بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 18892
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 18892
حدیث نمبر: 18892 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، عَطَاءٍ ، عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ ، عَلِيٍّ ، لِعَمَّارٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ ، سَمِعَهُ عَنْ عَلِيٍّ يَعْنِي عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ: كُنْتُ أَجِدُ الْمَذْيَ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ أَنَّ ابْنَتَهُ عِنْدِي، فَقُلْتُ لِعَمَّارٍ : سَلْهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " يَكْفِي مِنْهُ الْوُضُوءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ برسر منبر کوفہ فرمایا کہ مجھے مذی کے خروج کا مرض تھا، میں اس وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرماتا تھا کہ ان کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں تو میں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم یہ مسئلہ پوچھو، انہوں نے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسی صورت میں وضو کافی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18892]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عائش بن أنس
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عائش بن أنس
← پچھلی حدیث (18891) باب پر واپس اگلی حدیث (18893) →