بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 17757 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الضِّبَابِ، قَالَ: فَأَصَبْنَا مِنْهَا وَذَبَحْنَا، قَالَ: فَبَيْنَا الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فُقِدَتْ، وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ هِيَ، فَأَكْفِئُوهَا" فَأَكْفَأْنَاهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم نے ایسے علاقے میں پڑاؤ کیا جہاں گوہ کی بڑی کثرت تھی، ہم نے انہیں پکڑا اور ذبح کیا، ابھی وہ ہانڈیوں میں پک رہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت مفقود ہوگئی تھی، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ وہی نہ ہو، لہذا تم ہانڈیاں الٹا دو، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے انہیں الٹا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17757]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17758 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كَهَيْئَةِ الدَّرَقَةِ، قَالَ: فَوَضَعَهَا، ثُمَّ جَلَسَ، فَبَالَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: انْظُرُوا إِلَيْهِ، يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ! قَالَ: فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " وَيْحَكَ أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمْ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ، قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ، فَنَهَاهُمْ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک میں چمڑے کی ڈھال جیسی کوئی چیز تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے آڑ کے طور پر اپنے سامنے رکھا اور بیٹھ کر پیشاب کرنے لگے، کسی نے کہا کہ دیکھو تو سہی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کر رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات سن لی، فرمایا ہائے افسوس! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ بنی اسرائیل کے جسم پر اگر پیشاب وغیرہ لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچی سے کاٹ دیتے تھے، ایک آدمی نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو اسے عذاب قبر میں مبتلا کردیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17758]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17759 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْأَعْمَشِ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، الْمَعْنَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ وَكِيعٌ: الْجُهَنِيُّ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ، فَنَزَلْنَا بِأَرْضٍ كَثِيرَةِ الضِّبَابِ، فَاتَّخَذْنَا مِنْهَا، فَطَبَخْنَا فِي قُدُورِنَا، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أُمَّةٌ فُقِدَتْ أَوْ مُسِخَتْ، شَكَّ يَحْيَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ" فَأَمَرَنَا فَأَكْفَأْنَا الْقُدُورَ . قَالَ وَكِيعٌ:" مُسِخَتْ، فَأَخْشَى أَنْ تَكُونَ هَذِهِ" فَأَكْفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم نے ایسے علاقے میں پڑاؤ کیا جہاں گوہ کی بڑی کثرت تھی، ہم نے انہیں پکڑا اور ذبح کیا، پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت مفقود ہوگئی تھی، (مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ وہی نہ ہو) لہذا تم ہانڈیاں الٹا دو، چنانچہ ہم نے انہیں الٹا دیا حالانکہ اس وقت ہمیں بھوک لگی ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17759]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17760 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسَيْنِ، قَالَ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ دَرَقَةٌ أَوْ شِبْهُهَا، فَاسْتَتَرَ بِهَا، فَبَالَ جَالِسًا. قَالَ: فَقُلْنَا: أَيَبُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ؟! قَالَ: فَجَاءَنَا، فَقَالَ: " أَوَمَا عَلِمْتُمْ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا أَصَابَهُ الشَّيْءُ مِنَ الْبَوْلِ، قَرَضَهُ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک میں چمڑے کی ڈھال جیسی کوئی چیز تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے آڑ کے طور پر اپنے سامنے رکھا اور بیٹھ کر پیشاب کرنے لگے، کسی نے کہا کہ دیکھو تو سہی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کر رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات سن لی، فرمایا ہائے افسوس! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ بنی اسرائیل کے جسم پر اگر پیشاب وغیرہ لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچی سے کاٹ دیتے تھے، ایک آدمی نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو اسے عذاب قبر میں مبتلا کردیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17760]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح