حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، عُمَيْرًا ، أَبُو جُهَيْمٍ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ أَبُو جُهَيْمٍ : " أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمیر جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن یسار جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے حضرت ابو جہیم بن حارث رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیر جمل کی طرف سے آ رہے تھے کہ راستے میں ایک آدمی سے ملاقات ہوگئی، اس نے سلام کیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب نہیں دیا، بلکہ ایک دیوار کی طرف متوجہ ہوئے اور چہرے اور ہاتھوں پر اس سے تیمم کیا اور پھر اسے سلام کا جواب دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17541]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع