بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 16
حدیث نمبر: 18879 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِيهِ ، عَمَّارًا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَمَّارًا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، لَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ خَفَّفْتَهُمَا، قَالَ: هَلْ نَقَصْتُ مِنْ حُدُودِهَا شَيْئًا؟! قَالَ: لَا، وَلَكِنْ خَفَّفْتَهُمَا، قَالَ: إِنِّي بَادَرْتُ بِهِمَا السَّهْوَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي، وَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ لَهُ مِنْ صَلاَتِهِ إِلَاَّ عُشْرُهَا، وَتُسْعُهَا، أَوْ ثُمُنُهَا، أَوْ سُبُعُهَا" حَتَّى انْتَهَى إِلَى آخِرِ الْعَدَدِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور دو ہلکی لیکن مکمل رکعتیں پڑھیں، اس کے بعد بیٹھ گئے ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوالیقظان! آپ نے یہ دو رکعتیں تو بہت ہی ہلکی پڑھی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کیا میں نے اس کی حدود میں کچھ کمی کی ہے؟ انہوں نے کہا نہیں البتہ آپ نے بہت مختصر کر کے پڑھا ہے انہوں نے فرمایا میں نے ان رکعتوں میں بھولنے پر سبقت کی ہے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی نماز پڑھتا ہے لیکن اسے نماز کا دسواں، نواں، آٹھواں، یا ساتو اں حصہ ہی نصیب ہو پاتا ہے یہاں تک کہ آخری عدد تک پہنچ گئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18879]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18880 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَمَّارٌ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَمَّارٌ يَوْمَ صِفِّينَ: ائْتُونِي بِشَرْبَةِ لَبَنٍ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " آخِرُ شَرْبَةٍ تَشْرَبُهَا مِنَ الدُّنْيَا شَرْبَةُ لَبَنٍ" فَأُتِيَ بِشَرْبَةِ لَبَنٍ، فَشَرِبَهَا، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقُتِلَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالبختری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جنگ صفین کے موقع پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے پاس دودھ کا پیالہ لاؤ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا دنیا میں سب سے آخری گھونٹ جو تم پیوگے وہ دودھ کا گھونٹ ہوگا چناچہ ان کے پاس دودھ لایا گیا انہوں نے اسے نوش فرمایا اور آگے بڑھ گئے اور شہید ہوگئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18880]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو البختري لم يدرك عمار بن ياسر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو البختري لم يدرك عمار بن ياسر
حدیث نمبر: 18881 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زِيَادٌ أَبُو عُمَرَ ، الْحَسَنِ ، عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ أَبُو عُمَرَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عماربن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کی مثال بارش کی سی ہے جس کے بارے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا آغاز بہتر ہے یا اختتام؟ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18881]
حکم دارالسلام
حديث قوي بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من عمار بن ياسر، وقد روي عن الحسن مرسلاً، وهو الصحيح عنه
الحكم: حديث قوي بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من عمار بن ياسر، وقد روي عن الحسن مرسلاً، وهو الصحيح عنه
حدیث نمبر: 18882 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ ، أَبِي مَالِكٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَمَّارٌ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّا نَمْكُثُ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ، لَاَ نَجِدُ الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا، فَلَمْ أَكُنْ لَأُصَلِّيَ حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ، فَقَالَ عَمَّارٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تَذْكُرُ حَيْثُ كُنَّا بِمَكَانِ كَذَا، وَنَحْنُ نَرْعَى الْإِبِلَ، فَتَعْلَمُ أَنَّا أَجْنَبْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي تَمَرَّغْتُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثْتُهُ فَضَحِكَ وَقَالَ: " كَانَ الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ كَافِيَكَ" وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَبَعْضَ ذِرَاعَيْهِ . قَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ! قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ شِئْتَ لَمْ أَذْكُرْهُ مَا عِشْتُ أَوْ مَا حَيِيتُ قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ، وَلَكِنْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابزی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ مجھ پر غسل واجب ہوگیا ہے اور مجھے پانی نہیں مل رہا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نماز مت پڑھو، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ میں اور آپ ایک لشکر میں تھے ہم دونوں پر غسل واجب ہوگیا اور پانی نہیں ملا تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی جبکہ میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہنس کر فرمایا تمہارے لئے پاک مٹی ہی کافی تھی یہ کہہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین پر ہاتھ مارا پھر اس پر پھونک ماری اور اسے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر پھیرلیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمار! اللہ سے ڈرو انہوں نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! اگر آپ کہتے ہیں تو میں آئندہ مرتے دم تک اس حدیث کو بیان نہیں کروں گا؟ انہوں نے فرمایا ہرگز نہیں، ہم تمہیں اس چیز کے سپرد کرتے ہیں جو تم اختیار کرلو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18882]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: وبعض ذراعيه، فقد شك فيها سلمة بن كهيل
الحكم: حديث صحيح دون قوله: وبعض ذراعيه، فقد شك فيها سلمة بن كهيل
حدیث نمبر: 18883 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبٍ ، أَبِي الْبُخْتُرِيِّ ، عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْبُخْتُرِيِّ ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ أُتِيَ بِشَرْبَةِ لَبَنٍ، قَالَ: فَقَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: " إِنَّ آخِرَ شَرَابٍ أَشْرَبُهُ لَبَنٌ حَتَّى أَمُوتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالبختری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جنگ صفین کے موقع پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے پاس دودھ کا پیالہ لاؤ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا دنیا میں سب سے آخری گھونٹ جو تم پیوگے وہ دودھ کا گھونٹ ہوگا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18883]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو البختري لم يدرك عمار بن ياسر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو البختري لم يدرك عمار بن ياسر
حدیث نمبر: 18884 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ ، عَمَّارًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ عَمَّارًا يَوْمَ صِفِّينَ شَيْخًا كَبِيرًا، آدَمَ طُوَالًَا، آخِذًا الْحَرْبَةَ بِيَدِهِ، وَيَدُهُ تَرْعَدُ، فَقَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ قَاتَلْتُ بِهَذِهِ الرَّايَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاَثَ مَرَّاتٍ وَهَذِهِ الرَّابِعَةُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ ضَرَبُونَا حَتَّى يَبْلُغُوا بِنَا سَعَفَاتِ هَجَرَ، لَعَرَفْتُ أَنَّ مُصْلِحِينَا عَلَى الْحَقِّ، وَأَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَاَلَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبد بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جنگ صفین کے موقع پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ انتہائی بوڑھے، عمر رسیدہ، گندم گوں اور لمبے قد کے آدمی تھے، انہوں نے اپنے ہاتھ میں نیزہ پکڑ رکھا تھا اور ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے انہوں نے فرمایا اس ذات کی قسم جس دست قدرت میں میری جان ہے میں نے تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں اس جھنڈے کو لے کر قتال کیا ہے اور یہ چوتھی مرتبہ ہے اس ذات کی قسم جس کے درست قدرت میں میری جان ہے اگر یہ لوگ ہمیں مارتے ہوئے ہجر کی چوٹیوں تک بھی پہنچ جائیں تب بھی میں یہی سمجھوں گا کہ ہمارے مصلحین برحق ہیں اور وہ غلطی پر ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18884]
حکم دارالسلام
هذا الاثر إسناده ضعيف، عبدالله بن سلمة مختلط، وسماع عمرو بن مرة منه بعد اختلاطه
الحكم: هذا الاثر إسناده ضعيف، عبدالله بن سلمة مختلط، وسماع عمرو بن مرة منه بعد اختلاطه
حدیث نمبر: 18885 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ ، لِعَمَّارٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ . قَالَ حَجَّاجٌ، سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمَّارٍ : أَرَأَيْتَ قِتَالَكُمْ رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ. قَالَ حَجَّاجٌ: أَرَأَيْتَ هَذَا الْأَمْرَ يَعْنِي قِتَالَهُمْ رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ؟ فَإِنَّ الرَّأْيَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ، أَوْ عَهْدًٌا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ فِي أُمَّتِي" قَالَ شُعْبَةُ: وأَحْسِبُهُ قَالَ: حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ: " إِنَّ فِي أُمَّتِي اثْنَيْ عَشَرَ مُنَافِقًا"، فَقَالَ:" لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ، ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ، سِرَاجٌ مِنْ نَارٍ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتَّى يَنْجُمَ فِي صُدُورِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس بن عباد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عماربن یاسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوالیقظان! یہ بتائیے کہ جس مسئلے میں آپ لوگ پڑچکے ہیں وہ آپ کی اپنی رائے ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی خاص وصیت ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ ایسی کوئی وصیت نہیں فرمائی جو عام لوگوں کو نہ کی ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا میری امت میں بارہ منافق ہوں گے وہ جنت میں داخل ہوں گے اور نہ اس کی مہک پائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے ان میں سے آٹھ وہ لوگ ہوں گے جن سے تمہاری کفایت " دبیلہ " کرے گا یہ آگ کا ایک پھوڑا ہوگا جو ان کے کندھوں پر نمودار ہوگا اور سینے تک سوراخ کردے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18885]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2779
الحكم: إسناده صحيح، م: 2779
حدیث نمبر: 18886 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَمَّارًا
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَنَّ عَمَّارًا قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي لَيْلًَا وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ، فَضَمَّخُونِي بِالزَّعْفَرَانِ، فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، فَقَالَ:" اغْسِلْ هَذَا"، قَالَ: فَذَهَبْتُ، فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ وَقَدْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، وَقَالَ:" اغْسِلْ هَذَا عَنْكَ"، فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيَّ، وَرَحَّبَ بِي، وَقَالَ: " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لَا تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ وَلَا الْمُتَضَمِّخَ بِزَعْفَرَانٍ ولَا الْجُنُبَ" . وَرَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا نَامَ أَوْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَنْ يَتَوَضَّأَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رات کے وقت اپنے گھر والوں کے پاس آیا میرے ہاتھ پھٹ چکے تھے اس لئے انہوں نے میرے ہاتھوں پر زعفران مل دی صبح کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے جواب دیا اور نہ ہی خوش آمدید کہا بلکہ فرمایا اسے دھو کر آؤ میں نے جا کر اسے دھولیا لیکن جب واپس آیا تو پھر بھی زعفران لگی رہ گئی تھی اس لئے اس مرتبہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور نہ ہی خوش آمدید کہا بلکہ فرمایا اسے دھو کر آؤ چناچہ اس مرتبہ میں نے اسے اچھی طرح دھویا اور پھر حاضر ہو کر سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب بھی دیا اور خوش آمدید بھی کہا اور فرمایا کہ رحمت کے فرشتے کافر کے جنازے، زعفران ملنے والے اور جنبی کے پاس نہیں آتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنبی آدمی کو وضو کرکے سوجانے یا کھانے پینے کی رخصت دی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18886]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، يحيى بن يعمر لم يلق عمار بن ياسر
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، يحيى بن يعمر لم يلق عمار بن ياسر
حدیث نمبر: 18887 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، ذَرٍّ ، ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، أَبِيهِ ، عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًَا سَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ التَّيَمُّمِ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ : أَمَا تَذْكُرُ حَيْثُ كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْتُ، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يَكْفِيكَ هَكَذَا" وَضَرَبَ شُعْبَةُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَنَفَخَ فِي يَدَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابزی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ مجھ پر غسل واجب ہوگیا ہے اور مجھے پانی نہیں مل رہا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نماز مت پڑھو، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ امیرالمؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ میں اور آپ ایک لشکر میں تھے ہم دونوں پر غسل واجب ہوگیا اور پانی نہیں ملا تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی جبکہ میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے اتنا ہی کافی تھا یہ کہہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین پر ہاتھ مارا پھر اس پر پھونک ماری اور اسے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر پھیرلیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18887]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 343، م: 368
الحكم: إسناده صحيح، خ: 343، م: 368
حدیث نمبر: 18888 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَبِي الْيَقْظَانِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَبِي الْيَقْظَانِ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فهَلَكَ عِقْدٌ لِعَائِشَةَ، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ، فَتَغَيَّظَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَائِشَةَ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ الرُّخْصَةُ فِي الْمَسْحِ بِالصُّعُدَاتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ، لَقَدْ نَزَلَ عَلَيْنَا فِيكِ رُخْصَةٌ، فَضَرَبْنَا بِأَيْدِينَا لوُجُوهِنَا وَضَرَبْنَا بِأَيْدِينَا ضَرْبَةً إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالآبَاطِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی لشکر کے ساتھ رات کے آخری حصے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھیں اسی رات ان کا ہاتھی دانت کا ایک ہار ٹوٹ کر گرپڑا لوگ ان کا ہار تلاش کرنے کے لئے رک گئے یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہا اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا (کہ نماز پڑھ سکیں) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے وضو میں رخصت کا پہلو یعنی پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا بخدا! مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اتنی مبارک ہے، اللہ نے تیری وجہ سے ہم پر رخصت نازل فرما دی ہے چناچہ ہم نے ایک ضرب چہرے کے لئے لگائی اور ایک ضرب سے کندھوں اور بغلوں تک ہاتھ پھیرلیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18888]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عبيدالله بن عبدالله لم يدرك عماراً
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عبيدالله بن عبدالله لم يدرك عماراً
حدیث نمبر: 18889 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبُو رَاشِدٍ ، عَمَّارُ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، حدَّثَنَا أَبُو رَاشِدٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَمَّارُ ، فَتَجَوَّزَ فِي خُطْبَتِهِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ: لَقَدْ قُلْتَ قَوْلًَا شِفَاءً، فَلَوْ أَنَّكَ أَطَلْتَ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نُطِيلَ الْخُطْبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو وائل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ہمیں انتہائی بلیغ اور مختصر خطبہ ارشاد فرمایا جب وہ منبر سے نیچے اترے تو ایک قریشی آدمی نے عرض کیا اے ابوالیقظان! آپ نے نہایت بلیغ اور مختصر خطبہ دیا، اگر آپ طویل گفتگو فرماتے تو کیا خوب ہوتا انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لمبے خطبے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18889]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الجهالة أبى راشد صاحب عمار ، وللاختلاف فيه على عدي بن ثابت
الحكم: إسناده ضعيف الجهالة أبى راشد صاحب عمار ، وللاختلاف فيه على عدي بن ثابت
حدیث نمبر: 18890 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخَوَّارِ ، يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ ، رَجُلٍ ، عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخَوَّارِ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ يُخْبِرُ، عَنْ رَجُلٍ أخْبَرَهُ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ زَعَمَ عُمَرُ أَنَّ يَحْيَى قَدْ سَمَّى ذَلِكَ الرَّجُلَ، وَنَسِيَهُ عُمَرُ: أَنَّ عَمَّارًا، قَالَ: تَخَلَّقْتُ خَلُوقًا، فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ: " اذْهَبْ يَا ابْنَ أُمِّ عَمَّارٍ، فَاغْسِلْ عَنْكَ" فَرَجَعْتُ، فَغَسَلْتُ عَنِّي، قَالَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَانْتَهَرَنِي أَيْضًا، قَالَ:" ارْجِعْ فَاغْسِلْ عَنْكَ" فَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے " خلوق " نامی خوشبو لگالی جب بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے جھڑک کر فرمایا اے ابن ام عمار! اسے دھو کر آؤ میں نے جا کر اسے دھولیا لیکن جب واپس آیا تو اس مرتبہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جھڑک کر فرمایا اسے دھو کر آؤ تین مرتبہ اس طرح ہوا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18890]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الإبهام الراوي عن عمار
الحكم: إسناده ضعيف الإبهام الراوي عن عمار
حدیث نمبر: 18891 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ كَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ مَعَهُ عَائِشَةُ، فَهَلَكَ عِقْدُهَا، فَاحُتبِسَ النَّاسُ فِي ابْتِغَائِهِ حَتَّى أَصْبَحُوا وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَنَزَلَ التَّيَمُّمُ" . قَالَ عَمَّارٌ: فَقَامُوا فَمَسَحُوا، فَضَرَبُوا أَيْدِيَهُمْ، فَمَسَحُوا بها وُجُوهَهُمْ، ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ ثَانِيَةً، ثُمَّ مَسَحُوا أَيْدِيَهُمْ إِلَى الْإِبِطَيْنِ. أَوْ قَالَ: إِلَى الْمَنَاكِبِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی لشکر کے ساتھ رات کے آخری حصے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھیں اسی رات ان کا ہاتھی دانت کا ایک ہار ٹوٹ کر گرپڑا لوگ ان کا ہار تلاش کرنے کے لئے رک گئے یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہا اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا (کہ نماز پڑھ سکیں اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے وضو میں رخصت کا پہلو یعنی پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا بخدا! مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اتنی مبارک ہے، اللہ نے تیری وجہ سے ہم پر رخصت نازل فرمادی ہے چناچہ ہم نے ایک ضرب چہرے کے لئے لگائی اور ایک ضرب سے کندھوں اور بغلوں تک ہاتھ پھیرلیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18891]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، عبيد الله بن عبدالله لم يدرك عماراً
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، عبيد الله بن عبدالله لم يدرك عماراً
حدیث نمبر: 18892 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، عَطَاءٍ ، عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ ، عَلِيٍّ ، لِعَمَّارٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ ، سَمِعَهُ عَنْ عَلِيٍّ يَعْنِي عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ: كُنْتُ أَجِدُ الْمَذْيَ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ أَنَّ ابْنَتَهُ عِنْدِي، فَقُلْتُ لِعَمَّارٍ : سَلْهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " يَكْفِي مِنْهُ الْوُضُوءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ برسر منبر کوفہ فرمایا کہ مجھے مذی کے خروج کا مرض تھا، میں اس وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرماتا تھا کہ ان کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں تو میں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم یہ مسئلہ پوچھو، انہوں نے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسی صورت میں وضو کافی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18892]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عائش بن أنس
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عائش بن أنس
حدیث نمبر: 18893 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ
18461 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ الرُّخْصَةَ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الصَّعِيدِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّهُمْ ضَرَبُوا أَكُفَّهُمْ فِي الصَّعِيدِ، فَمَسَحُوا بِهِ وُجُوهَهُمْ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا، فَمَسَحُوا أَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ" .
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عبيدالله بن عبدالله لم يدرك عمارا
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عبيدالله بن عبدالله لم يدرك عمارا
حدیث نمبر: 18894 مسند احمد
صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ عَجْلاَنَ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنَمَةَ ، عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنَمَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، فَأَخَفَّ الصَّلَاَةَ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ، قُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، لَقَدْ خَفَّفْتَ، قَالَ: فَهَلْ رَأَيْتَنِي انْتَقَصْتُ مِنْ حُدُودِهَا شَيْئًا؟! قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَإِنِّي بَادَرْتُ بِهَا سَهْوَةَ الشَّيْطَانِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْعَبْدَ لَيُصَلِّي الصَّلاَةَ، مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْهَا إِلَاَّ عُشْرُهَا، تُسْعُهَا، ثُمُنُهَا، سُبُعُهَا، سُدُسُهَا، خُمُسُهَا، رُبُعُهَا، ثُلُثُهَا، نِصْفُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکربن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور دو ہلکی لیکن مکمل رکعتیں پڑھیں، اس کے بعد بیٹھ گئے ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوالیقظان! آپ نے یہ دو رکعتیں تو بہت ہی ہلکی پڑھی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کیا میں نے اس کی حدود میں کچھ کمی کی ہے؟ انہوں نے کہا نہیں البتہ آپ نے بہت مختصر کر کے پڑھا ہے انہوں نے فرمایا میں نے ان رکعتوں میں بھولنے پر سبقت کی ہے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی نماز پڑھتا ہے لیکن اسے نماز کا دسواں، نواں، آٹھواں، یا ساتواں حصہ ہی نصیب ہوپاتا ہے یہاں تک کہ آخری عدد تک پہنچ گئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18894]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عبدالله بن عنمة إن لم يكن صحابياً فهو مجهول الحال
الحكم: حديث صحيح، عبدالله بن عنمة إن لم يكن صحابياً فهو مجهول الحال