عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، شِيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ ، جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، بُسْرِ بْنِ أَرْطَأَةَ
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ شِيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ بُسْرِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، فَأُتِيَ بِمَصْدَرٍ قَدْ سَرَقَ بُخْتِيَّةً، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَانَا عَنِ الْقَطْعِ فِي الْغَزْوِ" لَقَطَعْتُكَ. فَجُلِدَ، ثُمَّ خُلِّيَ سَبِيلُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جنادہ بن ابی میہ رحمہ اللہ نے روڈس نامی جزیرے میں مال غنیمت چوری کرنے والے دو آدمیوں کو کوڑے مارنے کے بعد برسر منبر کہا کہ مجھے ان کے ہاتھ کاٹنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی، البتہ ایک مرتبہ حضرت بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ نے کسی غزوے میں ایک آدمی کو جس کا نام مصدر تھا چوری کرتے ہوئے پایا تو اسے کوڑے مارے، ہاتھ نہیں کاٹے اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں جہاد کے دوران ہاتھ کاٹنے سے منع فرمایا ہے اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو میں تمہارا ہاتھ کاٹ دیتا، پھر اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17627]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات لكن اختلف فى صحبة بسر
الحكم: رجاله ثقات لكن اختلف فى صحبة بسر