بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَقِيَّةُ حَدِيثِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 7
حدیث نمبر: 17790 مسند احمد
هَارُونُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَبَا عُشَّانَةَ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: لَا أَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا مِنْ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف نسب کر کے کوئی ایسی بات نہیں کہوں گا جو انہوں نے نہ کہی ہو، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے، وہ اپنے لئے جہنم میں ٹھکانہ بنا لے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17790]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17791 مسند احمد
وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي، يَقُومُ أَحَدُهُمَا مِن اللَّيْلَ يُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقَدٌ فَيَتَوَضَّأُ، فَإِذَا وَضَّأَ يَدَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلَّذِينَ وَرَاءَ الْحِجَابِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ يَسْأَلُنِي، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي، فَهُوَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے دو آدمی ہیں، جن میں سے ایک شخص رات کے وقت بیدار ہو کر اپنے آپ کو وضو کے لئے تیار کرتا ہے، اس وقت اس پر کچھ گرہیں لگی ہوتی ہیں، چنانچہ وہ وضو کرتا ہے، جب وہ ہاتھ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، چہرہ دھوتا ہے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے، سر کا مسح کرتا ہے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے اور جب پاؤں دھوتا ہے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو نظر نہیں آتے کہ میرے اس بندے کو دیکھو جس نے اپنے نفس کے ساتھ مقابلہ کیا، میرا یہ بندہ مجھ سے جو مانگے گا، وہ اسے ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17791]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17792 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، اللَّيْثُ ، حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ ہر نماز کے بعد معوذات (جن سورتوں میں قل اعوذ کا لفظ آتا ہے) پڑھا کروں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17792]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17793 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، مُطَرِّفٌ ، عِكْرِمَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْيِهَا، لِتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میری ہمشیرہ نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری ہمشیرہ کے اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرنے سے اللہ غنی ہے، وہ سوار ہوجائے اور قربانی کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17793]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 17794 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، نُعَيْمُ بْنُ هَمَّارٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ هَمَّارٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَالَ رَبُّكُمْ: أَتَعْجَزُ يَا ابْنَ آدَمَ أَنْ تُصَلِّيَ أَوَّلَ النَّهَارِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، أَكْفِكَ بِهِنَّ آخِرَ يَوْمِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدمی! دن کے پہلے حصے میں تو چار رکعت پڑھ کر میری کفایت کر، میں ان کی برکت سے دن کے آخر تک تیری کفایت کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17794]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 17795 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ ، أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ: صَحِبَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ فِي سَفَرٍ، فَجَعَلَ لَا يَؤُمُّنَا، قَالَ: فَقُلْنَا: لَهُ رَحِمَكَ اللَّهُ، أَلَا تَؤُمُّنَا وَأَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ، وَأَتَمَّ الصَّلَاةَ، فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنْ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ، فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو علی ہمدانی رحمہ اللہ وسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سفر پر روانہ ہوا، ہمارے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر ہوں، آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہیں، لہذا آپ ہماری امامت کیجئے، انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص لوگوں کی امامت کرے، بروقت اور مکمل نماز پڑھائے تو اسے بھی ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی اور جو شخص اس میں کوتاہی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، مقتدیوں پر نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17795]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الضعف على بن عاصم
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الضعف على بن عاصم
حدیث نمبر: 17796 مسند احمد
الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ ، الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ: كَتَبَ إِلَيَّ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ ، وَكَانَ فِي كِتَابِهِ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُجْهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْمُجْهِرِ بِالصَّدَقَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور آہستہ آواز سے قرآن پڑھنے والا خفیہ طور پر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17796]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي