بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 16
حدیث نمبر: 18008 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسٍ ، الْمُسْتَوْرِدِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ أَخِي بَنِي فِهْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمِثْلِ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ"، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18008]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2858
الحكم: إسناده صحيح، م: 2858
حدیث نمبر: 18009 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، الْمُسْتَوْرِدَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ . وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ" ، يَعْنِي: الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18009]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2858
الحكم: إسناده صحيح، م: 2858
حدیث نمبر: 18010 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وضو فرماتے تو اپنی انگلیوں کا خلال چھنگلیا سے فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18010]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواه عنه غير واحد ممن حدث عنه قديماً، ورواية هؤلاء عنه صالحة
الحكم: صحيح لغيره، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواه عنه غير واحد ممن حدث عنه قديماً، ورواية هؤلاء عنه صالحة
حدیث نمبر: 18011 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ ، وَقَّاصُ بْنُ رَبِيعَةَ ، الْمُسْتَوْرِدَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا وَقَّاصُ بْنُ رَبِيعَةَ ، أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً، وَقَالَ مَرَّةً: أُكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ اكْتَسَى بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ثَوْبًا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان کا کوئی لقمہ زبردستی کھالیا تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا ہی کھانا جہنم سے کھلائے گا، جس شخص نے کسی مسلمان کے کپڑے (زبردستی چھین کر) پہن لئے، اللہ تعالیٰ اسے ویسا ہی جہنمی لباس پہنائے گا اور جو شخص کسی مسلمان کو مقام ریاء و شہرت پر کھڑا کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے مقام شہرت (تشہیر) پر کھڑا کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18011]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، وقاص بن ربيعة مستور، وفيه تدليس ابن جريج لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، وقاص بن ربيعة مستور، وفيه تدليس ابن جريج لكنه توبع
حدیث نمبر: 18012 مسند احمد
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، الْمُسْتَوْرِدَ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18012]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2858
الحكم: إسناده صحيح، م: 2858
حدیث نمبر: 18013 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي رَكْبٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ بِسَخْلَةٍ مَيْتَةٍ مَنْبُوذَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا؟" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ هَوَانِهَا أَلْقَوْهَا. قَالَ:" فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمِّدٍ بِيَدِهِ، لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قافلے میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک مردار بکری پر ہوا جس کی کھال اتار کر اسے پھینک دیا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس بکری کو اس کے مالک حقیر سمجھتے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! حقیر سمجھ کر ہی تو اسے انہوں نے پھینک دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے جتنی حقیر یہ بکری اپنے مالک کی نظر میں ہے، دنیا اللہ کی نظروں میں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18013]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
حدیث نمبر: 18014 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلَ ، قَيْسٌ ، الْمُسْتَوْرِدَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18014]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2858
الحكم: إسناده صحيح، م: 2858
حدیث نمبر: 18015 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، ابْنِ هُبَيْرَةَ ، والْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، الْمُسْتَوْرِدَ بْنَ شَدَّادٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ ، والْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ بْنَ شَدَّادٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ وَلِيَ لَنَا عَمَلًا وَلَيْسَ لَهُ مَنْزِلٌ، فَلْيَتَّخِذْ مَنْزِلًا، أَوْ لَيْسَتْ لَهُ زَوْجَةٌ فَلْيَتَزَوَّجْ، أَوْ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَتَّخِذْ خَادِمًا، أَوْ لَيْسَتْ لَهُ دَابَّةٌ، فَلْيَتَّخِذْ دَابَّةً، وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مستورد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص ہماری طرف سے گورنر نامزد ہو اور اس کے پاس متعلقہ شہر میں کوئی گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو شادی کرسکتا ہے، خادم نہ ہو تو رکھ سکتا ہے، سواری نہ ہو تو رکھ سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ جو کچھ لے گا، وہ اللہ کے یہاں خائن شمار ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18015]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد تابعه الأوزاعي، لكن لم تذكر الجملة الأخيرة عنده متصلة، وهى «ومن أصاب شيئا…...»
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد تابعه الأوزاعي، لكن لم تذكر الجملة الأخيرة عنده متصلة، وهى «ومن أصاب شيئا…...»
حدیث نمبر: 18016 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَابْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَابْنُ دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ يُخَلِّلُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وضو فرماتے تو اپنی انگلیوں کا خلال چھنگلیا سے فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18016]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، ابن لهيعة سيئ الحفظ ، لكن رواه عنه غير واحد ممن حدث عنه قديماً ، رواية هؤلاء عنه صالحة
الحكم: صحيح لغيره، ابن لهيعة سيئ الحفظ ، لكن رواه عنه غير واحد ممن حدث عنه قديماً ، رواية هؤلاء عنه صالحة
حدیث نمبر: 18017 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، الْمُسْتَوْرِدَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ شَدَّادٍ، وَعَمْرُو بْنُ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ، فَسَمِعَ الْمُسْتَوْرِدَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ وَلِيَ عَمَلًا فَلَمْ يَكُنْ لَهُ زَوْجَةً فَلْيَتَزَوَّجْ، أَوْ خَادِمًا فَلْيَتَّخِذْ خَادِمًا، أَوْ مَسْكَنًا، أَوْ دَابَّةً فَلْيَتَّخِذْ دَابَّةً، فَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا سِوَى ذَلِكَ، فَهُوَ غَالٌّ سَارِقٌ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مستورد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص ہماری طرف سے گورنر نامزد ہو اور اس کے پاس متعلقہ شہر میں کوئی گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو شادی کرسکتا ہے، خادم نہ ہو تو رکھ سکتا ہے، سواری نہ ہو تو رکھ سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ جو کچھ لے گا، وہ اللہ کے یہاں خائن اور چور شمار ہوگا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18017]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع بدون الجملة: «فمن أصاب….»
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع بدون الجملة: «فمن أصاب….»
حدیث نمبر: 18018 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع بدون الجملة الأخيرة: «فمن أصاب….»
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع بدون الجملة الأخيرة: «فمن أصاب….»
حدیث نمبر: 18019 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، الْمُسْتَوْرِدَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ شَدَّادٍ، وَعَمْرُو بْنُ غَيْلَانَ، فَسَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ وَلِيَ لَنَا عَمَلًا" فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ الْحَارِثِ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 18020 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، مُجَالِدٌ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ، إِلَّا كَرَجُلٍ وَضَعَ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ثُمَّ رَجَعَهَا". قَالَ: وَإِنِّي لَفِي الرَّكْبِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ عَلَى سَخْلَةٍ مَنْبُوذَةٍ عَلَى كُنَاسةٍ، فَقَالَ:" أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا؟" فَقَالُوا: مِنْ هَوَانِهَا أَلْقَوْهَا هَاهُنَا. قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَلدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَهْوَنُ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ اور ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قافلے میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک مردار بکری پر ہوا جس کی کھال اتار کر اسے پھینک دیا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس بکری کو اس کے مالک حقیر سمجھتے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حقیر سمجھ کر ہی تو اسے انہوں نے پھینک دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے جتنی حقیر یہ بکری اپنے مالک کی نظر میں ہے، دنیا اللہ کی نظروں میں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18020]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2858، وهذا إسناد ضعيف لأجل مجالد بن سعيد، لكنه توبع على القطعة الأولى
الحكم: حديث صحيح، م: 2858، وهذا إسناد ضعيف لأجل مجالد بن سعيد، لكنه توبع على القطعة الأولى
حدیث نمبر: 18021 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ يَعْنِي الْمُهَلَّبِيَّ ، الْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ يَعْنِي الْمُهَلَّبِيَّ ، حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَرَجُلٍ وَضَعَ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَيْهِ، فَمَا أَخَذَ مِنْهُ؟" قَالَ: وَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ: أَشْهَدُ أَنِّي كُنْتُ مَعَ الرَّكْبِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَرَّ بِمَنْزِلِ قَوْمٍ قَدْ ارْتَحَلُوا عَنْهُ، فَإِذَا سَخْلَةٌ مَطْرُوحَةٌ، فَقَالَ:" أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا؟" قَالُوا: مِنْ هَوَانِهَا عَلَيْهِمْ أَلْقَوْهَا. قَالَ:" فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ اور ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قافلے میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک مردار بکری پر ہوا جس کی کھال اتار کر اسے پھینک دیا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس بکری کو اس کے مالک حقیر سمجھتے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حقیر سمجھ کر ہی تو اسے انہوں نے پھینک دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے جتنی حقیر یہ بکری اپنے مالک کی نظر میں ہے، دنیا اللہ کی نظروں میں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18021]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع
حدیث نمبر: 18022 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ ، الْمُسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: " تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ"، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: أَبْصِرْ مَا تَقُولُ. قَالَ: أَقُولُ لَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: لَئِن قُلْتَ ذَاكَ، إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالًا أَرْبَعًا: إِنَّهُمْ لَأَسْرَعُ النَّاسِ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ، وَإِنَّهُمْ لَخَيْرُ النَّاسِ لِمِسْكِينٍ وَفَقِيرٍ وَضَعِيفٍ، وَإِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ، وَالرَّابِعَةُ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ، وَإِنَّهُمْ لَأَمْنَعُ النَّاسِ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوكِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مستورد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا قیامت جب قائم ہوگی تو رومیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی؟ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھی طرح سوچ سمجھ کر کہو کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں نے فرمایا میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ کہہ رہے ہیں تو ایسا ہی ہوگا، ان لوگوں میں چار خصلتیں ہیں۔ (١) یہ لوگ بھاگنے کے بعد سب سے زیادہ تیزی سے پلٹ کر حملہ کرنے والے ہیں۔ (٢) یہ لوگ مسکین، فقیر اور کمزور کے حق میں سب سے بہترین ہیں۔ (٣) یہ لوگ آزمائش کے وقت سب سے زیادہ بردبار ہوتے ہیں۔ (٤) اور چوتھی خصلت سب سے عمدہ ہے کہ یہ لوگ بادشاہوں کے ظلم سے دوسروں کو بچاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18022]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2898
الحكم: إسناده صحيح، م: 2898
حدیث نمبر: 18023 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، الْمُسْتَوْرِدَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَشَدُّ النَّاسِ عَلَيْكُمْ الرُّومُ، وَإِنَّمَا هَلَكَتُهُمْ مَعَ السَّاعَةِ" . فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: أَلَمْ أَزْجُرْكَ عَنْ مِثْلِ هَذَا!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مستورد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، دوران گفتگو میں نے ان سے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم پر سب سے زیادہ سخت لوگ رومی ثابت ہوں گے، ان کی ہلاکت قرب قیامت میں ہی مکمل ہوگی، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں نے آپ کو ایسی باتیں کرنے سے منع نہیں کیا تھا؟ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18023]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ