يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ ، الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شَرِيكٌ، وَلَا قَسْمٌ، إِلَّا الْجِوَارَ؟ قَالَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! اگر کوئی زمین ایسی ہو جس میں کسی کی شرکت یا تقسیم نہ ہو سوائے پڑوسی کے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پڑوسی شفعہ کا حق رکھتا ہے جب بھی ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19477]
الحكم: حديث صحيح