بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 19035 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، أَبِيهِ ، فُلَانِ بْنِ عَمِيلَةَ ، خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ فُلَانِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " النَّاسُ أَرْبَعَةٌ، وَالْأَعْمَالُ سِتَّةٌ، فَالنَّاسُ مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ لَهُ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَشَقِيٌّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَالْأَعْمَالُ مُوجِبَتَانِ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَعَشْرَةُ أَضْعَافٍ، وَسَبْعُ مِئَةِ ضِعْفٍ، فَالْمُوجِبَتَانِ مَنْ مَاتَ مُسْلِمًا مُؤْمِنًا لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ مَاتَ كَافِرًا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، فَعَلِمَ اللَّهُ أَنَّهُ قَدْ أَشْعَرَهَا قَلْبَهُ، وَحَرَصَ عَلَيْهَا، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ، وَمَنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ وَاحِدَةً وَلَمْ تُضَاعَفْ عَلَيْهِ، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً كَانَتْ لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ بِسَبْعِ مِئَةِ ضِعْفٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اعمال چھ طرح کے ہیں اور لوگ چار طرح کے ہیں دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں ایک چیز برابر برابر ہے اور ایک نیکی کا ثواب دس گنا اور ایک نیکی کا ثواب سات سو گنا ہے واجب کرنے والی دو چیزیں تو یہ ہیں کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہوا مرے وہ جہنم میں داخل ہوگا اور برابر سرابر یہ ہے کہ جو شخص نیکی کا ارادہ کرے اس کے دل میں اس کا احساس پیدا ہو اور اللہ کے علم میں ہو تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جو شخص برائی کا عمل سر انجام دے اس کے لئے ایک برائی لکھی جاتی ہے جو شخص ایک نیکی کرے اس کے لئے وہ دس گنا لکھی جاتی ہے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں خرچ کرے تو ایک نیکی سات سو گنا تک شمار ہوتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19035]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 19036 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيُّ ، أَبِيهِ ، يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ ، خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كُتِبَتْ بِسَبْعِ مِئَةِ ضِعْفٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک نیکی کرے اس کے لئے وہ دس گنا لکھی جاتی ہے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں خرچ کرے تو ایک نیکی سات سو گنا تک شمار ہوتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19036]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 19037 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، شَمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ شَمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ يَا خُرَيْمُ لَوْلَا خُلَّتَانِ" قَالَ: قُلْتُ: وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِسْبَالُكَ إِزَارَكَ، وَإِرْخَاؤُكَ شَعْرَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر تم میں دو چیزیں نہ ہوتی تو تم تم ہوتے عرض کیا کہ مجھے ایک ہی بات کافی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اپنا تہبند ٹخنے سے نیچے لٹکاتے ہو اور بال خوب لمبے کرتے ہو عرض کیا اللہ کی قسم! اب یقینا ایسا نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19037]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه، شمر بن عطية لم يدرك خريم بن فاتك. سماع أبى بكر من ابي اسحاق ليس بذلك القوي، لكنه توبع
الحكم: حديث حسن بطرقه، شمر بن عطية لم يدرك خريم بن فاتك. سماع أبى بكر من ابي اسحاق ليس بذلك القوي، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19038 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، الرُّكَيْنِ ، أبيه ، يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ ، خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ الرُّكَيْنِ ، عن أبيه ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُضَاعَفُ بِسَبْعِ مِئَةِ ضِعْفٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک نیکی کرے اس کے لئے وہ دس گنا لکھی جاتی ہے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں خرچ کرے تو ایک نیکی سات سو گنا تک شمار ہوتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19038]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 19039 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمَسْعُودِيُّ ، الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، أَبِيهِ ، خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَعْمَالُ سِتَّةٌ، وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ، فَمُوجِبَتَانِ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالْحَسَنَةُ بِسَبْعِ مِئَةٍ، فَأَمَّا الْمُوجِبَتَانِ: مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ، وَأَمَّا مِثْلٌ بِمِثْلٍ: فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ حَتَّى يُشْعِرَهَا قَلْبَهُ، وَيَعْلَمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَلِكَ مِنْهُ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً كُتِبَتْ لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَحَسَنَةٌ بِسَبْعِ مِئَةٍ، وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ: مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا، وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اعمال چھ طرح کے ہیں اور لوگ چار طرح کے ہیں دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں ایک چیز برابر برابر ہے اور ایک نیکی کا ثواب دس گنا اور ایک نیکی کا ثواب سات سو گنا ہے واجب کرنے والی دو چیزیں تو یہ ہیں کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہوا مرے وہ جہنم میں داخل ہوگا اور برابر سرابر یہ ہے کہ جو شخص نیکی کا ارادہ کرے اس کے دل میں اس کا احساس پیدا ہو اور اللہ کے علم میں ہو تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جو شخص برائی کا عمل سرانجام دے اس کے لئے ایک برائی لکھی جاتی ہے جو شخص ایک نیکی کرے اس کے لئے وہ دس گنا لکھی جاتی ہے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں خرچ کرے تو ایک نیکی سات سو گنا تک شمار ہوتی ہے۔ باقی رہے لوگ تو ان میں سے بعض پر دنیا میں کشادگی اور آخرت میں تنگی ہوتی ہے بعض پر دنیا میں تنگی اور آخرت میں کشادگی بعض پر دنیا و آخرت دونوں میں تنگی اور بعض پر دنیا و آخرت دونوں میں کشادگی ہوتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19039]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد اختلف فيه على الركين بن الربيع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد اختلف فيه على الركين بن الربيع