أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو جُهَيْمٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، أَخْبَرَنِي بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جُهَيْمٍ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ هَذَا: تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْآخَرُ: تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَسَأَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " الْقُرْآنُ يُقْرَأُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَلَا تُمَارُوا فِي الْقُرْآنِ، فَإِنَّ مِرَاءً فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو جہیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قرآن کریم کی ایک آیت کے حوالے سے دو آدمیوں کے درمیان اختلاف ہوگیا، ایک کی رائے یہ تھی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح پڑھا ہے اور دوسرے کا بھی یہی کہنا تھا کہ میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح حاصل کیا ہے، بالآخر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح پڑھا ہے اور دوسرے کا بھی یہی کہنا تھا کہ میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح حاصل کیا ہے، بالآخر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم کو سات حرفوں پر پڑھا جاسکتا ہے اس لئے تم قرآن کریم میں مت جھگڑا کرو کیونکہ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17542]
الحكم: إسناده صحيح