بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث بسرِ بنِ اَرطَاةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 17626 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، شِيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ ، جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، بُسْرَ بْنَ أَرْطَأَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ شِيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِرُودِسَ حِينَ جَلَدَ الرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ سَرَقَا غَنَائِمَ النَّاسِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ قَطْعِهِمَا إِلَّا أَنَّ بُسْرَ بْنَ أَرْطَأَةَ وَجَدَ رَجُلًا سَرَقَ فِي الْغَزْوِ يُقَالُ لَهُ: مَصْدَرٌ، فَجَلَدَهُ وَلَمْ يَقْطَعْ يَدَهُ، وَقَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَطْعِ فِي الْغَزْوِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جنادہ بن ابی میہ رحمہ اللہ نے روڈس نامی جزیرے میں مال غنیمت چوری کرنے والے دو آدمیوں کو کوڑے مارنے کے بعد برسر منبر کہا کہ مجھے ان کے ہاتھ کاٹنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی، البتہ ایک مرتبہ حضرت بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ نے کسی غزوے میں ایک آدمی کو جس کا نام مصدر تھا چوری کرتے ہوئے پایا تو اسے کوڑے مارے، ہاتھ نہیں کاٹے اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں جہاد کے دوران ہاتھ کاٹنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17626]
حکم دارالسلام
رجاله موثقون، ابن لهيعة سيئ الحفظ، قد رواه عنه قتيبة بن سعيد، وروايته عن ابن لهيعة مقبولة ، ثم هو متابع، لكن قد اختلف فى صحبة بسر بن أرطاة
الحكم: رجاله موثقون، ابن لهيعة سيئ الحفظ، قد رواه عنه قتيبة بن سعيد، وروايته عن ابن لهيعة مقبولة ، ثم هو متابع، لكن قد اختلف فى صحبة بسر بن أرطاة
حدیث نمبر: 17627 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، شِيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ ، جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، بُسْرِ بْنِ أَرْطَأَةَ
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ شِيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ بُسْرِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، فَأُتِيَ بِمَصْدَرٍ قَدْ سَرَقَ بُخْتِيَّةً، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَانَا عَنِ الْقَطْعِ فِي الْغَزْوِ" لَقَطَعْتُكَ. فَجُلِدَ، ثُمَّ خُلِّيَ سَبِيلُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جنادہ بن ابی میہ رحمہ اللہ نے روڈس نامی جزیرے میں مال غنیمت چوری کرنے والے دو آدمیوں کو کوڑے مارنے کے بعد برسر منبر کہا کہ مجھے ان کے ہاتھ کاٹنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی، البتہ ایک مرتبہ حضرت بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ نے کسی غزوے میں ایک آدمی کو جس کا نام مصدر تھا چوری کرتے ہوئے پایا تو اسے کوڑے مارے، ہاتھ نہیں کاٹے اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں جہاد کے دوران ہاتھ کاٹنے سے منع فرمایا ہے اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو میں تمہارا ہاتھ کاٹ دیتا، پھر اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17627]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات لكن اختلف فى صحبة بسر
الحكم: رجاله ثقات لكن اختلف فى صحبة بسر
حدیث نمبر: 17628 مسند احمد
هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، أَبِي ، بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ الْقُرَشِيِّ
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو اللَّهُمَّ: " أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ" ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَيْثَمٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے اے اللہ! تمام معاملات میں ہمارا انجام بخیر فرما اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17628]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات غيرأيوب بن ميسره ، و بسر بن أرطاة مختلف فى صحبته
الحكم: رجاله ثقات غيرأيوب بن ميسره ، و بسر بن أرطاة مختلف فى صحبته