بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 17921 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا، وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ، فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُلْتُمْ؟" قَالُوا: دَعَوْنَا لَهُ اللَّهُمَّ أَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ؟ وَأَيْنَ صَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ؟ وَأَيْنَ عَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ؟" شَكَّ فِي الصَّلَاةِ وَالْعَمَلِ شُعْبَةُ فِي أَحَدِهِمَا الَّذِي بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات فرمائی، ان میں سے ایک تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں پہلے شہید ہوگیا اور کچھ عرصے بعد دوسرا طبعی طور پر فوت ہوگیا، لوگ اس کے لئے دعاء کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا دعاء کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے ہیں اے اللہ! اس کی بخشش فرما، اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی کی رفاقت عطاء فرما، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر شہید ہونے والے کے بعد اس کی پڑھی جانے والی نمازیں کہاں گئیں؟ جو روزے اس نے بعد میں رکھے یا جو بھی اعمال کئے، وہ کہاں جائیں گے؟ ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17921]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17922 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ ، عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17923 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، ابْنُ مُرَّةَ ، عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا، وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ، فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُلْتُمْ؟" قَالُوا: دَعَوْنَا لَهُ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ، وَأَنْ يَرْحَمَهُ، وَأَنْ يُلْحِقَهُ بِصَاحِبِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ، وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ، أَوْ صِيَامُهُ بَعْدَ صِيَامِهِ؟" قَالَ:" إِنَّ مَا بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات فرمائی، ان میں سے ایک تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں پہلے شہید ہوگیا اور کچھ عرصے بعد دوسرا طبعی طور پر فوت ہوگیا، لوگ اس کے لئے دعاء کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا دعاء کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے ہیں اے اللہ! اس کی بخشش فرما، اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی کی رفاقت عطاء فرما، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر شہید ہونے والے کے بعد اس کی پڑھی جانے والی نمازیں کہاں گئیں؟ جو روزے اس نے بعد میں رکھے یا جو بھی اعمال کئے، وہ کہاں جائیں گے؟ ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17923]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17924 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٌ ، تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ" . وَحَدَّثَ بِهِ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبید بن خالد رضی اللہ عنہ جو کہ صحابی تھے سے مروی ہے کہ ناگہانی موت افسوسناک موت ہے۔ گزشتہ حدیث مرفوعاً بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17924]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17925 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي مَوْتِ الْفَجْأَةِ: " أَخْذَةُ أَسَفٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبید بن خالد رضی اللہ عنہ جو کہ صحابی تھے سے مروی ہے کہ ناگنہانی موت افسوسناک موت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17925]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد روي هنا موقوفا
الحكم: حديث صحيح، وقد روي هنا موقوفا