنِ الشَّرِيدِ ، أَبِيهِ ، يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ ، الشَّرِيدَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ: عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ الشَّرِيدَ يَقُولُ: أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ أَوْ: هَرْوَلَ، فَقَالَ: " ارْفَعْ إِزَارَكَ، وَاتَّقِ اللَّهَ"، قَالَ: إِنِّي أَحْنَفُ، تَصْطَكُّ رُكْبَتَايَ، فَقَالَ:" ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنَّ كُلَّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَسَنٌ"، فَمَا رُئِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ بَعْدُ إِلَّا إِزَارُهُ يُصِيبُ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ، أَوْ: إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی کے پیچھے چلے حتیٰ کہ اس کے پیچھے دوڑ پڑے اور اس کا کپڑا پکڑ کر فرمایا اپنا تہبند اوپر کرو، اس نے اپنے گھٹنوں سے کپڑا ہٹا کر عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاؤں ٹیڑھے ہیں اور چلتے ہوئے میرے گھٹنے ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق بہترین ہے، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد مرتے دم تک اس شخص کو جب بھی دیکھا گیا اس کا تہبند نصف پنڈلی تک ہی رہا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19475]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19476 مسند احمد
سُفْيَانُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، أَبِيهِ ، يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ ، الشَّرِيدِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَن أَبِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَوْ: يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ يَعْنِي عَنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: كَذَا حَدَّثَنَاهُ أَبِي، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، فَقَالَ: " هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ شَيْءٌ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَنْشِدْنِي"، فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ:" هِيهْ"، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ:" هِيهْ"، حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِئَةَ بَيْتٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے امیہ بن ابی صلت کے اشعار سنانے کو کہا میں اشعار سنانے لگا جب بھی ایک شعر سناتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے اور سناؤ حتیٰ کہ میں نے سو شعر سنا ڈالے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہوجاتا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19476]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2255
الحكم: إسناده صحيح، م: 2255
حدیث نمبر: 19477 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ ، الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شَرِيكٌ، وَلَا قَسْمٌ، إِلَّا الْجِوَارَ؟ قَالَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! اگر کوئی زمین ایسی ہو جس میں کسی کی شرکت یا تقسیم نہ ہو سوائے پڑوسی کے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پڑوسی شفعہ کا حق رکھتا ہے جب بھی ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19477]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح