بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 23
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 17948 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، يَعْلَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَيْتَنِي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ. قَالَ: فَلَمَّا كَانَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، مِنْهُمْ عُمَرُ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مُتَضَمِّخًا بِطِيبٍ، قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ؟ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ سَكَتَ، فَجَاءَهُ الْوَحْيُ فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى أَنْ تَعَالَ، فَجَاءَ يَعْلَى، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغُطَّ كَذَلِكَ سَاعَةً، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا". فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ، فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ، مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا، ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
صفوان بن یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے کہ کاش! میں نبی صلی اللہ علیہ کو نزول وحی کی کیفیت میں دیکھ پاتا، ایک مرتبہ وہ جعرانہ میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک کپڑا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سایہ کیا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ تھے جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ اسی دوران ایک آدمی آیا جس نے ایک جبہ پہن رکھا تھا اور وہ خوشبو سے مہک رہا تھا، اس نے آکر پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس شخص کے بارے آپ کی کیا رائے ہے جس نے اچھی طرح خوشبو لگانے کے بعد ایک جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لمحے کے لئے سوچا پھر خاموش ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کو اشارہ سے بلایا، وہ آئے اور اپنا سر خیمے میں داخل کردیا، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا روئے انور سرخ ہو رہا ہے، کچھ دیر تک اسی طرح سانس کی آواز آتی رہی، پھر وہ کیفیت ختم ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ شخص کہاں گیا جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے متعلق پوچھا تھا؟ اس آدمی کو تلاش کر کے لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے جو خوشبو لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو اور اپنے عمرے کے ارکان اسی طرح ادا کرو، جس طرح حج کے ارکان ادا کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17948]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1536، م:1180
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1536، م:1180
حدیث نمبر: 17949 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا، فَعَضَّ يَدَهُ، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهُ، وَقَالَ: " فَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے مزدور (کرایہ دار) کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، اس نے اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر کاٹ لیا، اس نے جو اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس کا دانت ٹوٹ کر گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا دعوی باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا تو کیا وہ اپنے ہاتھ کو تمہارے منہ میں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے سانڈ کی طرح چباتے رہتے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17949]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2973، م:1674
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2973، م:1674
حدیث نمبر: 17950 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، عَطَاءٍ ، صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِي فَأَعْطِهِمْ أَوْ قَالَ: فَادْفَعْ إِلَيْهِمْ ثَلَاثِينَ دِرْعًا، وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ". فَقَالَ لَهُ: الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب میرے قاصد تمہارے پاس آئیں تو تم انہیں تیس زرہیں اور تیس اونٹ دے دینا (یا اس سے کم تعداد فرمائی)، انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہ عاریۃ ہیں جنہیں واپس لوٹا دیا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں!۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17950]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17951 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، بَعْضِ ، يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ بَعْضِ بَنِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، قَالَ يَعْلَى: وَكُنْتُ مِمَّا يَلِي البيتَ، فَلَمَّا بَلَغْتُ الرُّكْنَ الْغَرْبِيَّ الَّذِي يَلِي الْأَسْوَدَ، وَحَدَرْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ لِأَسْتَلِمَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قُلْتُ: أَلَا تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ؟ قَالَ: " أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَقُلْتُ: بَلَى. قَالَ:" أَرَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنين؟" يَعْنِي الْغَرْبِيَّيْنِ، قُلْتُ: لَا. قَالَ:" أَفَلَيْسَ لَكَ فِيهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟" قُلْتُ: بَلَى. قَالَ:" فَانْفُذْ عَنْكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، میں بیت اللہ کے قریب تھا، جب میں حجر اسود کے ساتھ مغربی کونے پر پہنچا اور استلام کرنے کے لئے اپنے ہاتھ کو اٹھایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا کیا آپ ان دونوں کونوں کا استلام نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ طواف نہیں کیا؟ میں نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان دونوں مغربی کونوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے فرمایا تو کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقے میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ نہیں ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ انہوں نے فرمایا تو پھر اسے ختم کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17951]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وجهالة بعض بني يعلى بن أمية لا تضر
الحكم: حديث صحيح، وجهالة بعض بني يعلى بن أمية لا تضر
حدیث نمبر: 17952 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، رَجُلٍ ، ابْنِ يَعْلَى ، يَعْلَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بِرِدَاءٍ حَضْرَمِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت موت کی چادر سے اضطباع کرتے ہوئے (حالت احرام میں دائیں کندھے سے کپڑا ہٹائے ہوئے) دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17952]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 17953 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ عَمَّيْهِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، مَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا، فَاقْتَتَلَ هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَعَضَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ بِذِرَاعِهِ، فَاجْتَبَذَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ، فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ، فَذَهَبَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ الْعَقْلَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ يَعَضُّهُ عَضِيضَ الْفَحْلِ، ثُمَّ يَأْتِي يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ؟! لَا دِيَةَ لَكَ". قَالَ: فَأَطَلَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَأَبْطَلَهَا ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، راستے میں میرے مزدور (کرایہ دار) کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، اس نے اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر کاٹ لیا، اس نے جو اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس کا دانت ٹوٹ کر گرگیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا دعوی باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا تو کیا وہ اپنے ہاتھ کو تمہارے منہ میں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے سانڈ کی طرح چباتے رہتے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17953]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2973، م: 1647، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 2973، م: 1647، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17954 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، ابْنِ يَعْلَى ، يَعْلَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ فِي الَّذِي يُعَضُّ أَحَدُهُمَا.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2973، م: 1674
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2973، م: 1674
حدیث نمبر: 17955 مسند احمد
عُمَرُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ أَبُو حَفْصٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، بَعْضِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ أَبُو حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ بَعْضِ بَنِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ بِبُرْدٍ لَهُ نَجْرَانِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نجران کی چادر سے صفا مروہ کے درمیان اضطباع کرتے ہوئے (حالت احرام میں دائیں کندھے سے کپڑا ہٹائے ہوئے) دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17955]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عمر بن هارون متروك الحديث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عمر بن هارون متروك الحديث
حدیث نمبر: 17956 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنِ يَعْلَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ مُضْطَبِعٌ بِبُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نجران کی چادر سے صفا مروہ کے درمیان اضطباع کرتے ہوئے (حالت احرام میں دائیں کندھے سے کپڑا ہٹائے ہوئے) دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17956]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، إسناد منقطع، ابن جريج لم يسمعه من ابن يعلى، وقد دلسه عنه
الحكم: حديث صحيح، إسناد منقطع، ابن جريج لم يسمعه من ابن يعلى، وقد دلسه عنه
حدیث نمبر: 17957 مسند احمد
الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، بَشِيرُ بْنُ طَلْحَةَ أَبُو نَصْرٍ الْحَضْرَمِيُّ أَوْ الْخُشَنِيُّ ، خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ ، يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ طَلْحَةَ أَبُو نَصْرٍ الْحَضْرَمِيُّ أَوْ الْخُشَنِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنِي فِي سَرَايَا، فَبَعَثَنِي ذَاتَ يَوْمٍ فِي سَرِيَّةٍ، وَكَانَ رَجُلٌ يَرْكَبُ بَغْلًا، فَقُلْتُ لَهُ: أَرْحِلْ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَعَثَنِي فِي سَرِيَّةٍ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِخَارِجٍ مَعَكَ. قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ: حَتَّى تَجْعَلَ لِي ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، قُلْتُ: الْآنَ حَيْثُ وَدَّعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَنَا بِرَاجِعٍ إِلَيْهِ، أَرْحِلْ وَلَكَ ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ. فَلَمَّا رَجَعْتُ مِنْ غَزَاتِي ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَيْسَ لَهُ مِنْ غَزَاتِهِ هَذِهِ، وَمِنْ دُنْيَاهُ، وَمِنْ آخِرَتِهِ، إِلَّا ثَلَاثَةُ الدَّنَانِيرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے سرایا میں بھیجتے رہتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایک سریہ پر روانہ فرمایا: ایک شخص میری سواری پر سوار ہوتا تھا، میں نے اسے ساتھ چلنے کے لئے کہا، اس نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا، میں نے پوچھا کیوں؟ تو اس نے کہا کہ پہلے مجھے تین دینار دینے کا وعدہ کرو، میں نے کہا کہ اب تو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رخصت ہو کر آگیا ہوں اس لئے اب ان کے پاس واپس نہیں جاسکتا، تم چلو، تمہیں تین دینار مل جائیں گے، جب میں جہاد سے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کے اس غزوے اور دنیا و آخرت میں تین دیناروں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17957]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، خالد بن دريك لم يسمع من يعلى ابن أمية، وما وقع تصريح بالسماع فإنه لا يصح
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، خالد بن دريك لم يسمع من يعلى ابن أمية، وما وقع تصريح بالسماع فإنه لا يصح
حدیث نمبر: 17958 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبَاهُ ، يَعْلَى
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي أُمَيَّةُ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ، فَقَدْ انْقَطَعَتْ الْهِجْرَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں اور میرے والد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے والد سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں، کیونکہ ہجرت کی فرضیت ختم ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17958]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عمرو بن عبدالرحمن وأبوه مجهولان
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عمرو بن عبدالرحمن وأبوه مجهولان
حدیث نمبر: 17959 مسند احمد
أَبُو عَاصِمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ حُيَيِّ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبِيهِ ، يَعْلَى
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُيَيِّ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ يَعْلَى يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَوْ قِيلَ لَهُ: أَنْتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ؟ قَالَ يَعْلَى : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ" . قَالَ لَهُ يَعْلَى: فَأَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَنْتَ فِي أَمْرِ اللَّهِ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَطْلُعَ وَأَنْتَ لَاهٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حیی بن یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کو طلوع آفتاب سے قبل نفلی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، ایک آدمی نے یہ دیکھ کر کہا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہو کر طلوع آفتاب سے پہلے نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اس دوران اگر تم کسی عبادت میں مصروف ہو، یہ اس سے بہتر ہے کہ سورج طلوع ہو اور تم غافل ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17959]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، محمد بن حيي وأبوه مجهولان. وقد صح عن النبى صلى الله عليه و آله وسلم قوله: لا تتحروا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها، فإنها تطلع بين قرني شيطان
الحكم: إسناده ضعيف، محمد بن حيي وأبوه مجهولان. وقد صح عن النبى صلى الله عليه وسلم قوله: لا تتحروا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها، فإنها تطلع بين قرني شيطان
حدیث نمبر: 17960 مسند احمد
أَبُو عَاصِمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُمَيَّةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ حُيَيٍّ ، صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُمَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُيَيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَحْرُ هُوَ جَهَنَّمُ" . قَالُوا لِيَعْلَى:، فَقَالَ: أَلَا تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا سورة الكهف آية 29 قَالَ: لَا، وَالَّذِي نَفْسُ يَعْلَى بِيَدِهِ، لَا أَدْخُلُهَا أَبَدًا حَتَّى أُعْرَضَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يُصِيبُنِي مِنْهَا قَطْرَةٌ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سمندر جہنم ہے لوگوں نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں پڑھا، نارا احاط بہم سرادقہا، پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں یعلی کی جان ہے، میں اس میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گا، جب تک اللہ کے سامنے پیش نہ ہوجاؤ اور اس کا ایک قطرہ بھی مجھے نہیں چھو سکتا جب تک میں اللہ سے ملاقات نہ کرلوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17960]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، محمد بن حيي مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، محمد بن حيي مجهول
حدیث نمبر: 17961 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَطَاءٍ ، صَفْوَانَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقْرَأُ:" وَنَادَوْا يَا مَالِكُ سورة الزخرف آية 77" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو منبر پر یہ آیت تلاوت فرماتے ہوئے سنا، " وَنَادَوْا يَا مَالِكُ "۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17961]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3230، م: 871
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3230، م: 871
حدیث نمبر: 17962 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبَاهُ ، يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ ابْنِ أَخِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ ، قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ، وَقَدْ انْقَطَعَتْ الْهِجْرَةُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں اور میرے والد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے والد سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں، کیونکہ ہجرت کی فرضیت ختم ہوگئی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17962]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عمرو ابن عبدالرحمن وأبوه مجهولان
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عمرو ابن عبدالرحمن وأبوه مجهولان
حدیث نمبر: 17963 مسند احمد
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، فُلَيْحٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، بِإِسْنَادٍ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عمرو بن عبدالرحمن وأبوه مجهولان
الحكم: إسناده ضعيف، عمرو بن عبدالرحمن وأبوه مجهولان
حدیث نمبر: 17964 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٌ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، وَعَلَيْهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ فِيمَا تَرَى، وَالنَّاسُ يَسْخَرُونَ مِنِّي، وَأَطْرَقَ هُنَيْهَةً، قَالَ: ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ: " اخْلَعْ عَنْكَ هَذِهِ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ عَنْكَ هَذَا الزَّعْفَرَانَ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آدمی آیا جس نے ایک جبہ پہن رکھا تھا اور وہ خوشبو سے مہک رہا تھا، اس نے آکر پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ میں نے کس طرح احرام باندھا ہوا ہے اور لوگ میرا مذاق اڑا رہے ہیں، اس شخص کے بارے آپ کی کیا رائے ہے جس نے اچھی طرح خوشبو لگانے کے بعد ایک جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لمحے کے لئے سوچا پھر خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے جو خوشبو لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو اور اپنے عمرے کے ارکان اسی طرح ادا کرو، جس طرح حج کے ارکان ادا کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17964]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1536، م: 1180، وروي عن عطاء، عن صفوان، عن أبيه يعلى، أي: بواسطة صفوان
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1536، م: 1180، وروي عن عطاء، عن صفوان، عن أبيه يعلى، أي: بواسطة صفوان
حدیث نمبر: 17965 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، عَطَاءٍ ، صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوقٍ، وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، قَالَ: " انْزِعْ هَذِهِ وَاغْتَسِلْ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا جس نے ایک جبہ پہن رکھا تھا اور وہ خوشبو سے مہک رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے جو خوشبو لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو اور اپنے عمرے کے ارکان اسی طرح ادا کرو، جس طرح حج کے ارکان ادا کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17965]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1536، م: 1180
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1536، م: 1180
حدیث نمبر: 17966 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، وَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، وَكَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَانْتَزَعَ أُصْبُعَهُ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ: " أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا؟!" قَالَ أَحْسَبُهُ:" كَمَا يَقْضِمُ الْفَحْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ شریک تھا، میرے نزدیک یہ انتہائی مضبوط عمل ہے، راستے میں میرے مزدور (کرایہ دار) کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، اس نے اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر کاٹ لیا، اس نے جو اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس کا دانت ٹوٹ کر گرگیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا دعوی باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا تو کیا وہ اپنے ہاتھ کو تمہارے منہ میں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے سانڈ کی طرح چباتے رہتے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17966]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2265، م: 1674
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2265، م: 1674
حدیث نمبر: 17967 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عُمَرَ فِي سَفَرٍ، وَأَنَّهُ طَلَبَ إِلَى عُمَرَ أَنْ يُرِيَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نُزِّلَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَعَلَيْهِ سِتْرٌ، مَسْتُورٌ مِنَ الشَّمْسِ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ، وَعَلَيْهَا رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ، وَإِنَّ النَّاسَ يَسْخَرُونَ مِنِّي، فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْمَأَ إِلَيَّ عُمَرُ بِيَدِهِ، فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُمْ فِي السِّتْرِ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرٌّ وَجْنَتَاهُ، لَهُ غَطِيطٌ، سَاعَةً، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَجَلَسَ فَقَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟" فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ:" انْزِعْ جُبَّتَكَ هَذِهِ عَنْكَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ إِذَا أَحْرَمْتَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
صفوان بن یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے کہ کاش! میں نبی صلی اللہ علیہ کو نزول وحی کی کیفیت میں دیکھ پاتا، ایک مرتبہ وہ جعرانہ میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک کپڑا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سایہ کیا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ تھے جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ اسی دوران ایک آدمی آیا جس نے ایک جبہ پہن رکھا تا اور وہ خوشبو سے مہک رہا تھا، اس نے آکر پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس شخص کے بارے آپ کی کیا رائے ہے جس نے اچھی طرح خوشبو لگانے کے بعد ایک جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لمحے کے لئے سوچا پھر خاموش ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کو اشارہ سے بلایا، وہ آئے اور اپنا سر خیمے میں داخل کردیا، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا روئے انور سرخ ہو رہا ہے، کچھ دیر تک اسی طرح سانس کی آواز آتی رہی، پھر وہ کیفیت ختم ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ شخص کہاں گیا جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے متعلق پوچھا تھا؟ اس آدمی کو تلاش کر کے لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے جو خوشبو لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو اور اپنے عمرے کے ارکان اسی طرح ادا کرو، جس طرح حج کے ارکان ادا کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17967]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1536، م: 1180
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1536، م: 1180