يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْأَعْمَشِ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، الْمَعْنَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ وَكِيعٌ: الْجُهَنِيُّ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ، فَنَزَلْنَا بِأَرْضٍ كَثِيرَةِ الضِّبَابِ، فَاتَّخَذْنَا مِنْهَا، فَطَبَخْنَا فِي قُدُورِنَا، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أُمَّةٌ فُقِدَتْ أَوْ مُسِخَتْ، شَكَّ يَحْيَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ" فَأَمَرَنَا فَأَكْفَأْنَا الْقُدُورَ . قَالَ وَكِيعٌ:" مُسِخَتْ، فَأَخْشَى أَنْ تَكُونَ هَذِهِ" فَأَكْفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم نے ایسے علاقے میں پڑاؤ کیا جہاں گوہ کی بڑی کثرت تھی، ہم نے انہیں پکڑا اور ذبح کیا، پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت مفقود ہوگئی تھی، (مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ وہی نہ ہو) لہذا تم ہانڈیاں الٹا دو، چنانچہ ہم نے انہیں الٹا دیا حالانکہ اس وقت ہمیں بھوک لگی ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17759]
الحكم: إسناده صحيح