بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيِّ نَزَلَ الرَّقَّةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 9
حدیث نمبر: 17999 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، أَبِي عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيِّ ، وَابِصَةَ بْنَ مَعْبَدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَابِصَةَ بْنَ مَعْبَدٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ، فَقَالَ:" جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ". فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ أَسْأَلُكَ عَنْ غَيْرِهِ. فَقَالَ: " الْبِرُّ: مَا انْشَرَحَ لَهُ صَدْرُكَ، وَالْإِثْمُ: مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ عَنْهُ النَّاسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھنے کے لئے حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میرے پاس نیکی اور گناہ کے متعلق ہی پوچھنے کے لئے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں آپ سے اس کے علاوہ کچھ پوچھنے کے لئے آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نیکی وہ ہوتی ہے جس پر تمہیں شرح صدر ہو اور گناہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اگرچہ لوگ تمہیں فتوی دیتے رہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17999]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو عبدالله السلمي مجهول، ولم يدرك وابصة، وإن كان أبو عبدالله: محمد بن سعيد الشامي فهو متهم بالوضع
الحكم: إسناده ضعيف، أبو عبدالله السلمي مجهول، ولم يدرك وابصة، وإن كان أبو عبدالله: محمد بن سعيد الشامي فهو متهم بالوضع
حدیث نمبر: 18000 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، هِلَالَ بْنَ يِسَافٍ ، عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ ، وَابِصَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يِسَافٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ وَابِصَةَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا صَلَّى وَحْدَهُ خَلْفَ الصَّفِّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ صَلَاتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ پچھلی صف میں اکیلا کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18000]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عمرو بن راشد مجهول الحال، وهلال بن يساف لقي وابصة، ولذلك تحمل رواية هلال عن وابصة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عمرو بن راشد مجهول الحال، وهلال بن يساف لقي وابصة، ولذلك تحمل رواية هلال عن وابصة
حدیث نمبر: 18001 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الزُّبَيْرِ أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ ، أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْرَزٍ ، وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْرَزٍ ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ لَا أَدَعَ شَيْئًا مِنَ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ، وَإِذَا عِنْدَهُ جَمْعٌ، فَذَهَبْتُ أَتَخَطَّى النَّاسَ، فَقَالُوا: إِلَيْكَ يَا وَابِصَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَيْكَ يَا وَابِصَةُ. فَقُلْتُ: أَنَا وَابِصَةُ، دَعُونِي أَدْنُو مِنْهُ، فَإِنَّهُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ. فَقَالَ لِي:" ادْنُ يَا وَابِصَةُ، ادْنُ يَا وَابِصَةُ". فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى مَسَّتْ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ، فَقَالَ:" يَا وَابِصَةُ، أُخْبِرُكَ مَا جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنْهُ، أَوْ تَسْأَلُنِي؟" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْبِرْنِي. قَالَ:" جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ". قُلْتُ: نَعَمْ. فَجَمَعَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِهَا فِي صَدْرِي، وَيَقُولُ:" يَا وَابِصَةُ اسْتَفْتِ نَفْسَكَ، الْبِرُّ: مَا اطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَاطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، وَالْإِثْمُ: مَا حَاكَ فِي الْقَلْبِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میرا ارادہ تھا کہ میں کوئی نیکی اور گناہ ایسا نہیں چھوڑوں گا جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نہ پوچھ لوں، جب میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بہت سے لوگ موجود تھے، میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھنے لگا، لوگ کہنے لگے وابصہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پیچھے ہٹو، میں نے کہا کہ میں وابصہ ہوں، مجھے ان کے قریب جانے دو، کیونکہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے قریب ہونا پسند ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی مجھ سے فرمایا وابصہ! قریب آجاؤ، چنانچہ میں اتنا قریب ہوا کہ میرا گھٹنا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھٹنے سے لگنے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وابصہ تم مجھ سے کیا پوچھنے کے لئے آئے ہو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ ہی بتائیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے نیکی اور نگاہ کے متعلق پوچھنے کے لئے آئے ہو، میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی تین انگلیاں اکٹھی کیں اور ان سے میرے سینے کو کریدتے ہوئے فرمایا وابصہ! اپنے نفس سے فتوی لیا کرو، نیکی وہ ہوتی ہے جس میں دل مطمئن ہوتا ہے اور نفس کو سکون ملتا ہے اور گناہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دل میں کھٹکتا ہے اور دل میں تردد رہتا ہے، اگرچہ لوگ تمہیں فتوی دیتے رہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18001]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدًا، الزبير أبو عبدالسلام كذاب، ولم يسمع من أيوب بن عبدالله
الحكم: إسناده ضعيف جدًا، الزبير أبو عبدالسلام كذاب، ولم يسمع من أيوب بن عبدالله
حدیث نمبر: 18002 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، حُصَيْنٍ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: أَقَامَنِي عَلَى وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، فقال: حَدَّثَنِي هَذَا أَنَّه صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ،" فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ صَلَاتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ پچھلی صف میں اکیلا کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18002]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18003 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ،" أَنَّ رَجُلًا صَلَّى خَلْفَ الصُّفُوفِ وَحْدَهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ پچھلی صف میں اکیلا کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18003]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات لأجل زياد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات لأجل زياد
حدیث نمبر: 18004 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ صَلَّى خَلْفَ الصُّفُوفِ وَحْدَهُ، فَقَالَ: " يُعِيدُ الصَّلَاةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ پچھلی صف میں اکیلا کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18004]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18005 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ ، وَابِصَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ وَابِصَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي فِي الصَّفِّ وَحْدَهُ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ پچھلی صف میں اکیلا کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18005]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن راشد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن راشد
حدیث نمبر: 18006 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الزُّبَيْرُ أَبُو عَبْدِ السَّلَامِ ، أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْرَزٍ ، وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا الزُّبَيْرُ أَبُو عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْرَزٍ ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُلَسَاؤُهُ وَقَدْ رَأَيْتُهُ، عَنْ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: عَفَّانُ حَدَّثَنِي غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَمْ يَقُلْ: حَدَّثَنِي جُلَسَاؤُهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ لَا أَدَعَ شَيْئًا مِنَ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ، وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَسْتَفْتُونَهُ، فَجَعَلْتُ أَتَخَطَّاهُمْ، فَقَالُوا: إِلَيْكَ يَا وَابِصَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قُلْتُ: دَعُونِي فَأَدْنُوَ مِنْهُ، فَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ. قَالَ:" دَعُوا وَابِصَةَ، ادْنُ يَا وَابِصَةُ". مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" يَا وَابِصَةُ أُخْبِرُكَ أَمْ تَسْأَلُنِي؟" قُلْتُ: لَا بَلْ أَخْبِرْنِي. فَقَالَ:" جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ". فَقَالَ: نَعَمْ. فَجَمَعَ أَنَامِلَهُ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِهِنَّ فِي صَدْرِي، وَيَقُولُ:" يَا وَابِصَةُ، اسْتَفْتِ قَلْبَكَ وَاسْتَفْتِ نَفْسَكَ". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ،" الْبِرُّ: مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، وَالْإِثْمُ: مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میرا ارادہ تھا کہ میں کوئی نیکی اور گناہ ایسا نہیں چھوڑوں گا جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نہ پوچھ لوں، جب میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بہت سے لوگ موجود تھے، میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھنے لگا، لوگ کہنے لگے وابصہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پیچھے ہٹو، میں نے کہا کہ میں وابصہ ہوں، مجھے ان کے قریب جانے دو، کیونکہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے قریب ہونا پسند ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی مجھ سے فرمایا وابصہ! قریب آجاؤ، چنانچہ میں اتنا قریب ہوا کہ میرا گھٹنا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھٹنے سے لگنے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وابصہ تم مجھ سے کیا پوچھنے کے لئے آئے ہو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ ہی بتائیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے نیکی اور نگاہ کے متعلق پوچھنے کے لئے آئے ہو، میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی تین انگلیاں اکٹھی کیں اور ان سے میرے سینے کو کریدتے ہوئے فرمایا وابصہ! اپنے نفس سے فتوی لیا کرو، نیکی وہ ہوتی ہے جس میں دل مطمئن ہوتا ہے اور نفس کو سکون ملتا ہے اور گناہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دل میں کھٹکتے ہے اور دل میں تردد رہتا ہے، اگرچہ لوگ تمہیں فتوی دیتے رہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18006]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً، الزبير أبو عبدالسلام كذاب، ولم يسمع من أيوب
الحكم: إسناده ضعيف جداً، الزبير أبو عبدالسلام كذاب، ولم يسمع من أيوب
حدیث نمبر: 18007 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حُصَيْنٍ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، قَالَ: أَرَانِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ شَيْخًا بِالْجَزِيرَةِ يُقَالُ لَهُ: وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ: فَأَقَامَنِي عَلَيْهِ، وَقَالَ: هَذَا حَدَّثَنِي" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا صَلَّى فِي الصَّفِّ وَحْدَهُ فَأَمَرَهُ فَأَعَادَ الصَّلَاةَ" . قَالَ عبد الله بن أحمد: وَكَانَ أَبِي يَقُولُ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ پچھلی صف میں اکیلا کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18007]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح