وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسَيْنِ، قَالَ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ دَرَقَةٌ أَوْ شِبْهُهَا، فَاسْتَتَرَ بِهَا، فَبَالَ جَالِسًا. قَالَ: فَقُلْنَا: أَيَبُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ؟! قَالَ: فَجَاءَنَا، فَقَالَ: " أَوَمَا عَلِمْتُمْ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا أَصَابَهُ الشَّيْءُ مِنَ الْبَوْلِ، قَرَضَهُ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک میں چمڑے کی ڈھال جیسی کوئی چیز تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے آڑ کے طور پر اپنے سامنے رکھا اور بیٹھ کر پیشاب کرنے لگے، کسی نے کہا کہ دیکھو تو سہی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کر رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات سن لی، فرمایا ہائے افسوس! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ بنی اسرائیل کے جسم پر اگر پیشاب وغیرہ لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچی سے کاٹ دیتے تھے، ایک آدمی نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو اسے عذاب قبر میں مبتلا کردیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17760]
الحكم: إسناده صحيح