مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا، وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ، فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُلْتُمْ؟" قَالُوا: دَعَوْنَا لَهُ اللَّهُمَّ أَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ؟ وَأَيْنَ صَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ؟ وَأَيْنَ عَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ؟" شَكَّ فِي الصَّلَاةِ وَالْعَمَلِ شُعْبَةُ فِي أَحَدِهِمَا الَّذِي بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات فرمائی، ان میں سے ایک تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں پہلے شہید ہوگیا اور کچھ عرصے بعد دوسرا طبعی طور پر فوت ہوگیا، لوگ اس کے لئے دعاء کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا دعاء کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے ہیں اے اللہ! اس کی بخشش فرما، اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی کی رفاقت عطاء فرما، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر شہید ہونے والے کے بعد اس کی پڑھی جانے والی نمازیں کہاں گئیں؟ جو روزے اس نے بعد میں رکھے یا جو بھی اعمال کئے، وہ کہاں جائیں گے؟ ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17921]
الحكم: إسناده صحيح